Inquilab Logo Happiest Places to Work

جوہو کپاس واڑی قبرستان میں تدفین کا معاملہ معلق

Updated: August 03, 2026, 9:02 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

متعدد دفعہ یقین دہانی کے باوجود اب تک تدفین شروع نہیں کی گئی ۔ محمد پٹیل کاعوام کے صبر کا پیمانہ لبریزہونے کا انتباہ ۔ایک مرتبہ پھر جلد شروع کئے جانے کا وعدہ۔

The Interior Of Juhu Kapaswadi Graveyard Is Being Cleaned. Photo: INN
جوہو کپاس واڑی قبرستان کے اندرونی حصے کی صفائی کی جارہی ہے۔ تصویر:آئی این این
 جوہو (لنک روڈ) کے مسلمانوں کے لئے یہ خبر باعث اطمینان تھی کہ قبرستان میں جلد میت کی تدفین کا عمل شروع ہوجائے گا ، انہیں اِرلا یا دیگر قبرستان میت نہیں لے جانا پڑے گا مگر حیرت انگیز طور پر پھر معاملہ معلق ہوگیا ہے ۔ اس تاخیر کی وجہ سے مقامی مسلمانوں کی جانب سے سوال قائم کیا جارہا ہے ۔ 
 
 
پہلے یہ کہا گیا تھا کہ یکم محرم (۱۷؍ جون) سے کپاس واڑی قبرستان میت کی تدفین کے لئے کھول دیا جائے گا۔ اس کے بعد بارش میں شیڈ بنانے کا حوالہ دیا گیا اور نگرانی کے لئے مقرر کئے گئے خاندان عبدالرزاق چونا والا کی جانب سے یہ یقین دلایا گیا تھا کہ جلد ہی شیڈ بنالیا جائے گا اور بہرصورت ۳۰؍ جون سے تدفین شروع کردی جائے گی مگر جون کیا جولائی کا مہینہ گزر گیا اور اب اگست شروع ہوگیا ہے اس کے باوجود تدفین نہیں شروع کی گئی ہے۔ اس کی وجہ سے مقامی مسلمانوں کا یہ سوال درست ہے کہ آخر کب تک ٹال مٹول کارویہ اپنایا جائے گا اور کب تک تاریخ پر تاریخ دی جاتی رہے گی؟ جب بی ایم سی کی جانب سے سارا معاملہ طے ہوگیا ہے اور قبرستان بن کر تیار ہے، رنگ روغن ہوچکا ہے، پھر تدفین کے لئے بار بار وقت دینے اور تدفین نہ شروع کرنے کا کیا مطلب ہے ؟ 
واضح ہوکہ اس قبرستان کو بی ایم سی کی جانب سے دوٹانکی پر واقع معروف دینی ادارہ جامعہ قادریہ اشرفیہ ایجوکیشنل ٹرسٹ کو دیا گیا ہے اور جامعہ کے سربراہ مولانا سیدمعین الدین اشرف عرف معین میاں نے اس کی نگرانی کا ذمہ عبدالرزاق چونا والا کے حوالے کیا ہے۔ اس قبرستان میں۴۰۰؍ سے زائد قبروں کی گنجائش ہے۔ اسے بہت ترتیب سے بنایا گیا ہے جس سے میت دفنانے، جنازہ قبر تک لے جانے اور تدفین کرنے کے بعد لوگوں کے واپس آنے میں قبروں کی بے حرمتی کااحتمال نہیں رہے گا۔
معین میاں سے نمائندۂ انقلاب کے استفسار پر انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ ’’کچھ تاخیر ہوئی ہے اور نگراں کے ذریعے اب تک تدفین شروع نہ کرنے کا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ ابھی ۴؍لاکھ روپے بی ایم سی میں جمع کرانا ہے مگر یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے، اسے آسانی سے حل کرلیا جائے گا اور تدفین شروع کردی جائے گی۔‘ ‘
معین میاں سے یہ پوچھنے پر کہ آخر اب کس تاریخ سے تدفین شروع ہوگی تاکہ مقامی مسلمان مطمئن ہوجائیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’’ فوری طور پر تاریخ کا تعین تو ممکن نہیں ہے مگر ہماری جانب سے اور عبدالرزاق صاحب اور سابق کارپوریٹر محسن حیدر کی جانب سے یہ کوشش ہوگی کہ اب مزید تاخیر نہ ہونے پائے، جلد از جلد تدفین شروع کردی جائے ۔‘‘
 
 
انہوں نے مزید کہاکہ ’’مجھے اس کا احساس ہے کہ تاخیر ہورہی ہے لیکن کسی چیز کو بہتر طریقے سےانجام دینے میں ضابطوں کی خانہ پُری کے ساتھ انتظامی امور کی تکمیل کرنی ہوتی ہے، اس وجہ سے کچھ وقت لگا ہے لیکن مقامی لوگ اطمینان رکھیں، اب انہیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔‘‘ 
کہیں عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز نہ ہوجائے
سماجی خدمت گار اس تعلق سے کوشاں رہنے والوں میں شامل نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ ’ حیرت کی بات ہے کہ ایک تو یہ ہوتا ہے کہ کہیں سہولت نہیں مل رہی ہے ،یہاں معاملہ اس کے بالکل اُلٹ ہے کہ سہولت میسر ہے مگر اس کا فائدہ لوگوں کو نہیں مل رہاہے، اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ بی ایم سی از خود اس پر فوراً توجہ دے اور میت کی باقاعدہ تدفین کا عمل شروع کرنے میں مزید تاخیر نہ ہونے دے۔‘‘انہوں نے انتباہ دینے کے انداز میں کہا کہ ’’بار بار ٹال مٹول کرنے سے کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے ۔‘‘

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK