• Fri, 02 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہم نے اسرائیل کیلئے مسئلہ نہیں پیدا کیا، وہ اپنے مسائل ہمارے پاس نہ لائے:صومالیہ

Updated: January 01, 2026, 10:02 PM IST | Mogadishu

صومالیہ کے صدر نے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے کبھی اسرائیل کیلئے مسئلہ پیدا نہیں کیا، ہم نہیں چاہتے کہ وہ اپنے مسائل لے کر ہمارے پاس آئے، اگر اس نے صومالی علاقے میں پراکسی علاقے کے ذریعے کسی ملک پر حملہ کیا تو اس کےخلاف بھی حملہ کیا جائے گا۔

Recep Tayyip Erdogan and Somali President Hassan Sheikh Mohamud. Photo: X
رجب طیب اردگان اور صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود۔ تصویر: ایکس

صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود نے کہا ہے کہ ان کا ملک نہیں چاہتا کہ اسرائیل صومالی لینڈ میں اپنی موجودگی قائم کرے، انہوں نے خبردار کیا تل ابیب کے علاحدگی پسند علاقے کو تسلیم کرنے سے خطے میں تنازعات پھیلنے کا خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے کبھی اسرائیل پر حملہ نہیں کیا۔ ہم نے کبھی اسرائیل کے لیے مسئلہ پیدا نہیں کیا۔ ہم نہیں چاہتے کہ اسرائیل ہمارے پاس اپنے مسائل لے کر آئے۔‘‘ محمود نے ترکی کے قومی نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے اسرائیل کے اس اقدام کو ’’بہت افسوسناک صورتحال‘‘ قرار دیا اور بین الاقوامی قانون کا احترام کرنے کی اپیل کی۔محمود نے غزہ اور مشرق وسطیٰ میں تنازعے کی طویل تاریخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے حالیہ اقدامات بین الاقوامی قانون کے مطابق یا موزوں نہیں ہیں۔یہ بہت افسوسناک ہے کہ اب وہ (تنازع) صومالیہ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان ایران پر دوبارہ حملے کیلئے تبادلۂ خیال: رپورٹ

محمود نے کہا کہ ’’موغادیشو نے اقوام متحدہ، افریقی یونین، انٹر گورنمنٹل اتھارٹی آن ڈویلپمنٹ، ایسٹ افریقن کمیونٹی، عرب لیگ، اور تنظیم تعاون اسلامی سمیت بین الاقوامی برادری سے رابطہ کیا، جنہوں نے اجتماعی طور پر صومالیہ کے ساتھ کھڑے ہو کر خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی حمایت کا برملا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ صومالیہ کے شمالی علاقوں کو طویل عرصے سے علاحدگی پسندچیلنجوں کا سامنا ہے، لیکن حکومت نے ہمیشہ اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ صومالی حکومت نے کبھی بھی ان لوگوں کے خلاف زور یا جنگ، یا یہاں تک کہ سفارتی طاقت استعمال کرنے کی کوشش نہیں کی۔محمود نے کہا کہ ترکی نے صومالی لینڈاور صومالیہ کے درمیان ثالثی کرنے کی کوشش کی ہےانہوں نے مزید کہا کہ ترکی کی یہ روایت ہے کہ وہ ہمیشہ ان لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے جن کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہو۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کے ذریعے’’انروا‘‘ کو نشانہ بنانے پراقوام متحدہ کے سربراہ کی سخت تنقید

محمود نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے کے باوجود صومالیہ کو بین الاقوامی برادری کی حمایت حاصل ہے۔صومالی رہنما نے کہا کہ یہ مسئلہ اسرائیل کے مشرق وسطیٰ میں حالیہ اقدامات کے پیش نظر انتہائی اہم ہے، نہ صرف فلسطین پر بلکہ شام اور لبنان میں بھی، جس نے بحیرہ احمر، خلیج عدن اور ہارن آف افریقہ میں اس کی شمولیت کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں، جسے انہوں نے انتہائی غیر مستحکم خطہ قرار دیا، جہاں صومالیہ پہلے ہی داعش اور الشباب سے لڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی موجودگی صومالیہ کے بعض حصوں اور خلیج عدن اور خلیج عرب کے آس پاس کے ہمسایہ ممالک میں تنازعے کے دوبارہ شروع ہونے کا سبب بن سکتی ہے، انہوں نے نوٹ کیا کہ یمن کے حوثیوں اور ایران کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں۔ محمود نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے دوسرے لوگوں کے مفادات پر حملہ کرنے کے لیے ایک پراکسی علاقہ بنایا، تو وہ  لوگ بھی صومالی لینڈ اور صومالیہ میں جوابی حملہ کریں گے، جو بہت اچھا تجربہ ثابت نہیں ہو گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ  صومالی لینڈمیں فوجی اڈہ قائم کرنا اور فلسطینیوں کو جبراً منتقل کرنا تنازعے میں اضافہ کرے گا، ایک ایسا اقدام جسے صومالی حکومت اور عوام نے قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یواین میں صومالی لینڈ پر بحث، امریکہ نے اسرائیل کی حمایت کی، عالمی برادری نے دونوں ممالک کی مذمت کی

اس سے قبل، محمود نے قطری خبروں کے نیٹ ورک الجزیرہ کو بتایا تھا کہ انٹیلی جنس رپورٹس کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ صومالی لینڈنے اسرائیل کی طرف سے تسلیم کیے جانے کے بدلے میں فلسطینیوں کو دوبارہ آباد کرنے، اسرائیلی فوجی اڈے کی میزبانی کرنے، اور ابراہیم معاہدوں میں شامل ہونے پر اتفاق کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ترکی کی ابتدائی سرمایہ کاری نے صومالی مارکیٹ کو غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کے لیے کھول دیا ہے، خاص طور پر تیل اور گیس میں، اور صومالیہ تیل پیدا کرنے والا ملک بننے کے لیے تیار ہے۔یہ ترکی کے لیے اپنی ٹیکنالوجی سے تیل پیدا کرنے کا بھی بڑا وقت ہوگا، نہ کہ کہیں اور سے کرائے پر لی گئی ٹیکنالوجی سے۔‘‘محمود نے کہا کہ یہ شراکت اقتصادی اور سفارتی طور پر دونوں ممالک کو فائدہ پہنچائے گی، جو ترکی کو ایک ایسے شعبے میں پہل کرنے والے کا فائدہ دے گی جس میں طویل مدتی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ۔واضح رہے کہ ترکی نے ایک خلائی پورٹ کے لیے ضروری فزیبلٹی اور ڈیزائن کا کام بھی مکمل کر لیا ہے جو صومالیہ میں قائم کیا جائے گا اور جس کی تعمیر کا پہلا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK