Inquilab Logo Happiest Places to Work

مہ جبیں عرف میناکماری کو بچپن سے ہی محرومیوں اور مایوسیوں کا سامنا کرنا پڑا

Updated: May 31, 2026, 2:49 PM IST | Anees Amrohi | Mumbai

ماں کو بیٹے کی پیدائش کی اُمید تھی، بیٹی نے جنم لیا تو کبھی بھرپور پیار نہیں دیا، یوں مہ جبیں جو کبھی بے بی مینا کہلائیں، کبھی مینا کماری، کبھی نازؔ، تو کبھی منجو، میں پیار کی پیاس ماں کی گود سے ہی پنپتی رہی۔

Meena Kumari. Photo: INN
مینا کماری۔ تصویر: آئی این این

لمحہ، منٹ، گھنٹے، دن، ہفتے، ماہ وسال آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔ ہر گزرنے والا لمحہ ماضی بن کر رہ جاتا ہے۔ ہر لمحہ ایک نئے افسانے کا آغاز ہوتا ہے۔ ہر آدمی بذات خود ایک افسانہ ہے جو عمر کے ساتھ آگے بڑھتا رہتا ہے۔ انسان کی زندگی میں بہت سے کلائمکس ہوتے ہیں، بہت سے موڑ آتے ہیں انسان کی زندگی کے افسانے میں، اور اس افسانے کا آخری باب اُس وقت شروع ہوتا ہے جب ملک الموت روح کو جسم خاکی سے نکال کر لے جاتا ہے… اور آخری باب کا آخری منظر وہ ہوتا ہے جب بے روح جسم خاکی کو مٹی یا آگ کے سپرد کر دیا جاتا ہے اور ہر د و صورتوں میں مٹی، مٹی میں مل جاتی ہے۔

بالکل اسی قسم کا ایک افسانہ شروع ہوا یکم اگست ۱۹۳۲ء کو پریل، ممبئی کے ایک سرکاری اسپتال میں، اور پھر درمیان میں بہت سے کلائمکس آنے کے بعد اس افسانے کا آخری باب بھی ممبئی کے ہی ایک اسپتال میں شروع ہوا۔ سینٹ ایلزبتھ نرسنگ ہوم کے کمرہ نمبر ۲۶؍میں، اس آخری باب کا آخری منظر ختم ہوا رحمت آباد، ممبئی کے شیعہ قبرستان میں۔ یہ افسانہ شروع ہوا مہ جبیں کے نام سے اور درمیان میں یہ نام تبدیل ہوتا رہا۔ ہر کلائمکس میں ایک نیا نام… اور یہ نام تھے بے بی مینا، مینا کماری، نازؔ، منجو، وغیرہ… اور اس افسانے کا اختتام ایک بہت ہی خوبصورت، پاک اور پوتر نام پر ہوا… یعنی ’’پاکیزہ‘‘ پر۔

مہ جبیں کے والد ماسٹر علی بخش اپنے وقت کے مانے ہوئے ہارمونیم اُستاد اور موسیقار تھے۔ اُن ہی ماسٹر علی بخش کی بیوی اِقبال بیگم ایک معمولی سی رَقاصہ تھیں۔ اِقبال بیگم نے ۱۹۳۲ء میں پریل، ممبئی کے اسپتال میں مہ جبیں کو جنم دیا۔ مہ جبیں جب ماں کے پیٹ میں ہی تھی تب اِقبال بیگم کو مکمل یقین تھا کہ اِس بار لڑکا ہی ہوگا۔ اِس سے قبل اِقبال بیگم ایک لڑکی خورشید کو جنم دے چکی تھیں۔ جب بار مہ جبیں کی پیدائش ہوئی تو ماں کو بڑی کوفت ہوئی۔ یہی وجہ تھی کہ ماں نے کبھی مہ جبیں کو بھرپور پیار نہیں دیا حالانکہ مہ جبیں کے بعد اِقبال بیگم نے پھر ایک لڑکی مدھو کو جنم دیا۔

یہیں سے مہ جبیں میں پیار کی پیاس پنپتی رہی۔ بچپن میں ہی اُس کی توجہ پھولوں اور پودوں کی طرف مبذول ہو گئی اور اُس کا زیادہ وقت اپنے باندرہ کے مکان ’’اِقبال منزل‘‘ کے آگے ایک چھوٹے سے باغیچے میں پھولوں اور کیاریوں کی دیکھ بھال کرنے اور کھیلنے کودنے میں گزرنے لگا۔ والد علی بخش کویہ بات ناگوار گزری اور ایک دن اُنہوںنے مہ جبیں پر پابندی لگا دی۔ مہ جبیں کو بہت غصہ آیا اور اُس نے چڑکر اپنے سامنے والے مکان پر پتھر پھینکنے شروع کر دئیے۔ پڑوسی نے علی بخش سے شکایت کی اور مہ جبیں کو سخت سزا دینے کی مانگ کی۔ مہ جبیں کے یہی پڑوسی آگے چل کر ہندوستانی فلموں کے موسیقار اعظم نوشاد علی بنے۔

اُن دنوں علی بخش بڑی تنگی میں گزر بسر کر رہے تھے۔ پرکاش پکچرس کی فلم ’’لیدر فیس‘‘ (۱۹۳۹ء) وِجے بھٹ کی ہدایت میں بن رہی تھی۔ وِجے بھٹ کو ایک چھوٹی بچی کی ضرورت تھی۔ ایک دوست کے مشورے پر علی بخش مہ جبیں کو لے کر وِجے بھٹ سے ملے۔ اُس وقت مہ جبیں کی عمرمحض چار سال تھی۔ وِجے بھٹ نے مہ جبیں کو بے بی مینا نام دے کر اِس فلم کے لئے پسند کر لیا۔

مہ جبیں کو بچپن سے ہی محرومیوں اور مایوسیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ فلم ’’لیدر فیس‘‘ کے پہلے ہی شاٹ میں بے بی مینا نے کیمرے کے سامنے بڑی آسانی سے قدرتی اَنداز میں شاٹ دیا۔ وِجے بھٹ نے خوش ہوکر بے بی مینا کو اِنعام میں پچیس روپے دئیے۔ اِتنے روپے پاکر علی بخش خوشی خوشی بچی مینا کو گود میں اُٹھائے گھر پہنچے۔ بچی نے سوچا کہ آج ماں سے بھی پیار ملے گا، لیکن جیسے ہی بچی کو باپ کی گود میں دیکھا، ماں اِقبال بیگم نے غصے سے کہا… ’’نیچے اُتر کمبخت! اِتنی بڑی ہو گئی اور گود میں چڑھی ہوئی ہے۔‘‘ بچی کی خوشی کا پھول کمھلا گیا۔ یہ ایک بہت بڑا کلائمکس تھا مہ جبیں کی زندگی کے افسانے کا۔ ’’لیدر فیس‘‘ کے بعد ۱۹۴۰ء میں ’’ایک ہی بھول‘‘، ۱۹۴۱ء میں ’’بہن، کسوٹی، نئی روشنی‘‘، ۱۹۴۲ء میں ’’غریب‘‘،  ۱۹۴۳ء میں ’’پرتگیہ‘‘ اور ۱۹۴۴ء میں ’’لال حویلی‘‘ جیسی فلموں میں بے بی مینا نے بطور چائلڈ آرٹسٹ کافی مقبولیت حاصل کر لی۔

بے بی مینا نے بچپن کی دہلیز سے نکل کر جب جوانی کے میدانِ کارزار میں قدم رکھا تو ہیروئن کے روپ میں جاگیردار اور الطاف کے ساتھ اُس کی ایک فلم شروع ہوئی ’’داداجی‘‘۔ مگر ایک حادثے میں اُس فلم کے تمام نگیٹو جل کر خاک ہو گئے اور اس طرح اس کی بطور ہیروئن پہلی فلم پردے کی زینت بننے سے محروم رہ گئی۔ اِس سے قبل ’’بچوں کا کھیل‘‘ (۱۹۴۶ء)، ’’پیا گھر آجا‘‘ (۱۹۴۷ء)، ’’شری گنیشی مہیما‘‘ (۱۹۵۰)، ’’ہنومان پاتال وِجئے‘‘ (۱۹۵۱ء)، ’’لکشمی نارائن‘‘ (۱۹۵۱ء)، اور ’’الٰہ دین اینڈ دی ونڈر فل لیمپ‘‘ (۱۹۵۲ء) میں بھی وہ کام کر چکی تھی۔ فلم ’’بچوں کا کھیل‘‘ کے ہیرو تھے مشہور مزاحیہ اداکار آغا اور بے بی مینا اَب میناکماری کے نام سے پہچانی جانے لگی تھی۔ ۱۹۵۲ء میں ہی میناکماری فلم ’’مدہوش‘‘ میں پہلی بار ہیروئن بن کر پردۂ سمیں پر جلوہ گر ہوئی۔ موہن ڈیسائی اس فلم کے ہیرو تھے اور جے  بی  ایچ  واڈیا کی ہدایت میں یہ فلم تیار ہوئی تھی۔ فلم ’’مدہوش‘‘ کے فوراً بعد  میناکماری کی فلم’’بیجو باورا‘‘ (۱۹۵۲ء) نمائش کیلئےپیش ہوئی۔ اِس فلم کے ہدایتکار ’’لیدر فیس‘‘ والے وِجے بھٹ ہی تھے اور ہیرو بھارت بھوشن تھے۔ یہ فلم مینا کماری کے لئے میل کا پتھر ثابت ہوئی۔ کیونکہ اِس سے قبل وہ کاسٹیوم ڈراموں اورمذہبی قسم کی فلموں میں ہی کام کرتی رہی تھی۔ فلم ’’بیجو باورا‘‘ نے میناکماری کی زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ اُس میں بہت سی تبدیلیاں آگئی تھیں۔ ۱۹۵۴ء میں جب فلم فیئر ایوارڈ قائم کئے گئے تو اِسی فلم ’’بیجو باورا‘‘ کیلئے میناکماری کو بہترین اداکاری کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اِس فلم کے موسیقار بھی وہی نوشاد علی تھے جن کے گھر پر بچپن میں میناکماری نے پتھر برسائے تھے۔

میناکماری کبھی اسکول نہیں گئی تھی مگر اُس کو اُردو ہندی اور انگریزی کی خاصی معلومات تھی۔ اُسے مطالعہ کا بڑا شوق تھا اور خود شاعری بھی کرتی تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ مشہور کہانی کار، مکالمہ نگار کمال امروہوی سے میناکماری متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ اُن دنوں کمال امروہی کی ہدایت میں بنی فلم ’’محل‘‘ کامیاب ہو چکی تھی۔کمال امروہی بذات خود اچھے ادیب اور شاعر تھے اور میناکماری بھی شاعری کی دیوانی تھی۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ میناکماری کمال امروہی کی شاعری سے متاثر ہوکر ان کی طرف راغب ہوئی ہو۔ جیسا کہ اکثر لوگ کہتے ہیں۔ ’’محل‘‘ کی بے پناہ کامیابی کے بعد اشوک کمار اور کمال امروہی میں بڑی قریبی دوستی ہو گئی تھی اور انہوں نے ’’فلمکار‘‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کر لیا تھا۔ اس ادارے کی پہلی فلم ’’انارکلی‘‘ کی کہانی اور اسکرین پلے کمال امروہی تحریر کر رہے تھے۔ ’’انارکلی‘‘ کے مرکزی کردار کیلئے میناکماری کو کہانی سنانے اور اُس کا کردار سمجھانے کیلئے کمال امروہی دوسری بار اُس کے گھر گئے تھے۔ پہلی بار کمال امروہی سہراب مودی کے کہنے پر اُس کے گھر تب گئے تھے، جب وہ سات یا آٹھ برس کی بچی تھی اور فلم ’’جیلر‘‘ میں ایک چائلڈ رول کے لئے اس کا انتخاب کرنا  تھا۔ بقول کمال امروہی…

’’میناکماری اُس وقت دادر میں اپنے والد کے مکان کے آگے بنے ہوئے چھوٹے سے باغیچے میں کھیل رہی تھی۔ ماسٹر علی بخش نے جب بے بی مینا کو آواز دی تو وہ کیلا کھاتے ہوئے ایسے ہی میرے سامنے آکر کھڑی ہو گئی تھی۔ اس کے پیر مٹی سے گندے ہو رہے تھے اور منہ پر کیلا کھانے کے نشان لگے ہوئے تھے۔ بعد میں ماسٹر علی بخش کے کہنے پر وہ گھر کے اندر گئی اور چہرہ وغیرہ صاف کرکے آئی۔ اس وقت سات آٹھ برس کی مینا کو دیکھ کر ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ آنے والے وقت کی یہ ایک کامیاب ترین اداکارہ بنے گی۔ حالانکہ ’’جیلر‘‘ میں بے بی مینا کو نہیں لیا گیا مگر میں جب بھی ڈبل ڈیکر بس کی اوپری منزل پر بیٹھ کر ملاڈ سے دادر ہوتا ہوا گزرتا تھا، تو میری آنکھیں خود بخود اُس مکان کی پہلی منزل کی طرف اُٹھ جاتی تھیں جہاں مینا رہتی تھی۔ میری یہ بات آنے والے وقت نے ثابت کر دی تھی، کیونکہ بعد میں مینا کماری جیسی جذباتی اداکاری کرنے والی کوئی دوسری اداکارہ نہ تھی۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK