نیو یارک کے نئے اور اولین مسلم میئر ظہران ممدانی نے عمر خالد کو خط لکھا ، جو دہلی تشدد کی سازش معاملے میں یو اے پی اے کے الزامات کے تحت تہاڑ جیل میں بند ہیں۔
EPAPER
Updated: January 01, 2026, 10:15 PM IST | New York
نیو یارک کے نئے اور اولین مسلم میئر ظہران ممدانی نے عمر خالد کو خط لکھا ، جو دہلی تشدد کی سازش معاملے میں یو اے پی اے کے الزامات کے تحت تہاڑ جیل میں بند ہیں۔
نیو یارک کے میئر ظہران ممدانی نے انسانی حقوق کے کارکن عمر خالد کو ایک خط لکھا ہے، جو دہلی تشدد کی سازش کے معاملے میں یو اے پی اے کے الزامات میں تہاڑ جیل میں بند ہیں۔یہ خط عمر کے دوستوں نے شیئر کیا، جس دن ممدانی نے نیو یارک کے میئر کے طور پر حلف اٹھایا ، جوتاریخ میں پہلے مسلمان میئر اور کئی نسلوں میں سب سے کم عمر ہیں۔“ظہران نے لکھا،’’پیارے عمر، میں اکثر آپ کے تلخی کے بارے میں کہے گئے الفاظ ، اور یہ کہ اسے خود پر حاوی نہ ہونے دینے کی اہمیت کو یاد کرتا ہوں۔ آپ کے والدین سے مل کر خوشی ہوئی،‘‘ اورخط کا اختتام یہ کہہ کر کیا کہ ’’ہم سب آپ کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: نیویارک سٹی: پہلے مسلمان میئر ظہران ممدانی نے قرآن مجید پر حلف لیا
واضح رہے کہ عمر خالداور ایک درجن سے زائد انسانی حقوق کے کارکن، جن میں طلبہ کارکن اور مسلم لیڈربھی شامل ہیں، جو۲۰۲۰ء کے دہلی تشدد کی مبینہ سازش سے متعلق معاملے کا سامنا کر رہے ہیں۔ وہ تقریباً چھ سال قبل گرفتار ہوئے تھے، لیکن ابھی تک مقدمے کا سامنا نہیں کر سکے۔بعد ازاں ۲۰۲۳ء میں، نیو یارک سٹی میئر کے انتخاب میں فتح سے دو سال پہلے، ممدانی نے نیو یارک میں ’’ہاؤڈی، ڈیموکریسی؟‘‘نامی ایک تقریب میں خالد کی تحریروں کو پڑھا تھا۔ یہ تقریر وزیر اعظم مودی کے۲۰۲۳ء میں نیو یارک کے دورے سے پہلے کی گئی تھی، اس وقت ممدانی نیو یارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن تھے۔
@ZohranKMamdani Writes to @UmarKhalidJNU #ZohranMamdani #NewYork #UmarKhalid pic.twitter.com/lHNOwbkNOQ
— Shadab A Khan 🇮🇳 (@ShadabJourno) January 1, 2026
ممدانی نے سامعین کو بتایا، ’’میں عمر خالد کا خط پڑھنے جا رہا ہوں، جو دہلی میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق طالب علم کارکن اور اسکالر ہیں، جنہوں نے لنچنگ اور نفرت کے خلاف مہم چلائی۔ وہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ کے تحت۱۰۰۰؍ دن سے زائد جیل میں ہیں اور ابھی تک مقدمے کا سامنا نہیں کر سکے، حالانکہ ان کی ضمانت کی درخواستیں بار بار مسترد ہوئیں۔ ان پر قاتلانہ حملہ بھی ہوا ہے۔