Inquilab Logo Happiest Places to Work

مادھوری دکشت نے ’’کلنک‘‘ کی ناکامی پر خاموشی توڑی

Updated: June 02, 2026, 10:01 PM IST | Mumbai

۲۰۱۹ء میں ریلیز ہونے والی ملٹی اسٹارر فلم ’’کلنک‘‘ کی ناکامی پر ایک بار پھر بحث شروع ہوگئی ہے۔ ورون دھون کے یہ اعتراف کرنے کے بعد کہ فلم کی ناکامی نے انہیں ’’ہلا کر رکھ دیا تھا‘‘، اب مادھوری دکشت نے بھی اس بارے میں کھل کر بات کی ہے۔ اداکارہ کا کہنا ہے کہ فلم ساز اور اداکار اپنی پوری محنت کرتے ہیں، لیکن کسی فلم کی کامیابی یا ناکامی ہمیشہ ان کے کنٹرول میں نہیں ہوتی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

۲۰۱۹ء میں ریلیز ہونے والی بڑے بجٹ کی فلم ’’کلنک‘‘ بالی ووڈ کی ان فلموں میں شمار ہوتی ہے جن سے بے حد توقعات وابستہ تھیں، لیکن ریلیز کے بعد یہ باکس آفس پر خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکی۔ اب فلم کی ناکامی پر ایک بار پھر گفتگو شروع ہو گئی ہے، جب اداکار ورون دھون اور ان کے والد، معروف ہدایت کار ڈیوڈ دھون نے اس کے اثرات پر بات کی، اور بعد ازاں مادھوری دکشت نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اسکرین کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں مادھوری دکشت، جنہوں نے فلم میں بہار بیگم کا کردار ادا کیا تھا، نے کہا کہ فلم کی کامیابی یا ناکامی مکمل طور پر کسی ایک فرد کے اختیار میں نہیں ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ ’’آپ اپنی پوری کوشش کرتے ہیں اور فلم ناظرین کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد جو ہونا ہوتا ہے، وہ ہوتا ہے۔ آپ ہر چیز کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔‘‘ اداکارہ نے مزید کہا کہ ایک فلم کی کارکردگی پر کئی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں، اس لیے صرف اداکاری یا محنت کو اس کا پیمانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ ان کے مطابق، ’’میں نے اپنی پوری کوشش کی تھی، اور مجھے یقین ہے کہ بہت سے لوگوں نے فلم دیکھی بھی ہے۔ کبھی نہ کبھی لوگ اس کام کی قدر ضرور کرتے ہیں۔‘‘ چند ہفتے قبل پی وی آر آئی ناکس کے ڈیوڈ دھون فلم فیسٹیول میں ورون دھون نے بھی ’’کلنک‘‘ کی ناکامی کو اپنے کریئر کے سب سے مشکل لمحات میں سے ایک قرار دیا تھا۔ ورون نے کہا کہ ’’یہ میری پہلی بڑی فلاپ فلم تھی اور اس نے مجھے بہت بری طرح متاثر کیا۔ اس سے پہلے کامیابیوں کا ایک سلسلہ چل رہا تھا، اس لیے میں سمجھ ہی نہیں سکا کہ اتنی محنت کے باوجود فلم کیوں نہیں چلی۔ یہ شاید سب سے مشکل فلم تھی جس پر ہم نے بطور ٹیم کام کیا تھا۔‘‘
اسی تقریب میں ڈیوڈ دھون نے بھی فلم کی ناکامی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس منصوبے سے خاص طور پر افسوس ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ بہت بڑی فلم تھی۔ مجھے لگتا ہے کہ کرن جوہر نے اس منصوبے کے لیے اپنی آخری قمیض تک لگا دی ہوگی۔ مجھے اس کی ناکامی پر واقعی مایوسی ہوئی تھی۔‘‘ ڈیوڈ دھون نے مزاحیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ انہوں نے سنجے دت سے پوچھا تھا کہ آیا انہوں نے فلم صرف اس لیے قبول کی تھی کیونکہ اس میں مادھوری دکشت موجود تھیں۔
فلم کے پروڈیوسر کرن جوہر نے بھی ۲۰۱۹ء میں ’’کلنک‘‘ کی ناکامی کی مکمل ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس وقت ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ بطور پروڈیوسر وہ فلم کے اصل خیال اور جذبات سے حد سے زیادہ وابستہ ہو گئے تھے، جس کا اثر فیصلوں پر پڑا۔ کرن جوہر نے اعتراف کیا تھا کہ ’’اگر فلم کامیاب نہیں ہوئی تو اس کی ذمہ داری میری بھی ہے۔ میں کلنک میں ناکام رہا کیونکہ میں وہ رہنمائی فراہم نہیں کر سکا جو اس منصوبے کو درکار تھی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا تھا کہ اگرچہ فلم کی ناکامی تکلیف دہ تھی، لیکن اس تجربے نے انہیں بہت کچھ سکھایا اور بطور فلم ساز مزید بہتر فیصلے کرنے میں مدد دی۔
یاد رہے کہ ’’کلنک‘‘ کا تصور دراصل کرن جوہر اور ان کے والد یش جوہر نے ۲۰۰۴ء میں تیار کیا تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس فلم کے لیے کبھی شاہ رخ خان، رانی مکھرجی، کاجول اور اجے دیوگن کے نام زیر غور تھے۔ تاہم یش جوہر کے انتقال کے بعد یہ منصوبہ مؤخر ہو گیا۔ بعد ازاں ۲۰۱۸ء میں فلم کو دوبارہ شروع کیا گیا اور ہدایت کاری کی ذمہ داری ابھیشیک ورمن کے سپرد کی گئی۔ فلم میں ورون دھون، عالیہ بھٹ، آدتیہ رائے کپور، سوناکشی سنہا، کیارا اڈوانی اور کنال کھیمو سمیت کئی بڑے ستارے شامل تھے۔ اگرچہ ’’کلنک‘‘ تجارتی طور پر کامیاب ثابت نہ ہو سکی، لیکن اس کی موسیقی، سیٹ ڈیزائن، ملبوسات اور بصری معیار کو آج بھی سراہا جاتا ہے۔ فلم کی ناکامی پر حالیہ بیانات نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ بڑے بجٹ، بڑی کاسٹ اور وسیع پیمانے پر تشہیر کے باوجود کسی فلم کی کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK