Inquilab Logo Happiest Places to Work

سوشل میڈیا سے دوری نے زندگی بدل دی، تاپسی پنو کا ڈِجیٹل کلچر پر اظہارِ خیال

Updated: June 06, 2026, 10:07 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ اداکارہ تاپسی پنو نے انکشاف کیا ہے کہ سوشل میڈیا سے طویل وقفے نے انہیں حقیقی زندگی سے دوبارہ جڑنے کا موقع دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ٹرینڈز کا حصہ بننے اور آن لائن موجود رہنے کا دباؤ ذہنی طور پر تھکا دینے والا تھا، جس کے باعث انہوں نے سوشل میڈیا کا استعمال محدود کر دیا۔ اداکارہ کے مطابق اس فیصلے سے نہ صرف انہیں ذہنی سکون ملا بلکہ وقت اور ذاتی زندگی پر بھی زیادہ توجہ دینے کا موقع حاصل ہوا۔

Taapsee Pannu. Photo: INN
تاپسی پنو۔ تصویر: آئی این این

بالی ووڈ کی معروف اداکارہ تاپسی پنو نے سوشل میڈیا سے اپنی طویل دوری اور ڈِجیٹل دنیا کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آن لائن سرگرمیوں سے فاصلہ اختیار کرنے کے بعد انہوں نے حقیقی زندگی کو پہلے سے زیادہ قریب سے محسوس کیا۔ اداکارہ نے حال ہی میں اپنے مداحوں سے دوبارہ رابطہ قائم کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر یہ سوال کیا تھا کہ وہ ان سے کس قسم کا مواد دیکھنا پسند کریں گے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے تاپسی پنو نے بتایا کہ گزشتہ برس انہوں نے شعوری طور پر سوشل میڈیا کا استعمال کم کرنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم اس کا باضابطہ اعلان نہیں کیا کیونکہ یہ قدم انہوں نے اپنی ذاتی زندگی اور ذہنی سکون کے لیے اٹھایا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’منفی کردار ادا کرنے والے اداکار اپنی فنکاری کا بہتر مظاہرہ کرتے ہیں‘‘

تاپسی کے مطابق مسلسل ٹرینڈز بنانے یا ان کا حصہ بننے کی دوڑ انہیں ذہنی طور پر تھکا رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ہر وقت آن لائن رہنا ضروری ہو، جبکہ وہ اپنی زندگی جینا چاہتی تھیں اور ہر لمحہ سوشل میڈیا چیک کرنے کی عادت سے نجات حاصل کرنا چاہتی تھیں۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے اپنے موبائل فون سے تمام سوشل میڈیا ایپس حذف کر دیئے اور صرف کبھی کبھار آئی پیڈ کے ذریعے انہیں استعمال کیا۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ انہیں حقیقی زندگی کے معمولات سے لطف آنے لگا اور یہ احساس اتنا خوشگوار تھا کہ وہ سوشل میڈیا سے مزید دور ہوتی چلی گئیں۔ ان کے مطابق فلمی شخصیات کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی نجی زندگی کو مکمل طور پر عوام کے سامنے نہ رکھیں کیونکہ ناظرین کو اداکاروں میں ایک خاص کشش اور تجسس محسوس ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے: سنیل دت جب انٹرویو لینے پہنچے تو نرگس نے کہا: میرے پاس دس منٹ ہیں

انہوں نے بتایا کہ آن لائن سرگرمیوں میں کمی کے بعد انہیں اپنے دن میں نمایاں فرق محسوس ہوا۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر وقت صرف کرنے کے بجائے وہ اپنی روزمرہ زندگی، خاندان اور ذاتی دلچسپیوں پر توجہ دینے لگیں۔ تاہم اس تبدیلی کے بعد انہیں دوستوں، مداحوں اور صنعت سے وابستہ افراد کی جانب سے مسلسل سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا کہ وہ اچانک منظر سے کیوں غائب ہو گئی ہیں۔ تاپسی پنو نے اعتراف کیا کہ سوشل میڈیا سے دوری کے کچھ پیشہ ورانہ اثرات بھی مرتب ہوئے۔ ان کے مطابق انہیں بارہا بتایا گیا کہ کئی برانڈز ان شخصیات کو ترجیح دیتے ہیں جو آن لائن زیادہ متحرک اور نمایاں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات انہیں مشورہ دیا جاتا تھا کہ وہ دوسرے مشہور اداکاروں کی طرح زیادہ پوسٹ کریں تاکہ برانڈز کی توجہ حاصل کر سکیں، لیکن وہ اس سوچ سے اتفاق نہیں کرتیں۔
اداکارہ کے مطابق اگر کوئی برانڈ ان کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے تو اسے ان کی اصل شخصیت کی بنیاد پر ایسا کرنا چاہیے، نہ کہ اس شرط پر کہ وہ کسی اور کی طرح بن جائیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ الگورتھمز اور مقبولیت کی خاطر صداقت کو قربان نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس وقت تاپسی پنو اپنے شوہر Mathias Boe اور خاندان کے ساتھ ڈنمارک میں وقت گزار رہی ہیں۔ ان کے مطابق گرمیوں کے موسم میں فلموں کی شوٹنگ نسبتاً کم ہوتی ہے، اس لیے انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ وعدے مکمل کرنے کے بعد کچھ وقت اہلِ خانہ کے ساتھ گزارنے کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: شویتا ترپاٹھی نے کہا: علی فضل اور نمرت کور کی ترقی دیکھ کر فخر ہوتاہے

اداکارہ نے بتایا کہ ڈنمارک میں وہ روزمرہ کے کام خود انجام دیتی ہیں، جن میں کھانا پکانا، باغبانی، ورزش اور سائیکل پر جا کر ضروری اشیا خریدنا شامل ہے۔ ان کے بقول یہی معمولات انہیں زمین سے جوڑے رکھتے ہیں اور ایک عام انسان کی طرح زندگی گزارنے کا احساس دلاتے ہیں۔ تاپسی نے مزید انکشاف کیا کہ انہوں نے کبھی بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلانے کے لیے کسی پیشہ ور ٹیم کی خدمات حاصل نہیں کیں۔ وہ آج بھی اپنے تمام اکاؤنٹس خود سنبھالتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مصنوعی طور پر تیار کردہ یا حد سے زیادہ مرتب مواد کے بجائے سادہ، غیر فلٹرڈ اور فطری پوسٹس کو ترجیح دیتی ہیں۔
سوشل میڈیا کے موجودہ ماحول پر تبصرہ کرتے ہوئے اداکارہ نے کہا کہ ڈِجیٹل پی آر اور ادا شدہ تشہیر کے بڑھتے ہوئے رجحان نے آن لائن دنیا کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق اب یہ سمجھنا مشکل ہو گیا ہے کہ کون سا مواد حقیقی ہے اور کون سا صرف تشہیری مقاصد کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سوشل میڈیا کا مسلسل استعمال ذہنی دباؤ کا سبب بن سکتا ہے اور اس کے لیے مضبوط ذہنی توازن کی ضرورت ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK