للتا پوار کو ایک فلم میں بہترین اداکاری پر پانچ تولہ سونا انعام ملا تھا

Updated: July 12, 2020, 10:34 AM IST | Anees Amrohi

وہ اکثر کہتی تھیں کہ ’’میرا سب سے بڑا ایوارڈ تو میرے پرستار اور مداح ہیں، جو برابر مجھے خطوط لکھتے اور میری اداکاری پر کھل کر تبصرہ کرتے۔ اکثرا نہیں شکایت بھی ہوتی کہ فلاں فلم میں آپ کاپرفارمنس تو بہت اچھا تھا، پھر آپ کو ایوارڈ کیوں نہیں ملا؟ جب بھی ایسا ہوتا تو مجھے محسوس ہوتا کہ اب مجھے سب کچھ مل گیا ہے‘‘

Lalita Pawar and Gutu Datt
ایک فلم کے کسی سنجیدہ منظرمیں للتا پوار اور گرودت

للتا پوار نے دوسری اننگز میں پوری لگن کے ساتھ اپنے کام کی طرف دھیان دینا شروع کر دیا۔ ساری  باتوں سے بیگانگی کا یہ عالم تھا کہ وہ نہ تو زیادہ لوگوں سے ملتی جلتی تھیں، نہ ہی پارٹیاں دیتی تھیں، نہ پارٹیوں میں جاتی تھیں......اور للتاپوار کو ان کی اس لگن اور محنت کا صلہ بھی ملا۔ ’گرہستی‘ میں بہترین اداکاری پر انہیں ایوارڈ سے نوازا گیا۔پانچ تولہ خالص سونا۔ راج کپور کی فلم ’اناڑی‘ میں مسز ڈیساؔ کے رول پر بھی انہیں کئی ایوارڈ ملے۔
 فلم ’اناڑی‘کی وہ عیسائی عورت ہیرو (راج کپور) کو ڈھونڈتی اور اُس کے مل جانے پر کہتی ہے ’’تم اِدھر میں بیٹھا، ہم اکھّا بمبئی میں ڈھونڈا۔‘‘ بولنے والی مسز ڈیسا کا جملوں کو توڑ توڑ کر ادا کرنے کا وہ انوکھا اور مشکل انداز للتا پوار نے رشی کیش مکرجی سے سیکھا تھا۔ ایک لانگ شاٹ میں وہ ایک پیر کو تھوڑا گھسیٹ کر بالکل انہیں کی طرح چلتی ہیں۔ اس بات کو للتا پوار بھی مانتی ہیں کہ وہ رشی کیش مکرجی کی بہت بڑی فین ہیں۔ فلم ’اناڑی‘ کا یہ کردار دوسرے کرداروں سے بالکل مختلف تھا اور اس میں اداکاری کرنے کے بہت سے مواقع حاصل تھے۔ اس فلم کے لئے ان کو ایوارڈ بھی ملا۔ جب وہ ایوارڈ لینے اسٹیج پر گئیں تو کسی نے کہا کہ ’’للتا بائی، تم نے تو وہ بائونڈری ماری ہے کہ ایوارڈ دینا ہی پڑا۔‘‘ یہ بات ان کو بھلا کیسے اچھی لگتی مگر اس بات کی شکایت انہوںنے ایوارڈ کمیٹی سے نہیں کی۔ وہ اکثرکہتی تھیں کہ ’’میرا سب سے بڑا ایوارڈ تو میرے پرستار  ہیں، جو برابر مجھے خطوط لکھتے  اور میری اداکاری پر تبصرہ کرتے۔ اکثر اُنہیں شکایت بھی ہوتی کہ فلاں فلم میں آپ کا پرفارمنس تو بہت اچھا تھا، پھر آپ کو ایوارڈ کیوں نہیں ملا، جب بھی ایسا ہوتا تو مجھے محسوس ہوتا کہ مجھے سب کچھ مل گیا ہے۔‘‘
 فلم ’پروفیسر‘ کی بوڑھی عورت، جو رہن سہن میں پوری احتیاط اور شائستگی برتتی ہے مگر ایک  بوڑھے پروفیسر کے آنے سے آہستہ آہستہ اس کے بلائوز کی آستینیں چھوٹی ہوتی جاتی ہیں۔ میک اَپ کی طرف توجہ ہونے لگتی ہے۔ رنگ روپ کی طرف دھیان اچانک ہی جانے لگتا ہے۔ اس فلم میں پوری کامیڈی کا انحصار انہیں پر ہے مگر اس دودھاری تلوار پر چلنا آسان نہیں تھا، کیونکہ ظاہر بھی کرنا تھا کہ وہ کامیڈی کر رہی ہیں۔ بہت ہی نازک کردار تھا یہ، مگر اُسے اُتنی ہی خوبصورتی کے ساتھ انہوںنے نبھایا تھا۔ کار میں بیٹھ کر ’’پریم نگر بسائوںگی‘‘ گانے والی للتا پوار فلم بینوں کو آج تک یاد ہیں۔
 وی شانتارام کی فلم ’جہیز‘ کی خطرناک ساس اور’جنگلی‘ میں خاندان کی عزت کیلئے پتھر کی چٹان بنی بوڑھی بیوہ اور شمی کپور کی ماں فلم ’من کی آنکھیں‘ کی لالچی ساس کے کرداروں میں للتا پوار نے ایک جیسے کردار ہوتے ہوئے بھی الگ الگ انداز اور احساسات کے ساتھ یہ کردار ادا کئے تھے۔
 للتا پوار ہندوستانی فلموں میں ساس کا کردار اتنی مرتبہ کر چکی تھیں کہ ایک وقت ان کو یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ جیسے وہ ایک ہی فلم میں کام کر رہی ہوں۔
 اگرچہ للتا پوار زیادہ تر منفی کردار (نگیٹیو رول) ادا کیا کرتی تھیں، اس کے باوجود فلم میں اُن کے رول زیادہ اہم اور جاندار ہوتے تھے۔ فلم بینوں کو آج بھی ان کی فلمیں ’داغ، پتیتا، جہیز، پرچھائیں، من کی آنکھیں، میم صاحب، بہورانی اور گھرانہ‘ وغیرہ  یاد ہیں۔ شوٹنگ کے وقت  پہلی ہی کوشش میں اُن کی اداکاری فن کی اعلیٰ معراج کو چھو لیتی ہے۔ چاہے وہ ریہرسل ہی کیوں نہ ہو۔  اداکاری کرتے وقت وہ کیمرہ کو، کیمرہ کے زاویے کو، لائٹس کو، آس پاس کھڑے لوگوں کو، غرض یہ کہ اس وقت وہ سب کچھ بھول جاتی تھیں۔ یہاں تک کہ اگراُن کی پشت کیمرہ کی طرف بھی ہو، تو بھی وہ اداکاری میں فرق نہیں آنے دیتی تھیں۔ ڈبنگ کرتے وقت للتا پوار ایک بار پھر جسمانی طور پر ایکٹنگ کرتی تھیں کیونکہ اعضا کی حرکات وسکنات کے ساتھ ہی آواز اور لب ولہجہ میں اتار چڑھائو آتا ہے۔
 للتا پوار نے وی شانتارام، راج کپور اور امیہ چکرورتی جیسے اعلیٰ ہدایتکاروں کے ساتھ متعدد بار کام کیا ہے اور ایسے بھی بہت سے ہیں (یہ اشارہ صرف ہدایتکاروں کی طرف نہیں ہے) جنہوں  نے ایک بار للتا پوار کے ساتھ کام کر کے کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ کر لی کہ دوبارہ ان کا نام نہیں لیںگے۔ اگر للتا پوار کے مزاج کا کوئی کردار نہ ہوا تو ہدایتکاروں کی یہی کوشش رہی کہ انہیں نہ لیاجائے۔ شاید وہ یہ سمجھتے تھے کہ کہیں للتا پوار بازی نہ مار لے جائیں۔ وی شانتارام کو وہ بہت اعلیٰ درجہ کا ہدایتکار مانتی تھیں۔ اُن کا ماننا تھا کہ اگر آپ کی اداکاری پچیس پیسے کی ہے تو وہی اداکاری وی شانتارام کی فلم میں ایک روپے کی بن جاتی ہے۔ راج کپور کے ساتھ للتا پوار نے پانچ فلمیں کی ہیں۔ 
 رامانند ساگر کے ساتھ للتا پوار نے بہت سی فلمیں کی تھیں، جن میں ’آنکھیں، پریم بندھن اور من کی آنکھیں‘ خاص طور سے مشہور ہیں۔ اس لئے ’رامائن‘ کی پلاننگ کے وقت رامانندساگر نے شروع ہی سے للتا پوار کو ذہن میں رکھا اور منتھرا کے کردار کے لئے انہیں منتخب کیا۔’رامائن‘ میں راج محل کی دوسری ملازمائوں کے مقابلے میں منتھرا کے کپڑے بڑے بیکار سے لگتے تھے۔ مہارانی کیکئی کی معتمد ملازمہ  کے بجائے للتا پوار اُس لباس میں بالکل دھوبن سی لگ رہی تھیں۔ سیریل میں اگر ان کی اداکاری کو پسند کیا گیا ہے تو اس کا تمام تر کریڈٹ ہدایتکار رامانند ساگر کو دیا جاتا ہے۔ جہاں کاسٹیوم اور لباس سے کریکٹر کے مطابق اُن کی پہچان نہیں ہوتی تھی۔ اسی طرح للتا پوار کی اداکاری میں بھی وہ تاثر نہیں تھا جو ہونا چاہئے۔ رول میں پوری طرح رچ بس جانے کے لئے مناسب میک اَپ اور گیٹ اَپ بھی نہایت ضروری ہے۔
 لوگوں نے ’رامائن‘ میں للتا پوار کے پرفارمنس کو بہت پسند کیا تھا۔ اُس وقت للتا پوار کے پاس اُن کے مداحوں کے ڈھیروں تعریفی خطوط آتے تھے۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ انہیں اُن کا لباس پسند آیا جبکہ دوسروں کو اُن کے چلنے کا اندازاچھا لگا۔ سیریل ’رامائن‘ کی شوٹنگ کے دوران للتا پوار ایک کار حادثے کا شکار ہو گئی تھیں۔ ٹانگوں پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں، لہٰذا چلنا دشوار تھا۔ اُن کو سیٹ تک سہارا دے کر لے جانا پڑتا تھا۔ خوش قسمتی سے انہیں رول کے مطابق لنگڑا کر ہی چلنا تھا۔ اس لئے کار حادثہ نے اُن کا کام آسان کر دیا تھا۔
 للتا پوار ایک عرصہ تک ایک شاندار چودہ کمروں والے عظیم الشان فلیٹ میں زندگی بسر کرتی رہیں۔ بعد میں انہوںنے دادر میں واقع اُس شاندار مکان کو چھوڑکر جوہو میں رہائش اختیار کر لی تھی، جہاں وہ اپنے شوہر راج کمار گپتا کے ساتھ، جو بلیرڈ کے ماہر کھلاڑی تھے، اطمینان کی پُرسکون زندگی گزار رہی تھیں۔ بدقسمتی سے للتا پوار کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ کام میں بے انتہا مصروف رہنے کی وجہ سے انہوںنے فیصلہ کر لیا تھا کہ انہیں کوئی اولاد نہیں ہونا چاہئے۔ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ان کے بچے نوکروں کی نگرانی میں پرورش پائیں اور ایک ’آیا‘ ان کی ادھار کی ماں کہلائے۔
 ۸۲؍برس کی عمر میں ۲۵؍فروری ۱۹۹۸ء کو للتا پوار کا ممبئی میں انتقال ہو گیا۔ اُن کی آخری فلم ۱۹۹۷ء میں ریلیز ہوئی تھی جس کا نام ’بھائی‘ تھا

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK