Inquilab Logo Happiest Places to Work

جموں کشمیر میں دہشت گردی ختم ہوچکی ہے تو پھر حملے کون کررہا ہے:فاروق عبداللہ

Updated: August 03, 2026, 9:38 AM IST | Agency | Srinagar

سینئر لیڈر نے پوچھا کہ یہاں لوگ مارے جا رہے ہیں ، اگر سرحدیں مکمل طور پر محفوظ اور کنٹرول میں ہیں تو پھر یہ دہشت گرد کہاں سے آرہے ہیں؟

National Conference Chief Farooq Abdullah.Photo:INN
نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ- تصویر:آئی این این
  جموں کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جنوبی کشمیر میں دو غیر مقامی مزدوروں اور ایک پولیس اہلکار کے قتل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت کا یہ دعویٰ درست ہے کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی ختم ہو چکی ہے، تو پھر یہ حملے کرنے والے لوگ کون ہیں۔اننت ناگ میں پارٹی کے ایک کارکن کے اہل خانہ سے تعزیت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہاکہ ’’میں پوچھتا ہوں کہ ہمیں بتایا جائے یہ قاتل کون ہیں؟ آپ کہتے ہیں کہ دہشت گردی ختم ہو گئی ہے، تو پھر یہ لوگ کون ہیں؟ انہیں بے نقاب کریں، ہم بھی دیکھیں گے اور پوری دنیا بھی دیکھے گی۔‘‘
 
 
انہوں نے حالیہ دو واقعات کا حوالہ دیا جن میں کولگام میں اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والے چھتیس گڑھ سے تعلق رکھنے والے دو غیر مقامی مزدوروں پر حملہ کیا گیاجبکہ اس سے قبل۲۲؍ جولائی کو اننت ناگ کے لال چوک علاقے میں امرناتھ یاترا کی ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکار عاشق حسین قریشی کو دہشت گردوں نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔فاروق عبداللہ نے کہا’’ یہاں لوگ مارے جا رہے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ دہشت گردوں نے یہ حملے کیے ہیں۔ اگر سرحدیں مکمل طور پر محفوظ اور کنٹرول میں ہیں تو پھر یہ دہشت گرد کہاں سے آرہے ہیں؟ یہ قاتل کون ہیں؟‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب گزشتہ برس پہلگام کے بیسرن سیاحتی مقام پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد ایک عرصے تک نسبتاً خاموشی رہی تھی۔ اس حملے میں۲۵؍ سیاحوں اور ایک مقامی گھوڑا بان کو دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔
 
 
انہوں نے کہا کہ اننت ناگ میں پولیس اہلکار کے قتل کے بعد وادی کشمیر میں ۲؍ ہزار ۵۰۰؍ سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا، اس کے باوجود دہشت گردانہ حملے جاری ہیں۔۲۰۱۹ء کے بعد جموں و کشمیر کی صورتحال میں تبدیلی سے متعلق سوال پر سابق وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ’’کیا واقعی دہشت گردی ختم ہو گئی ہے، جیسا کہ دنیا کو بتایا جا رہا ہے؟‘‘ فاروق عبداللہ نے ایک بار پھر جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ ’’ہم مسلسل ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں، آخر ہمیں یہ حق کیوں نہیں دیا جا رہا؟‘‘مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر انہوں نے کہا کہ وہ بھی ہمارے بھائی ہیں۔ اگر ان پر ظلم ہو رہا ہے تو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کو وہاں جانا چاہئے اور ان کے حالات دیکھنے چاہئیں، مگر ہر طرف خاموشی ہے۔ ہمارا ملک بھی جو انہیں اپنا حصہ قرار دیتا ہے، اس معاملے پر خاموش ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK