ماں کو بیٹے کی پیدائش کی اُمید تھی، بیٹی نے جنم لیا تو کبھی بھرپور پیار نہیں دیا، یوں مہ جبیں جو کبھی بے بی مینا کہلائیں، کبھی مینا کماری، کبھی نازؔ، تو کبھی منجو، میں پیار کی پیاس ماں کی گود سے ہی پنپتی رہی۔
EPAPER
Updated: June 07, 2026, 2:42 PM IST | Anees Amrohi | Mumbai
ماں کو بیٹے کی پیدائش کی اُمید تھی، بیٹی نے جنم لیا تو کبھی بھرپور پیار نہیں دیا، یوں مہ جبیں جو کبھی بے بی مینا کہلائیں، کبھی مینا کماری، کبھی نازؔ، تو کبھی منجو، میں پیار کی پیاس ماں کی گود سے ہی پنپتی رہی۔
لمحہ، منٹ، گھنٹے، دن، ہفتے، ماہ وسال آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔ ہر گزرنے والا لمحہ ماضی بن کر رہ جاتا ہے۔ ہر لمحہ ایک نئے افسانے کا آغاز ہوتا ہے۔ ہر آدمی بذات خود ایک افسانہ ہے جو عمر کے ساتھ آگے بڑھتا رہتا ہے۔ انسان کی زندگی میں بہت سے کلائمکس ہوتے ہیں، بہت سے موڑ آتے ہیں انسان کی زندگی کے افسانے میں، اور اس افسانے کا آخری باب اُس وقت شروع ہوتا ہے جب ملک الموت روح کو جسم خاکی سے نکال کر لے جاتا ہے… اور آخری باب کا آخری منظر وہ ہوتا ہے جب بے روح جسم خاکی کو مٹی یا آگ کے سپرد کر دیا جاتا ہے اور ہر د و صورتوں میں مٹی، مٹی میں مل جاتی ہے۔
بالکل اسی قسم کا ایک افسانہ شروع ہوا یکم اگست ۱۹۳۲ء کو پریل، ممبئی کے ایک سرکاری اسپتال میں، اور پھر درمیان میں بہت سے کلائمکس آنے کے بعد اس افسانے کا آخری باب بھی ممبئی کے ہی ایک اسپتال میں شروع ہوا۔ سینٹ ایلزبتھ نرسنگ ہوم کے کمرہ نمبر ۲۶؍میں، اس آخری باب کا آخری منظر ختم ہوا رحمت آباد، ممبئی کے شیعہ قبرستان میں۔ یہ افسانہ شروع ہوا مہ جبیں کے نام سے اور درمیان میں یہ نام تبدیل ہوتا رہا۔ ہر کلائمکس میں ایک نیا نام… اور یہ نام تھے بے بی مینا، مینا کماری، نازؔ، منجو، وغیرہ… اور اس افسانے کا اختتام ایک بہت ہی خوبصورت، پاک اور پوتر نام پر ہوا… یعنی ’’پاکیزہ‘‘ پر۔
یہ بھی پڑھئے: سوشل میڈیا سے دوری نے زندگی بدل دی، تاپسی پنو کا ڈِجیٹل کلچر پر اظہارِ خیال
مہ جبیں کے والد ماسٹر علی بخش اپنے وقت کے مانے ہوئے ہارمونیم اُستاد اور موسیقار تھے۔ اُن ہی ماسٹر علی بخش کی بیوی اِقبال بیگم ایک معمولی سی رَقاصہ تھیں۔ اِقبال بیگم نے ۱۹۳۲ء میں پریل، ممبئی کے اسپتال میں مہ جبیں کو جنم دیا۔ مہ جبیں جب ماں کے پیٹ میں ہی تھی تب اِقبال بیگم کو مکمل یقین تھا کہ اِس بار لڑکا ہی ہوگا۔ اِس سے قبل اِقبال بیگم ایک لڑکی خورشید کو جنم دے چکی تھیں۔ جب بار مہ جبیں کی پیدائش ہوئی تو ماں کو بڑی کوفت ہوئی۔ یہی وجہ تھی کہ ماں نے کبھی مہ جبیں کو بھرپور پیار نہیں دیا حالانکہ مہ جبیں کے بعد اِقبال بیگم نے پھر ایک لڑکی مدھو کو جنم دیا۔
یہیں سے مہ جبیں میں پیار کی پیاس پنپتی رہی۔ بچپن میں ہی اُس کی توجہ پھولوں اور پودوں کی طرف مبذول ہو گئی اور اُس کا زیادہ وقت اپنے باندرہ کے مکان ’’اِقبال منزل‘‘ کے آگے ایک چھوٹے سے باغیچے میں پھولوں اور کیاریوں کی دیکھ بھال کرنے اور کھیلنے کودنے میں گزرنے لگا۔ والد علی بخش کویہ بات ناگوار گزری اور ایک دن اُنہوںنے مہ جبیں پر پابندی لگا دی۔ مہ جبیں کو بہت غصہ آیا اور اُس نے چڑکر اپنے سامنے والے مکان پر پتھر پھینکنے شروع کر دئیے۔ پڑوسی نے علی بخش سے شکایت کی اور مہ جبیں کو سخت سزا دینے کی مانگ کی۔ مہ جبیں کے یہی پڑوسی آگے چل کر ہندوستانی فلموں کے موسیقار اعظم نوشاد علی بنے۔
اُن دنوں علی بخش بڑی تنگی میں گزر بسر کر رہے تھے۔ پرکاش پکچرس کی فلم ’’لیدر فیس‘‘ (۱۹۳۹ء) وِجے بھٹ کی ہدایت میں بن رہی تھی۔ وِجے بھٹ کو ایک چھوٹی بچی کی ضرورت تھی۔ ایک دوست کے مشورے پر علی بخش مہ جبیں کو لے کر وِجے بھٹ سے ملے۔ اُس وقت مہ جبیں کی عمرمحض چار سال تھی۔ وِجے بھٹ نے مہ جبیں کو بے بی مینا نام دے کر اِس فلم کے لئے پسند کر لیا۔
مہ جبیں کو بچپن سے ہی محرومیوں اور مایوسیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ فلم ’’لیدر فیس‘‘ کے پہلے ہی شاٹ میں بے بی مینا نے کیمرے کے سامنے بڑی آسانی سے قدرتی اَنداز میں شاٹ دیا۔ وِجے بھٹ نے خوش ہوکر بے بی مینا کو اِنعام میں پچیس روپے دئیے۔ اِتنے روپے پاکر علی بخش خوشی خوشی بچی مینا کو گود میں اُٹھائے گھر پہنچے۔ بچی نے سوچا کہ آج ماں سے بھی پیار ملے گا، لیکن جیسے ہی بچی کو باپ کی گود میں دیکھا، ماں اِقبال بیگم نے غصے سے کہا… ’’نیچے اُتر کمبخت! اِتنی بڑی ہو گئی اور گود میں چڑھی ہوئی ہے۔‘‘ بچی کی خوشی کا پھول کمھلا گیا۔ یہ ایک بہت بڑا کلائمکس تھا مہ جبیں کی زندگی کے افسانے کا۔ ’’لیدر فیس‘‘ کے بعد ۱۹۴۰ء میں ’’ایک ہی بھول‘‘، ۱۹۴۱ء میں ’’بہن، کسوٹی، نئی روشنی‘‘، ۱۹۴۲ء میں ’’غریب‘‘، ۱۹۴۳ء میں ’’پرتگیہ‘‘ اور ۱۹۴۴ء میں ’’لال حویلی‘‘ جیسی فلموں میں بے بی مینا نے بطور چائلڈ آرٹسٹ کافی مقبولیت حاصل کر لی۔
یہ بھی پڑھئے: ۲۴؍ سال کی عمر میں کامیابی کے باوجود وقفہ لیا، دیا مرزا کا انکشاف
بے بی مینا نے بچپن کی دہلیز سے نکل کر جب جوانی کے میدانِ کارزار میں قدم رکھا تو ہیروئن کے روپ میں جاگیردار اور الطاف کے ساتھ اُس کی ایک فلم شروع ہوئی ’’داداجی‘‘۔ مگر ایک حادثے میں اُس فلم کے تمام نگیٹو جل کر خاک ہو گئے اور اس طرح اس کی بطور ہیروئن پہلی فلم پردے کی زینت بننے سے محروم رہ گئی۔ اِس سے قبل ’’بچوں کا کھیل‘‘ (۱۹۴۶ء)، ’’پیا گھر آجا‘‘ (۱۹۴۷ء)، ’’شری گنیشی مہیما‘‘ (۱۹۵۰)، ’’ہنومان پاتال وِجئے‘‘ (۱۹۵۱ء)، ’’لکشمی نارائن‘‘ (۱۹۵۱ء)، اور ’’الٰہ دین اینڈ دی ونڈر فل لیمپ‘‘ (۱۹۵۲ء) میں بھی وہ کام کر چکی تھی۔ فلم ’’بچوں کا کھیل‘‘ کے ہیرو تھے مشہور مزاحیہ اداکار آغا اور بے بی مینا اَب میناکماری کے نام سے پہچانی جانے لگی تھی۔ ۱۹۵۲ء میں ہی میناکماری فلم ’’مدہوش‘‘ میں پہلی بار ہیروئن بن کر پردۂ سمیں پر جلوہ گر ہوئی۔ موہن ڈیسائی اس فلم کے ہیرو تھے اور جے بی ایچ واڈیا کی ہدایت میں یہ فلم تیار ہوئی تھی۔ فلم ’’مدہوش‘‘ کے فوراً بعد میناکماری کی فلم’’بیجو باورا‘‘ (۱۹۵۲ء) نمائش کیلئےپیش ہوئی۔ اِس فلم کے ہدایتکار ’’لیدر فیس‘‘ والے وِجے بھٹ ہی تھے اور ہیرو بھارت بھوشن تھے۔ یہ فلم مینا کماری کے لئے میل کا پتھر ثابت ہوئی۔ کیونکہ اِس سے قبل وہ کاسٹیوم ڈراموں اورمذہبی قسم کی فلموں میں ہی کام کرتی رہی تھی۔ فلم ’’بیجو باورا‘‘ نے میناکماری کی زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ اُس میں بہت سی تبدیلیاں آگئی تھیں۔ ۱۹۵۴ء میں جب فلم فیئر ایوارڈ قائم کئے گئے تو اِسی فلم ’’بیجو باورا‘‘ کیلئے میناکماری کو بہترین اداکاری کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اِس فلم کے موسیقار بھی وہی نوشاد علی تھے جن کے گھر پر بچپن میں میناکماری نے پتھر برسائے تھے۔
میناکماری کبھی اسکول نہیں گئی تھی مگر اُس کو اُردو ہندی اور انگریزی کی خاصی معلومات تھی۔ اُسے مطالعہ کا بڑا شوق تھا اور خود شاعری بھی کرتی تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ مشہور کہانی کار، مکالمہ نگار کمال امروہوی سے میناکماری متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ اُن دنوں کمال امروہی کی ہدایت میں بنی فلم ’’محل‘‘ کامیاب ہو چکی تھی۔کمال امروہی بذات خود اچھے ادیب اور شاعر تھے اور میناکماری بھی شاعری کی دیوانی تھی۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ میناکماری کمال امروہی کی شاعری سے متاثر ہوکر ان کی طرف راغب ہوئی ہو۔ جیسا کہ اکثر لوگ کہتے ہیں۔ ’’محل‘‘ کی بے پناہ کامیابی کے بعد اشوک کمار اور کمال امروہی میں بڑی قریبی دوستی ہو گئی تھی اور انہوں نے ’’فلمکار‘‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کر لیا تھا۔ اس ادارے کی پہلی فلم ’’انارکلی‘‘ کی کہانی اور اسکرین پلے کمال امروہی تحریر کر رہے تھے۔ ’’انارکلی‘‘ کے مرکزی کردار کیلئے میناکماری کو کہانی سنانے اور اُس کا کردار سمجھانے کیلئے کمال امروہی دوسری بار اُس کے گھر گئے تھے۔ پہلی بار کمال امروہی سہراب مودی کے کہنے پر اُس کے گھر تب گئے تھے، جب وہ سات یا آٹھ برس کی بچی تھی اور فلم ’’جیلر‘‘ میں ایک چائلڈ رول کے لئے اس کا انتخاب کرنا تھا۔ بقول کمال امروہی…
’’میناکماری اُس وقت دادر میں اپنے والد کے مکان کے آگے بنے ہوئے چھوٹے سے باغیچے میں کھیل رہی تھی۔ ماسٹر علی بخش نے جب بے بی مینا کو آواز دی تو وہ کیلا کھاتے ہوئے ایسے ہی میرے سامنے آکر کھڑی ہو گئی تھی۔ اس کے پیر مٹی سے گندے ہو رہے تھے اور منہ پر کیلا کھانے کے نشان لگے ہوئے تھے۔ بعد میں ماسٹر علی بخش کے کہنے پر وہ گھر کے اندر گئی اور چہرہ وغیرہ صاف کرکے آئی۔ اس وقت سات آٹھ برس کی مینا کو دیکھ کر ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ آنے والے وقت کی یہ ایک کامیاب ترین اداکارہ بنے گی۔ حالانکہ ’’جیلر‘‘ میں بے بی مینا کو نہیں لیا گیا مگر میں جب بھی ڈبل ڈیکر بس کی اوپری منزل پر بیٹھ کر ملاڈ سے دادر ہوتا ہوا گزرتا تھا، تو میری آنکھیں خود بخود اُس مکان کی پہلی منزل کی طرف اُٹھ جاتی تھیں جہاں مینا رہتی تھی۔ میری یہ بات آنے والے وقت نے ثابت کر دی تھی، کیونکہ بعد میں مینا کماری جیسی جذباتی اداکاری کرنے والی کوئی دوسری اداکارہ نہ تھی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’دوستانہ ۲‘‘ کو ایک اور جھٹکا، ہدایت کار ادویت چندن نے فلم چھوڑ دی
اُن دنوں فلم ’’انارکلی‘‘ کی کاغذی تیاریاں زور شور سے شروع ہو چکی تھیں۔ ایک دن میناکماری کسی فلم کی شوٹنگ سے فارغ ہوکر پونا سے بمبئی واپس آرہی تھیں کہ راستے میں کار کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ میناکماری اس حادثہ میں زخمی ہو گئیں تو ان کو پونا کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اُن کا بایاں ہاتھ بُری طرح کچلا گیا تھا۔ اس لئے ڈاکٹروں نے ان کے بائیں ہاتھ کی سب سے چھوٹی اُنگلی کاٹ دی۔ ابھی میناکماری اسپتال میں ہی تھیں کہ ایک دن کمال امروہی دل میں ’’انارکلی‘‘ کا خواب، ہاتھوں میں پھولوں کا گلدستہ اور میناکماری کی زندگی کا سب سے بڑا کلائمکس لئے اُن کے کمرے میں داخل ہوئے۔ اُن کی خیریت پوچھی اور ڈھارس بندھائی۔ میناکماری اُس وقت تک کئی اِسٹنٹ فلموں میں کام کر چکی تھیں۔ لہٰذا اس حادثے کی وجہ سے وہ بہت مایوس ہو چکی تھیں۔ ایسے میں سوشل فلموں میں ایک بہترین اداکارہ بننے کا خواب کمال امروہی اُن کی آنکھوں میں بسا چکے تھے۔ کمال امروہی کی تسلی سے پہلی بار میناکماری کو اپنے پن کا احساس ملا اور ان کا حوصلہ بحال ہوا۔
میناکماری کے حادثے کی خبر جب ممبئی پہنچی تو ان فلمسازوں نے دوسری اداکارائیں تلاش کرنی شروع کر دیں جن کی فلموں میں میناکماری کام کر رہی تھیں۔ میناکماری کی مقبولیت کا دور ابھی شروع نہیں ہوا تھا اور ’’بیجو باورا‘‘ اور ’’پرنیتا‘‘ ابھی ریلیز نہیں ہوئی تھیں۔ ایسے حالات میں کمال امروہوی نے جس ’’انارکلی‘‘ کے لئے انہیں سائن کرایا تھا، اس کے بھی ہاتھ سے نکل جانے کا خطرہ سامنے تھا۔ میناکماری بہت گھبرائی ہوئی اور ذہنی طور پر بہت پریشان تھیں۔ وہ اپنے مستقبل سے مایوس اور سہمی ہوئی تھیں۔ ایسے وقت میں کمال امروہی نے انہیں حوصلہ دیا اور اسپتال کے بستر پر پڑی ہوئی مایوس میناکماری کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیا۔ جیب سے ایک کامیاب ادیب نے قلم نکالا اور میناکماری کی ہتھیلی پر لکھا… ’’تم ہی میری انارکلی ہو۔‘‘ اس جملے کے نیچے کمال امروہی نے اپنے دستخط کر دئیے۔ یہ ایک چھوٹا سا جملہ میناکماری اور کمال امروہی کی زندگی کی تاریخ بن گیا۔ وہ میناکماری جو آج تک کمال امروہوی کی شاعری سے متاثر تھیں، ان کی عزت کرتی تھیں، اس جملے نے میناکماری کے دل میں کمال امروہی کے لئے اپنے پن کو جنم دیا۔ پیار کی ننھی کونپل کو جنم دیا اور بعد میں یہی اپنا پن اور اسی کونپل نے پیار کے ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر لی۔
میناکماری اور کمال امروہی میں جب قربت زیادہ بڑھی تو میناکماری کے والد علی بخش کو اعتراض ہوا اور انہوںنے اس کی سخت مخالفت کی۔ ان کو اندیشہ تھا کہ اس طرح یہ سونے کی چڑیا اُن کے پنجرے سے اُڑ جائے گی۔ میناکماری چھپ چھپ کر کمال امروہی سے ملتی رہیں اور آخرکار ۱۵؍فروری ۱۹۵۲ء کو میناکماری نے کمال امروہی سے شادی کر لی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ کمال امروہی کی پہلی بیوی آل زہرا محمودی اور تین بچے اُن کے آبائی وطن امروہہ میں موجود ہیں، میناکماری نے اپنے ہتھیلی پر کئے گئے کمال امروہی کے وعدے کو نبھا دیا اور انارکلی کے بجائے منجو بن گئی۔ کمال امروہی اِسی نام سے مینا کماری کو پکارتے تھے۔
میناکماری نے شادی کو راز میں رکھا اور اپنے والد کے گھر ہی رہتی رہیں۔ شادی کے بعد ۱۹۵۲ء میں میناکماری کی فلم ’’بیجو باورا‘‘ ریلیز ہوئی اور وہ اچانک شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئیں۔ اس فلم کے ہیرو بھارت بھوشن تھے ۔اس فلم کی شوٹنگ کے دوران میناکماری ندی میں گر گئی تھیں اور مرتے مرتے بچی تھیں۔ اس فلم کی کامیابی کے ساتھ ہی میناکماری کو یہ احساس ہوا کہ انہوں نے شادی کرنے میں جلدبازی سے کام لیا ہے۔اُن ہی دنوں کھنڈالا میں فلم ’’دانا پانی‘‘ کی شوٹنگ کے دوران میناکماری نے کمال امروہی کے سامنے طلاق کی خواہش کا اظہار کیا۔ اُس وقت کمال امروہی نے ایک کاغذ پر انہیں لکھ کر دیا… ’’تم جب چاہوگی، قاضی کے سامنے میں تمہیں طلاق دے دوںگا۔‘‘ یہ کاغذ کا ٹکڑا مینا کماری نے اپنے پاس رکھ لیا اور بات آئی گئی ہو گئی۔ اس شادی کو ایک سال ہی ہوا تھا کہ ۱۴؍فروری ۱۹۵۳ء کو میناکماری نے کمال امروہی کو فون کیا اور کہا کہ اب طلاق کا خیال انہوںنے دل سے نکال دیا ہے اور وہ پرچی بھی پھاڑ کر پھینک دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مادھوری دکشت نے شوہر ڈاکٹر شری رام نینے کے ساتھ ہندوستان واپسی کی وجہ بتائی
میناکماری میں دو خاص باتیں تھیں، ایک ان کی بولتی ہوئی آنکھیں، دوسری ان کی آواز میں ایک خاص قسم کی کھنک۔ یہ دونوں ہی باتیں ان کی ہم عصر اداکارائوں میں کسی کو حاصل نہیں تھیں۔ اب تک مینا کماری کمال امروہی کے منتقل ہوچکی تھیں۔ان کے ساتھ رہتے ہوئے میناکماری کی جذباتی اداکاری میں ایک خاص قسم کا نکھار آیا۔ ان کی مکالموں کی ادائیگی اور بغیر مکالموں کے آنکھوں سے جذبات ادا کرنے میں انہوںنے کمال حاصل کیا۔ ۱۹۵۴ء میں جب فلم فیئر ایوارڈ شروع کئے گئے تو میناکماری کو بہترین اداکارہ کا پہلا ایوارڈ فلم ’’بیجو باورا‘‘ کے لئے دیا گیا اور اگلے ہی سال فلم ’’پرنیتا‘‘ کیلئے انہیں پھر بہترین اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ۱۹۶۲ء میں ریلیز ہوئی فلم ’’صاحب، بیوی اور غلام‘‘ کے لئے پھر مینا کماری کو فلم فیئر ایوارڈ ملا۔ اس کے بعد ۱۹۶۷ء کی فلم ’’پھول اور پتھر‘‘ کے لئے بھی میناکماری کو بہترین اداکارہ کا فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔
۱۹۶۰ء میں ہی کمال امروہی نے فلم ’’پاکیزہ‘‘ شروع کی۔ مینا کماری اس فلم کی ہیروئن تھیں۔ یہ فلم میناکماری اور کمال امروہی کا ایک حسین خواب تھا۔ مینا کماری کو اس فلم سے ایک خاص لگائو تھا۔ مگر اس فلم کے ساتھ کئی حادثے ہوئے۔ ایک بار مدھیہ پردیش میں لوکیشن تلاش کرتے ہوئے میناکماری اور کمال امروہی کو ڈاکوئوں نے پکڑ لیا۔ ڈاکو جب ان دونوں کو اپنے سردار کے پاس لے گئے اور ان کو پتہ چلا کہ وہ ایک مشہور اداکارہ میناکماری کو پکڑ لائے ہیں تو ان کے سردار نے میناکماری اور کمال امروہی کی بہت مہمان نوازی کی اور پھر ان دونوں کو بحفاظت تمام شہر واپس پہنچا دیا۔ ایک بار اسٹوڈیو میں زبردست آگ لگ گئی اور سارا کاسٹیوم جل کر خاک ہو گیا۔ میناکماری کو اس حادثے کا بہت افسوس ہوا۔ ایک بار ان کا ملازم رمیش گھر کی تجوری توڑکر بہت بڑی رقم اور زیورات لے کر فرار ہو گیا۔ ایک بار ایک ندی میں شوٹنگ کے دوران ہاتھیوں نے بہت اودھم مچا دیا۔
شاعر، فلمساز وہدایتکار گلزار نئے نئے دہلی سے بمبئی فلمی دنیا میں قسمت آزمائی کے لئے گئے تھے۔ ہدایتکار بمل رائے کے اسسٹنٹ ہونے کے بعد وہ کسی فلم کے لئے بات کرنے ۴؍مارچ ۱۹۶۴ء کے دن فلم ’’پنجرے کے پنچھی‘‘ کے سیٹ پر فلمستان اسٹوڈیو پہنچے اور میناکماری کو میک اپ روم میں ہی اپنی شاعری سنانے لگے۔ میناکماری خود بھی شاعری کرتی تھیں اور نازؔ تخلص رکھتی تھیں۔ میناکماری کی شاعری میں شاعرانہ فنکاری کا فقدان ہوتے ہوئے بھی جذبات کی بہترین عکاسی ہوتی تھی۔ خاص طور پر ان کی نظمیں ان کے احساسات کے اظہار کا بہترین ذریعہ بن سکی ہیں۔ گلزار کی شاعری سے میناکماری بھی متاثر تھیں۔ میناکماری کے میک اپ روم میں گلزار کی موجودگی باقر علی کو بہت ناگوار گزرتی تھی جو کمال امروہی کے منہ چڑھے سکریٹری تھے اور جنہیں کمال امروہی نے میناکماری کی دیکھ ریکھ کی ذمہ داری سونپی تھی۔انہوں نے میناکماری سے کہا کہ اس شخص کو میک اپ روم سے باہر نکالو، صاحب کا حکم ہے۔ میناکماری نے اس حکم کو اپنی توہین سمجھا اور باقرعلی سے جھگڑا کر بیٹھیں۔ بات بڑھنے پر باقرعلی نے میناکماری کے گال پر ایک تھپڑ رسید کر دیا۔ میناکماری فوراً وہاں سے آنسو بہاتی ہوئی اپنی بہن مدھو اور بہنوئی مزاحیہ اداکار محمود کے گھر چلی گئیں اور پھر کبھی لوٹ کر اپنے چندن (کمال امروہی) کے گھر نہ آئیں۔