Inquilab Logo Happiest Places to Work

مادھوری دکشت نے شوہر ڈاکٹر شری رام نینے کے ساتھ ہندوستان واپسی کی وجہ بتائی

Updated: June 03, 2026, 9:58 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ اداکارہ مادھوری دکشت نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ سے ہندوستان واپسی صرف کریئر کا نہیں بلکہ خاندان کا بھی فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والدین عمر رسیدہ ہو رہے تھے اور وہ انہیں تنہا نہیں چھوڑنا چاہتی تھیں۔ مادھوری نے اپنے شوہر شری رام نینے کی بھی تعریف کی، جنہوں نے نہ صرف ہندوستانی ثقافت کو اپنایا بلکہ یہاں نئی پیشہ ورانہ زندگی بھی شروع کی۔ اداکارہ کے مطابق، شادی کے بعد ہی انہیں حقیقی معنوں میں زندگی جینے کا موقع ملا۔

Madhuri Dixit. Photo: INN
مادھوری دکشت۔ تصویر: آئی این این

بالی ووڈ کی معروف اداکارہ مادھوری دکشت کو اپنے خاندان کے ساتھ ہندوستان واپس آئے تقریباً ۱۵؍ سال ہو چکے ہیں، لیکن اب انہوں نے اس اہم فیصلے کے پس منظر پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ ۱۹۹۹ء میں امریکی ہارٹ سرجن ڈاکٹر شری رام نینے سے شادی کے بعد مادھوری امریکہ منتقل ہو گئی تھیں، جہاں انہوں نے اپنے دو بیٹوں آرین اور ریان کی پرورش کی۔ اسکرین کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں مادھوری نے بتایا کہ ان کے شوہر کے لیے ہندوستان میں مستقل طور پر رہنا ابتدا میں ایک بڑا تجربہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نینے بچپن میں اپنے دادا دادی سے ملنے کے لیے ہندوستان آیا کرتے تھے، لیکن اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ مصروفیات کے باعث برسوں تک ان کا ہندوستان آنا کم ہو گیا تھا۔

مادھوری کے مطابق، ’’جب ہم ہندوستان واپس آئے تو انہوں نے خود کو مکمل طور پر یہاں کی ثقافت میں ڈبو دیا۔ وہ ہندوستان سے محبت کرتے ہیں، یہاں کے لوگوں کو پسند کرتے ہیں اور ہر نئی چیز کو سیکھنے اور سمجھنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔‘‘ اداکارہ نے بتایا کہ ان کے شوہر نہ صرف طب کے شعبے سے وابستہ ہیں بلکہ فوٹوگرافی، سفر، کھانا پکانے اور ڈجیٹل مواد تخلیق کرنے جیسے مشاغل میں بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر نینے کیمروں اور لینز کے بارے میں اتنا جانتے ہیں کہ اکثر پیشہ ور فوٹوگرافروں سے بھی تکنیکی گفتگو کرنے لگتے ہیں۔ ڈاکٹر نینے نے بعد میں فلمی دنیا میں بھی قدم رکھا اور ۲۰۱۹ء میں مادھوری کے ساتھ مل کر ’’آر این ایم موونگ پکچرز‘‘ کے بینر تلے پروڈکشن کا آغاز کیا۔ اس بینر کے تحت مراٹھی فلمیں ’’۱۵؍ اگست‘‘ اور ’’پنچک‘‘ بنائی گئیں۔

یہ بھی پڑھئے: ڈیوڈ بیکھم کو ہالی ووڈ ’’واک آف فیم‘‘ کا اعزاز

اپنی ازدواجی زندگی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے مادھوری نے کہا کہ شادی سے پہلے ان کی پوری زندگی صرف کام کے گرد گھومتی تھی۔ انہوں نے کہا ’’میں ایک فلم کے سیٹ سے دوسرے سیٹ تک دوڑتی رہتی تھی۔ میری اصل زندگی شادی کے بعد شروع ہوئی۔ اسی وقت مجھے واقعی زندگی جینے کا احساس ہوا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتی ہیں کہ انہیں شری رام نینے جیسا شریک حیات ملا، جس کے ساتھ انہوں نے ایک خوبصورت اور متوازن زندگی گزاری۔

دوسری جانب ڈاکٹر نینے نے بھی ماضی میں اپنے یوٹیوب چینل پر بتایا تھا کہ امریکہ میں کامیاب ہارٹ سرجن کی حیثیت سے اپنا کریئر چھوڑ کر ہندوستان منتقل ہونے کے فیصلے پر ان کے والدین ابتدا میں خوش نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والدین سمجھتے تھے کہ وہ ایک مثالی اور مستحکم زندگی چھوڑ رہے ہیں، لیکن بعد میں انہوں نے ان کے نئے منصوبوں اور کاروباری سرگرمیوں کی حمایت کی۔ ڈاکٹر نینے کے مطابق، انہوں نے محسوس کیا کہ ایک سرجن کے طور پر وہ سالانہ چند سو مریضوں کی مدد کر سکتے ہیں، لیکن صحت سے متعلق ٹیکنالوجی اور میڈیا کے ذریعے کروڑوں لوگوں تک پہنچنا ممکن ہے۔ اسی سوچ نے انہیں ہیلتھ کیئر ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے کی ترغیب دی۔

یہ بھی پڑھئے: رنویـر سنگھ تنازع پر کنگنا نے کہا: جب حیثیت بڑھتی ہے تو دشمن بھی بڑھتے ہیں

مادھوری نے اس سال کے آغاز میں بھی ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ان کے والدین کی عمر بڑھ رہی تھی اور وہ ہندوستان واپس آنا چاہتے تھے۔ چونکہ والدین نے ان کے پورے فلمی سفر میں ساتھ دیا تھا، اس لیے وہ انہیں تنہا چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھیں۔ انہوں نے یاد کیا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب وہ امریکہ اور ہندوستان کے درمیان مسلسل سفر کرتی رہتی تھیں۔ کبھی ممبئی میں شوٹنگ اور پھر فوراً امریکہ واپسی، جس کی وجہ سے زندگی انتہائی مصروف اور تھکا دینے والی ہو گئی تھی۔ یہاں تک کہ فلم ’’دیوداس‘‘ کے مشہور گیت ’’ڈولا ری ڈولا‘‘ کی شوٹنگ کے دوران بھی وہ مسلسل سفر کی وجہ سے شدید تھکن کا شکار تھیں۔ مادھوری کے مطابق، آخرکار انہوں نے اور ان کے شوہر نے محسوس کیا کہ ہندوستان منتقل ہونا پورے خاندان کے لیے بہترین فیصلہ ہوگا۔ ایک طرف ان کے والدین کو سہارا مل گیا اور دوسری جانب ڈاکٹر نینے کو بھی اپنے پیشہ ورانہ سفر میں ایک نئی سمت اختیار کرنے کا موقع ملا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK