Inquilab Logo Happiest Places to Work

مدھیہ پردیش اسمبلی میں یکساں سول کوڈ بل پاس، سلیکٹ کمیٹی میں بھیجنے کا اپوزیشن کا مطالبہ مسترد

Updated: July 22, 2026, 9:51 AM IST | Bhopal

ایوان میںاقتدار اورحزب اختلاف کے درمیان تلخ نوک جھونک اور نعرے بازی، دو مرتبہ کارروائی ملتوی ہونے کے بعد ہمیشہ کی طرح جامع بحث کے بغیر بل منظور، کانگریس نے بل کو عوام مخالف بتایا۔

Madhya Pradesh Congress`s unique protest outside the assembly, BJP, ABVP and RSS performed `Antam Sanskar`. Photo: INN
اسمبلی کے باہر مدھیہ پردیش کانگریس کا انوکھا احتجاج، بی جے پی، اے بی وی پی اور آر ایس ایس کا ’انتم سنسکار‘ کیا۔ تصویر: آئی این این

مدھیہ پردیش اسمبلی نے منگل کو حزب اقتدار اوراحزب اختلاف کے درمیان تلخ نوک جھونک، نعرے بازی اور دو مرتبہ کارروائی ملتوی ہونے کے بعد یکساں سول کوڈ (یو سی سی) بل پاس کر دیا۔ کانگریس کی جانب سے بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، لیکن حکومت نے اسے مسترد کر دیا۔ اسمبلی کے اسپیکر نریندر سنگھ تومر نے کانگریس کی مخالفت اور ہنگامے کے درمیان بل کو منظوری عطاکردی۔ کانگریس نے اس بل کو عوام مخالف قرار دیا۔

مانسون سیشن کے دوسرے دن حکومت نے یو سی سی بل ایوان میں پیش کیا۔ قائد حزب اختلاف امنگ سنگھار نے پوائنٹ آف آرڈر کے تحت بل کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے سلیکٹ کمیٹی کو بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کے ایم ایل اے عارف مسعود، عاطف عقیل اور بالا بچن نے بھی بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس پر تفصیلی غوروخوض کی ضرورت ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت سیاسی ایجنڈے کے تحت بل لا رہی ہے اور آئین کے آرٹیکل۲۹؍ کے تحت اقلیتوں کو حاصل حقوق کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔اپوزیشن کا مطالبہ مسترد ہونے کے بعد کانگریس کے ایم ایل اے اسپیکر کی کرسی کے پاس پہنچ گئے اور یو سی سی کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔ جس کی وجہ سے اسمبلی اسپیکر نریندر سنگھ تومرنے پہلے۱۰؍ منٹ اور بعد میں۱۵؍ منٹ کیلئے ایوان کی کارروائی ملتوی کی۔ کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر بھی کانگریس کے ایم ایل ایز نعرے بازی کرتے رہے جبکہ حکمراںجماعت بل پر بحث کو آگے بڑھانے کا مطالبہ کرتی رہی۔

یہ بھی پڑھئے: کانگریس کا مودی کی قیام گاہ پر ڈرامائی دھرنا، سرکار کے ہوش اُڑا دیئے

پارلیمانی امور کے وزیر کیلاش وجے ورگیہ نے کہا کہ یو سی سی حکومت کا نہیں بلکہ عوام کی رائے کا بل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمیٹی کو ریاست بھر سے تقریباً۱۰؍ لاکھ مشورے موصول ہوئے ہیں اور انہی مشوروں کی بنیاد پر بل تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ سمیت دیگر ریاستوں میں بھی یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی سمت میں اقدامات کئے گئے ہیں اور مدھیہ پردیش بھی اسی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

اس دوران بل پر نمائشی بحث بھی ہوئی۔اس میں حصہ لیتے ہوئے بی جے پی کے ایم ایل اے سیتا سرن شرما، رامیشور شرما، سنجے پاٹھک، گھنشیام چندر ونشی، بھگوان داس سبنانی، دلیپ سنگھ پریہار اور دیگر بی جے پی اراکین نے بل کی حمایت کرتے ہوئے اسے سماجی برابری، خواتین کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا۔ بی جے پی رکن رامیشور شرما نے کانگریس پر قبائلی اور ہندو مفادات کی مخالفت کرنے کا الزام لگایا جبکہ سنجے پاٹھک نے کہا کہ اس سے ذات پات کا امتیازی سلوک ختم ہوگا۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یکساں سول کوڈ خواتین کو بااختیار بنانے، سماجی ہم آہنگی اور مساوی حقوق کی سمت میں ایک تاریخی قدم ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یو سی سی کے نفاذ کے بعد ریاست میں تمام شادیوں کا رجسٹریشن لازمی ہوگا اور ایک شوہر یا بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی قانونی طور پر جائز نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی مذہبی اور سماجی رسومات پہلے کی طرح برقرار رہیں گی لیکن شادی سمیت شہری معاملات میں یکساں قانونی نظام لاگو ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: سی جے پی مظاہرہ؛ یہ ہمارے مستقبل کی لڑائی ہے: ریپیڈو ڈرائیور

وزیر اعلیٰ نے کانگریس پر خوشامد اور ووٹ بینک کی سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اگر کانگریس واقعی بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے آئین کا احترام کرتی ہے تو اسے اس بل کی حمایت کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس برسوں تک خوشامد کی سیاست کرتی رہی ہے اور اب اس کا دہرا کردار عوام کے سامنے آ چکا ہے۔ہنگامے کے درمیان کانگریس کے ایم ایل اے مسلسل ’او بی سی ریزرویشن دینا ہوگا‘، ’چندہ چوروں گدی چھوڑو‘ اور یو سی سی مخالف نعرے لگاتے رہے۔ انہی نعروں کے درمیان یکساں سول کوڈ بل کو صوتی ووٹ سے پاس کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK