Inquilab Logo Happiest Places to Work

مجھے کہا جاتا تھا اسے کچھ کھلاؤ: مادھوری دکشت نے’ باڈی شیمنگ‘ پر اپنا قصہ سنایا

Updated: June 15, 2026, 8:59 PM IST | Mumbai

مادھوری دکشت نے اپنی نئی فلم ’’ماں بہن ‘‘کی کامیابی کے دوران فلم انڈسٹری اور معاشرے میں خواتین کو درپیش تنقید اور باڈی شیمنگ کے تجربات پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ خود سے محبت اور اپنے کام پر توجہ ہی ایسے منفی تبصروں کا بہترین جواب ہے۔

Madhuri Dixit. Photo: INN
مادھوری دکشت۔ تصویر: آئی این این

مادھوری دکشت اپنی نئی ریلیز’’ماں بہن‘‘ کی کامیابی، محبت اور پذیرائی سے بے حد خوش ہیں، جو اب نیٹ فلکس پر نشر ہو رہی ہے۔ یہ فلم ایک مزاحیہ (پلپ کامیڈی) فلم ہے جسے اس کے مزاح کے ساتھ اس میں موجود گہری سماجی تنقید کیلئے بھی سراہا جا رہا ہے۔ فلم اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ خواتین کو صرف اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے پر کس طرح تنقید اور بے جا فیصلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور کس طرح انہیں معمول کے طور پر بدنام یا شرمندہ کیا جاتا ہے۔ جس طرح معاشرہ خواتین کے بارے میں جلدی رائے قائم کر لیتا ہے، اسی طرح فلمی صنعت میں بھی اداکاراؤں کو مسلسل جانچ پرکھ اور ظاہری شکل و صورت کے حوالے سے توقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نیوز۱۸؍کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں مادھوری نے بتایا کہ انہیں بھی اپنے کریئر کے آغاز میں، ۱۹۸۰ء کی دہائی میں، اسی قسم کے تبصروں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: سنی دیول اور اکشے کھنہ کی کورٹ روم ڈراما فلم ’’اکّا‘‘ کی پہلی جھلک منظرعام پر

انہوں نے کہا:’’آپ ایک عوامی شخصیت ہوتے ہیں۔ آپ خود کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں، اس لئے یقیناً کچھ لوگ آپ کے بارے میں کہیں گے کہ یہ ایسی ہے یا ویسی ہے۔ جب میں نے اپنے کریئر کا آغاز کیا تو لوگ کہتے تھے کہ میں بہت دُبلی پتلی ہوں۔ وہ کہتے تھے، `اسے کچھ’’ کھلاؤ!‘‘ (ہنستے ہوئے)۔ ان معاملات میں لوگ بہت جلد فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ ‘‘مادھوری نے اس بات پر زور دیا کہ اداکاراؤں کو اکثر جسمانی ساخت (Body Shaming) کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا:’’لوگ آپ کا وزن بڑھ جائے تو بھی تنقید کرتے ہیں اور اگر وزن کم ہو جائے تو بھی۔ ویسے بھی ہندوستان میں جیسے ہی آپ کسی سے ملتے ہیں تو وہ کہتے ہیں، `ارے، یہ تو کتنی موٹی ہو گئی ہے، یا `کتنی پتلی ہو گئی ہے۔ یہی پہلی بات ہوتی ہے جو لوگ کہتے ہیں۔ یہاں کسی قسم کی جھجک یا فلٹر نہیں ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: موسیقار پرتیم کی انسٹا پوسٹ سے مداحوں کو تشویش، ریٹائرمنٹ کی قیاس آرائیاں

مادھوری کے مطابق، اس طرح کے تبصروں سے نمٹنا اس لئے نسبتاً آسان تھا کیونکہ اُس زمانے میں سوشل میڈیا اور ٹرولنگ کا کلچر موجود نہیں تھا۔ انہوں نے کہا:’’میرا ماننا ہے کہ ایسی باتوں کو برداشت کرنا چا ہئے اور ان پر زیادہ توجہ نہیں دینی چاہئے۔ اُس وقت بھی لوگ فیصلے کرتے تھے، لیکن ہمیں ان کا زیادہ علم نہیں ہوتا تھا کیونکہ سوشل میڈیا موجود نہیں تھا۔ ‘‘مادھوری کے نزدیک، خود سے محبت (Self-Love) ان تعصبات اور مسلسل تنقید کا مقابلہ کرنے کی کنجی ہے۔ انہوں نے کہا:’’آج سوشل میڈیا اور اس سے ملنے والی گمنامی کی وجہ سے لوگ کچھ بھی کہہ دیتے ہیں۔ لیکن انسان کو اپنی توجہ اپنے کام، اپنے شوق اور اُن چیزوں پر مرکوز رکھنی چاہئے جنہیں وہ پسند کرتا ہے اور جن سے اسے خوشی ملتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ خود سے محبت کریں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: کرن جوہر ’’راکھ‘‘ سے متاثر، علی فضل کی اداکاری کو ’’غیر معمولی‘‘ قرار دیا

اسی حوالے سے ایک پرانی افواہ بھی گردش کرتی رہی ہے کہ گلوکارسریش واڈکرنے کبھی مادھوری کے خاندان کی طرف سے آنے والا شادی کا رشتہ یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ وہ ’’بہت دُبلی‘‘ ہیں۔ تاہم، انہوں نے حال ہی میں اس افواہ کی تردید کرتے ہوئے دی لَلن ٹاپ کو بتایا:’’’وہ اُس وقت واقعی دُبلی تھیں۔ اگر آپ فلم ’’ابودھ‘‘ دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ وہ کتنی پتلی تھیں۔ لیکن رشتے کی بات کبھی مجھ تک پہنچی ہی نہیں، تو پھر میں اسے مسترد کیسے کر سکتا تھا؟‘‘ دوسری جانب، ’’ماں بہن‘‘ میں مادھوری کی مزاحیہ اداکاری اور ان کے منفرد انداز کو ناظرین اور ناقدین کی جانب سے بھرپور سراہا جا رہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK