ملالہ کی کہانی سن کر آبدیدہ ہوگئی تھی: ٹوئنکل کھنہ

Updated: October 17, 2020, 3:08 AM IST | Mumbai

ٹوئنکل کھنہ کا کہنا ہے کہ دنیا کی کم عمر ترین نوبیل انعام یافتہ پاکستانی تعلیمی رضا کار اور انسانی حقوق کی کارکن ملالہ یوسف زئی سے گفتگو کرتے ہوئے وہ آبدیدہ ہوگئی تھیں ۔

Twinkle Khanna. Photo: INN
ٹوئنکل کھنہ۔ تصویر: آئی این این

 ٹوئنکل کھنہ کا کہنا ہے کہ دنیا کی کم عمر ترین نوبیل انعام یافتہ پاکستانی تعلیمی رضا کار اور انسانی حقوق کی کارکن ملالہ یوسف زئی سے گفتگو کرتے ہوئے وہ آبدیدہ ہوگئی تھیں ۔ٹوئنکل کھنہ نے حال ہی میں اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارم ٹوئیک انڈیا پر ملالہ یوسف زئی کا انٹرویو لیا تھا۔ڈی این اے انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ٹوئنکل کھنہ نے بتایا کہ ملالہ کے ساتھ انٹرویو، آڈیو ہونا تھا لیکن جب میں نے اسے سیٹ کیا تو وہ ویڈیو پر منتقل ہوگیا تھا۔انہوں نے کہا کہ میں نے تیزی سے اپنے بال پیچھے کئے اور اپنے آنکھوں میں کاجل لگایا تاکہ میں تھوڑی بہتر دکھ سکوں ۔ٹوئنکل کھنہ نے کہا کہ انٹرویو کے آخر میں مجھے اس سے فرق نہیں پڑا اور ملالہ یوسف زئی کی کہانی نے مجھے آبدیدہ کردیا تھا۔خیال رہے کہ ٹوئنکل کھنہ نے ملالہ یوسف زئی کا انٹرویو اپنے ادارے کی سیریز کے تحت لیا جس میں وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں کامیاب ہونے والے افراد کا انٹرویو لے چکی ہیں جن میں ودیا بالن، طاہرہ کشیپ، چیتنا سنگھ گالا، سدھا مرتی اور ریواٹھی راؤ شامل ہیں ۔چند روز قبل ٹوئیک انڈیا کے پلیٹ فارم پر آن لائن بات کرتے ہوئے ملالہ یوسف زئی نے کہا تھا کہ ان کی خودمختاری، آزادی اورشہرت میں بھی ان کے والد کا کردار ہے۔ ملالہ یوسف زئی نے ٹوئنکل کھنہ سے بات چیت کرتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ کم عمری میں ہی ان کے والد نے ان کی تعلیم پر توجہ دی، کیوں کہ ان کے والد کے خیال کے مطابق تعلیم ہی وہ ہتھیار ہے، جس سے خاتون حقیقی طور پر خود مختار ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ وہ خود کو معروف شخصیت نہیں سمجھتیں اور نہ ہی وہ لوگوں سے اس طرح رویہ رکھتی ہیں جیسے معروف شخصیات ہیں ۔ ملالہ نے خواتین کی خودمختاری پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کام کیلئے مردوں کو کردار ادا کرنا پڑے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK