• Wed, 07 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غلط معاشی پالیسیوں کے باعث پھل پیدا کرنے والوں کی روزی روٹی خطرے میں

Updated: January 04, 2026, 8:06 PM IST | Lucknow

سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے مرکزی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی غلط اقتصادی پالیسیوں کے باعث ملک کے پھل پیدا کرنے والے کسانوں کی روزی روٹی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

Akhilesh Yadav.Photo:INN
اکھلیش یادو۔آئی این این

سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے مرکزی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی غلط اقتصادی پالیسیوں کے باعث ملک کے پھل پیدا کرنے والے کسانوں کی روزی روٹی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
یادو نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں الزام لگایا کہ موجودہ حکومت کے دور میں کسانوں کی سخت محنت کا پھل غیر ملکی کمپنیوں کی جیب میں جا رہا ہے۔ انہوں نے بی جے پی کوتاجروں اورمڈل مین کی جماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹی پیداوار اور صنعتی ترقی کے بجائے کمیشن خوری کو ترجیح دیتی ہے۔
اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ نے تشویش کا اظہار کیا کہ بین الاقوامی کاروباری گروہ تیزی سے ملک کے اندرونی پھلوں کی پیداوار اور تجارت کے شعبے پر قبضہ کرتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے حالیہ رجحانات اور اشتہارات کو ہندوستانی باغبانی صنعت کے لیے تباہی کا پیغام قرار دیا اور کہا کہ بی جے پی کے دورِ حکومت میں کسانوں اور باغبانی سے وابستہ افراد کو دھوکہ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ’’اب پھل کا پھل بھی غیر ملکی کمپنیاں لے جائیں گی۔اکھلیش یادو نے کہا کہ یہ کوئی اچانک معاشی ترقی نہیں بلکہ اقتدار میں بیٹھی پارٹی کی سوچ کی عکاسی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:فلم ’’دُھرندھر‘‘ کے گیت ’’شرارت‘‘ نے ۱۰۰؍ ملین ویوز کو عبور کر لیا، عائشہ خان مسرور

انہوں نے کہاکہ ’’اصل میں بی جے پی کی سوچ تاجروں والی ہے۔ وہ نہ پیداوار کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی صنعت کاری۔ یہ وہ لوگ نہیں جو محنت کر کے کماتے ہیں بلکہ درمیان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ اس نے معیشت کو مڈل مینوں کے کھیل کا میدان بنا دیا ہے اور حکومت کی توجہ مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور بنیادی صنعتوں کو سہارا دینے کے بجائے کمیشن جمع کرنے پر مرکوز ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:افریقن کپ آف نیشنز: ۱۷؍ سالہ نوجوان اسٹار ابراہیم مبائے کا دھماکہ خیز داخلہ

ان کے مطابق یہی مڈل مین کلچر ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے دوہرے بحران کی بنیادی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مڈل مینوں کی مداخلت کے باعث آخری صارف کے لیے قیمتیں مصنوعی طور پر بڑھ جاتی ہیں، جبکہ گھریلو پیداوار پر توجہ نہ ہونے کا مطلب نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع میں کمی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب ملک میں کام ہی نہیں ہوگا تو لوگوں کو روزگار کہاں سے ملے گا؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK