Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلم’ستیہ‘ میں شیفالی شاہ کو شامل کروانے کیلئے منوج باجپئی نےڈائریکٹر کو منایا تھا

Updated: July 11, 2026, 12:07 PM IST | Agency | Mumbai

منوج باجپئی کےکریئرکو او ٹی ٹی پلیٹ فارمز، خصوصاً پرائم ویڈیو کی مقبول جاسوسی سیریز’دی فیملی مین‘میں شری کانت تیواری کے کردار نے نئی زندگی بخشی، لیکن انہیں اصل شہرت تقریباً۳؍دہائی قبل رام گوپال ورماکی ۱۹۹۸ءمیںریلیزہونے والی شہرۂ آفاق کرائم فلم ’ستیہ‘میں گینگسٹر بھیکو مہاترے کے کردار سے ملی تھی۔

Shefali Shah.Photo:iNN
شیفالی شاہ۔ تصویر:آئی این این

اگرچہ منوج باجپئی کےکریئرکو او ٹی ٹی پلیٹ فارمز، خصوصاً پرائم ویڈیو کی مقبول جاسوسی سیریز’دی فیملی مین‘میں شری کانت تیواری کے کردار نے نئی زندگی بخشی، لیکن انہیں اصل شہرت تقریباً۳؍دہائی قبل رام گوپال ورماکی ۱۹۹۸ءمیںریلیزہونے والی شہرۂ آفاق کرائم فلم ’ستیہ‘میں گینگسٹر بھیکو مہاترے کے کردار سے ملی تھی۔

یہ بھی پڑھئے:ہندوستان کی خاتون ٹیم انگلینڈ کے خلاف ۲۸۵؍رنوں پر آؤٹ

ایک انٹرویو میں منوج باجپئی نے اس تعلق سے کھل کر بات کی اور فلم’ستیہ‘ میں اداکاروں کے انتخاب کے تعلق سے بھی بتایا۔ انہوں نے بتایا کہ جب بھیکو مہاترے کی اہلیہ پیاری مہاترے کے کردار کے لیے اداکارہ کے انتخاب کی بات آئی تو رام گوپال ورما، منوج باجپئی کی تجویز سے پوری طرح متفق نہیں تھے۔ اسکرین کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں منوج باجپئی نے بتایا، ’’اس کا کریڈٹ میں کھلے دل سےلینا چاہوں گا۔ شیفالی شاہ کا نام میں نے ہی رَامو (رام گوپال ورما) کو تجویز کیا تھا۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’

یہ بھی پڑھئے:امریکہ میں ملازمتیں امریکیوں کیلئے ہیں، غیر ملکی فراڈیوں کیلئے نہیں: جے ڈی وینس

رَامو کا شیفالی کے ساتھ ’رنگیلا‘کے دوران کام کرنے کا اپنا تجربہ تھا، اس لیے وہ ان کے بارے میں زیادہ پُریقین نہیں تھے۔ لیکن ایک دن میں نے دوٹوک انداز میں کہہ دیا، کیونکہ بھیکو کی بیوی کے کردار کے لیے ابھی تک کسی کو فائنل نہیں کیا گیا تھا۔‘‘منوج باجپئی نے پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا، ’’میں شیفالی کو کئی برسوں سے جانتا ہوں۔ جب میں’سوابھیمان‘کر رہا تھا، اُس وقت وہ بھی ٹیلی ویژن پر کام کر رہی تھیں۔ ہم اُس زمانے میں، جب سب بہت نوجوان تھے، اکٹھے پارٹی بھی کیا کرتے تھے۔منوج باجپئی نے بتایا، ’’میں چاہتا تھا کہ’ستیہ‘میں میری بیوی کا کردار کوئی غیرمعمولی اداکارہ ادا کرے، اور میرے ذہن میں صرف شیفالی شاہ کا ہی نام تھا۔ رَامو کو قائل کرنے میں تھوڑی جدوجہد ضرور ہوئی، لیکن وہ آخرکار مان گئے اور بولے،’ٹھیک ہے، انہیں بلا لو‘۔‘‘منوج باجپئی کا ماننا ہے کہ ’’میں پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ شیفالی شاہ نے نہ صرف اپنے کردار میں بے شمار باریکیاں شامل کیں بلکہ بھیکو اور پیاری مہاترے کے رشتے کی کیمسٹری کو بھی غیرمعمولی بنا دیا۔ اس کردار کی کامیابی میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK