Inquilab Logo Happiest Places to Work

مودی نے منشیات کیخلاف ملک گیر مہم کا آغاز کیا

Updated: August 03, 2026, 9:02 AM IST | Agency | New Delhi

وزیر اعظم نریندر مودی نے منشیات کے خلاف ملک گیر مہم’ ’نشہ مکت یوا فار وِکسِت بھارت سنکلپ ابھیان‘‘ کا آغاز کیا۔ انہوں نے منشیات کے خلاف۱۰۰؍ ہفتوں پر مشتمل مہم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی سخت کر دی ہے۔

Narendra Modi.Photo:PTI
نریندرمودی۔ تصویر:پی ٹی آئی
وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو منشیات کے خلاف  ملک گیر مہم’ ’نشہ مکت یوا فار وِکسِت بھارت سنکلپ ابھیان‘‘ کا آغاز کیا۔ انہوں نے منشیات کے خلاف۱۰۰؍ ہفتوں پر مشتمل مہم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی  سخت کر دی ہے۔
 
 
ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے مہم کے افتتاحی پروگرام سے خطاب  میں وزیراعظم نے کہا کہ ملک کو منشیات سے پاک بنانے کیلئے عوامی شراکت داری کے تحت یہ مہم آئندہ  ۱۰۰؍ہفتوں تک ہر اتوار کو جاری رہے گی۔وزیر اعظم نے کہاکہ ’’اجتماعی کوششوں میں بے پناہ طاقت ہوتی ہے اور آج اسی طاقت کے ساتھ یہ مہم ہر نوجوان کے دل تک پہنچنے کیلئے  شروع کی جا رہی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حکومت منشیات کے استعمال کے خلاف جنگ میں نوجوانوں کی بھرپور حمایت کر رہی ہے۔مودی نے کہا، ’’ملک میں منشیات کے اسمگلروں اور منشیات کے استعمال کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔ پہلے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ گرفتاریاں ہوئی ہیں اور ہزاروں کروڑ کی منشیات ضبط کی گئی ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہماری حکومت منشیات کے خلاف کتنی سخت ہے۔‘‘ انہوںنے اساتذہ سے بھی  طلبہ میں بیداری کی اپیل کی۔ 
 
 
’’ بی جےپی یعنی ’بھرشٹ‘، جُلم(ظلم) اور پاپ‘‘
سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے اتوار کو بی جے پی پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جتنے بھی بھرشٹ (بدعنوانی کرنےوالے)، ظلم کرنے والے اور پاپ کرنے والے ہیں وہ سب بی جےپی میں ہیں۔لکھنؤ میں سماجوادی پارٹی کے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ’’بی سے بدعنوان، جے سے جلم(ظلم)  اور پی سے پاپ (گناہ) مراد ہے۔ تمام بدعنوان، ظالم اور گناہ گار لوگ بی جے پی میں ہیں۔‘‘ انہوں نے نشاندہی کی کہ بی جے پی سرکار میں تعمیر کئے  گئے کئی ایکسپریس ویز، جن میں لکھنؤ-کانپور، بندیل کھنڈ اور پوروانچل ایکسپریس وے شامل ہیں، ’’بدعنوانی کا شکار‘‘ ہو چکے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK