بی ایم سی نے ۲؍ہزار ۲۷۵؍ اساتذہ کو اسکول کے ساتھ الیکشن کےکام کرنےکی ذمہ داری دی ہے۔
EPAPER
Updated: April 11, 2026, 12:28 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
بی ایم سی نے ۲؍ہزار ۲۷۵؍ اساتذہ کو اسکول کے ساتھ الیکشن کےکام کرنےکی ذمہ داری دی ہے۔
بی ایم سی نے ۲؍ہزار ۲۷۵؍ اساتذہ کی اسکول کی ذمہ داری کے ساتھ انتخابی کاموں کیلئے بطور بی ایل او تقرری کی ہے ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ طلبہ کا تعلیمی نقصان نہیں ہونا چاہئے جبکہ الیکشن آفس والے ان سے جزوقتی نہیں بلکہ کل وقتی کام کرنے کیلئے کہہ رہے ہیں ۔ ایسے میں امتحانات کے دوران ان ٹیچروں کیلئے بڑی مشکل ہو رہی ہے اگر وہ دن بھر بی ایل او کی ڈیوٹی کریں گے تو اسکول کی ذمہ داری کیسے نبھائیں گے؟اساتذہ دوہری ذمہ داری اور ہدایت سے پریشان ہیں ۔
بی ایم سی نے انتخابی کاموں کیلئے پرائمری، سیکنڈری اور پرائیویٹ ایڈیڈ اسکولوں کے ۲؍ہزار ۲۷۵؍ اساتذہ کو بی ایل اوز کی حیثیت سےمقرر کیا ہے۔ اس تعلق سے بی ایم سی نے جو حکم نامہ جاری کیاہے اس میں ان بی ایل اوز کو انتخابی کام کے ساتھ اسکول کا کام کرنے کی بھی ذمہ داری سونپی ہے اور طلبہ کا تعلیمی نقصان نہ ہو اس کا بھی خیال رکھنے کیلئے کہا ہے۔ اسی مناسبت سے ہدایات دی گئی ہیں کہ صبح کے سیشن میں اساتذہ انتخابی کام دوپہر میں کریں اور دوپہر کے سیشن میں اساتذہ صبح انتخابی کام کریں مگر محکمہ الیکشن ان سے جزوقتی کے بجائے کل وقتی کام کرنے کیلئے کہہ رہا ہے جس سے اساتذہ پریشان ہیں ۔ اسی مناسبت سے ان ٹیچروں نے بدھ کو ضلع کلکٹر کے سامنے اپنا مسئلہ رکھا۔
یہ بھی پڑھئے: ادھو کے اراکین پارلیمان شندے کے رابطےمیں؟
ضلع کلکٹر کے دفتر سے ان ساتذہ کو اسمبلی حلقہ کے انتخابی دفتر جانے کو کہا گیا جہاں ان کا اسکول واقع ہے لیکن جب وہ وہاں گئے تو متعلقہ اہلکاروں نے انہیں خبردار کیا کہ انہیں کل وقتی کام کرنا پڑے گا۔ ان سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ ایک تحریری بیان دیں کہ وہ رضاکارانہ طور پر کل وقتی کام کرنے کیلئے آمادہ ہیں ۔ ایسی صورت میں اساتذہ یہ سوال اُٹھا رہے ہیں کہ اگر الیکشن ڈپارٹمنٹ میں کل وقتی کام کریں گے تو طلبہ کا امتحان کیسے لیا جائے گا اور نتائج کا اعلان کیسے ہوگا ؟ اس کا جواب نہ ملنے سے اساتذہ کے سامنے یہ سوال کھڑا ہوگیا ہے کہ کیا کیا جائے ؟
مہانگر پالیکا شکشک سبھا کے خزانچی عابد شیخ نے انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ ٹیچروں کیلئے ملازمت سزا بن گئی ہے۔ تدریسی ذمہ داری کے ساتھ عین سالانہ امتحانات کے موقع پر انتخابی کاموں کے علاوہ مردم شماری کی ڈیوٹی دی جا رہی ہے۔ امتحان کے ساتھ ان کاموں کی ذمہ داری ایک ٹیچر کیسے نبھا سکتا ہے؟ ایک طرف امتحان اور رزلٹ کی تیاری جیسے اہم کام ہیں دوسری جانب ایس آئی آر کےکام کیلئے الیکشن ڈپارٹمنٹ کل وقتی کام پر ٹیچروں کو مامور کر رہا ہے۔ بی ایل او کے کام سے انکار کرنے پر ٹیچروں کو ایف آئی آر کرنے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ اسکولی کاموں کی وجہ سے ہیڈ ماسٹر بھی ٹیچروں کو بی ایل اوکی ڈیوٹی کیلئے ریلیز نہیں کر رہے ہیں ۔ ایسے میں ٹیچروں کیلئے ایک طرف کنواں اور دوسری طرف کھائی ہے۔ ‘‘
اس سلسلے میں ممبئی میونسپل کارپوریشن ٹیچرزاسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری راجندر موہتے کاکہنا ہے کہ’’ بعض اسکولوں میں ۱۵؍ اساتذہ میں سے ۱۲؍ کو انتخابی کام کیلئے مقرر کیا گیا ہے۔ اگریہ اساتذہ بی ایل او کی کل وقتی ڈیوٹی کریں گے تو امتحانات کیسے ہوں گے؟اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ‘‘