ڈجیٹل فراڈ اور غلط ٹرانزیکشن کو روکنے کیلئے آربی آئی کی اہم تجویز، معمر افراد کیلئے اضافی حفاظتی اقدامات، ’ کِل سو ِچ‘ بھی متعارف ہوگا۔
EPAPER
Updated: April 11, 2026, 12:38 PM IST | Mumbai
ڈجیٹل فراڈ اور غلط ٹرانزیکشن کو روکنے کیلئے آربی آئی کی اہم تجویز، معمر افراد کیلئے اضافی حفاظتی اقدامات، ’ کِل سو ِچ‘ بھی متعارف ہوگا۔
آن لائن فراڈ اور غلطی سے ہوجانے والے ٹرانزیکشن کو روکنےکیلئے آر بی آئی نے ۱۰؍ ہزار روپے سے زیادہ کے لین دین میں ایک گھنٹے کا’’توقف‘‘ متعارف کرانے کی تجویز پیش کی ہے۔ یعنی جلد ہی ایسا ہو سکتا ہے کہ آپ کا۱۰؍ ہزار روپے یا اس سے زیادہ کا آن لائن ٹرانزیکشن فوری نہ ہو۔ اس میں ایک گھنٹے کی تاخیر ہو سکتی ہے۔ اس سے صارفین کو غلط ٹرانزیکشن کو روکنے یا منسوخ کرنے کا موقع ملے گا۔ ملک میں بڑھتے ہوئے ڈجیٹل فراڈ کے پس منظر میں آر بی آئی کی اس تجویز کو اہم سمجھا جارہا ہے۔ مرکزی بینک کا ماننا ہے کہ دھوکہ باز اکثر نفسیاتی دباؤ ڈال کر جلد بازی میں پیسے ٹرانسفر کروا لیتے ہیں، اس لئے ایک گھنٹے کی یہ تاخیر اس دباؤ کو کم کرکے سوچنے سمجھنے کا موقع فراہم کریگی۔ فی الحال زیادہ تر ڈجیٹل ٹرانزیکشن فوراً ہو جاتے ہیں اور صارف کو سوچنے یا غلطی کی اصلاح کا موقع نہیں ملتا۔
معمر شہریوں کیلئے اضافی سیکوریٹی
۷۰؍سال سے زیادہ عمر کے بزرگوں اور معذور افراد کیلئے سیکوریٹی مزید سخت کی جائے گی۔ ۵۰؍ ہزار روپے سے زیادہ کے لین دین (ٹرانزیکشن) کیلئے ایک’’قابل اعتماد شخص ‘‘ کی منظوری کو ضروری کیا جاسکتاہے۔ یہ فراڈ کے خلاف سیکوریٹی کی ایک اضافی تہہ کے طور پر کام کرے گا۔ اس رکاوٹ کی وجہ سے عام صارفین کو ہونے والی ممکنہ پریشانیوں کوملحوظ رکھتے ہوئے ’’وہائٹ لسٹ‘‘کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ اس لسٹ میں ان افراد یاتاجروں کو رکھا جاسکتاہے جنہیں صارف پہلے سے جانتا ہے اور پیسے بھیجتا رہتا ہے۔ جن لوگوں کو وہائٹ لسٹ میں شامل کرلیا جائےگا وہ ادائیگی میں ایک گھنٹے کی تاخیر سے مستثنیٰ ہوں گے اور اس طرح روزمرہ کے لین دین میں پریشانی نہیں ہوگی۔
ڈجیٹل ادائیگی بند کرنے کیلئے ’’کل سوئچ‘‘
ریزرو بینک کی تجاویز میں ’’کِل سوئچ‘‘ کی تجویز بھی شامل ہے۔ اگر کسی صارف کو لگتا ہے کہ اس کا اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے یا اس سے کوئی غلط ٹرانزیکشن ہو گیا ہے تو وہ ایک کلک سے اپنی تمام ڈجیٹل ادائیگی کی خدمات کو فوری طور پر بند کر سکے گا۔
اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
پچھلے سال ملک میں ڈجیٹل فراڈ ۲۲؍ ہزار کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ حالانکہ۱۰؍ہزار روپے سے زیادہ کے ٹرانزیکشن فراڈ کے تمام معاملات کا صرف ۴۵؍فیصد ہیں لیکن جتنے کا مجموعی فراڈ ہوا ہے اس میں ۱۰؍ ہزار سے زائد ٹرانزیکشن کا حصہ ۹۸ء۵؍ فیصد ہے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے۱۰؍ ہزار روپے کی حد مقرر کی گئی ہے۔
تجویز کب تک نافذ ہو سکتی ہے؟
ریزرو بینک آف انڈیا فی الحال بینکوں اور نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا(این پی سی آئی) کے ساتھ مل ان تجاویز کے تکنیکی پہلوؤں پر بات چیت کر رہا ہے۔ اس میں سب سے بڑی چیلنج یہ ہے کہ ڈجیٹل ادائیگی کی رفتار اور سیکوریٹی کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔ امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے چند مہینوں میں اس کے تعلق سے تفصیلی رہنما اصول جاری کئے جا سکتے ہیں اور مرحلہ وار اسے نافذ کیا جائے گا۔