Inquilab Logo

مہدی حسن نے موسیقی کونئی سمت اورغزل کی مقبولیت کو نئی بلندیوں پر پہنچایا

Updated: June 23, 2024, 12:47 PM IST | Agency | Mumbai

مہدی حسن نے اردو غزلوں کو اپنی طلسماتی صدا بندی کے ذریعے دنیائے موسیقی میں جو مقام عطا کیا، اسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکےگا۔ غزلوں کو نغمگی اوردوام بخشنے میں مہدی حسن کا کوئی ثانی نہیں۔

Mehdi Hassan. Photo: INN
مہدی حسن۔ تصویر : آئی این این

مہدی حسن نے اردو غزلوں کو اپنی طلسماتی صدا بندی کے ذریعے دنیائے موسیقی میں جو مقام عطا کیا، اسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکےگا۔ غزلوں کو نغمگی اوردوام بخشنے میں مہدی حسن کا کوئی ثانی نہیں۔ وہ ایسے فن کار تھے جن کی مترنم آواز، اسلوب اور موسیقی کی صداقت ہر خاص و عام پر اثر انداز ہوتی ہے۔ دنیائے غزل کے اس شہرہ آفاق گلوکارنے جتنی بھی غزلیں گائیں، وہ شاہکار بن گئیں۔ آج جب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں، دنیائے غزل میں ایک خلا پیدا ہوگیا ہے۔ روح کو تازگی عطاکرنے والی ان کی آواز ہمیشہ زندہ و جاوید رہے گی۔ 
 ۱۸؍ جولائی۱۹۲۷ءکو راجستھان کے علاقے لونا میں پیدا ہونے والے مہدی حسن نے غزل گائیکی کا آغاز کمسنی سے کردیا تھا۔ انہوں نے۸؍ سال کی عمر میں پہلی بار موسیقی کا پروگرام پیش کرکے سامعین کو مسحور کردیا تھا۔ تقسیم ہند کے وقت مہدی حسن ۲۰؍ برس کے تھے۔ ان کا پورا خاندان پاکستان ہجرت کرگیا۔ ہجرت کے تمام مصائب ان کے ساتھ تھے۔ ان کے کنبے کو شدید مالی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ گزربسر اور پیٹ بھرنے کیلئے مہدی حسن نے ایک سائیکل کی دکان میں کام کرنا شروع کیا۔ بعد ازاں وہ کار اور ڈیزل ٹریکٹر کے میکانک بن گئے۔ تمام مشکلات کے بعد موسیقی کے تئیں ان کا جذبہ سرد نہیں پڑا۔ انہوں نے روزمرہ کا ریاض جاری رکھا۔ 
 ۱۹۵۷ءمیں مہدی حسن کو ریڈیو پاکستان پربطور ٹھمری گائک گانے کا موقع ملا۔ موسیقی برادری میں اس ٹھمری گائیکی نے مہدی حسن کو متعارف کرایا۔ وہ اردو شاعری کے بھی دلدادہ تھے۔ انہوں نے جزوقتی بنیاد پر غزل گائیکی شروع کردی۔ مہدی حسن کو اس وقت مقبولیت کی بلندی پر پہنچنے کا موقع ملا جب غزل گائیکی کے بڑے بڑے نام استاد برکت علی خان، بیگم اختر اور مختار بیگم کا سکہ چل رہا تھالیکن مہدی حسن اپنی محنت اور لگن سے ترقی کی منازل طے کرتے گئے اور آبروئے غزل بن گئے۔ غزل گائیکی میں ان کی شاندار خدمات کے عوض انہیں دنیا بھر میں متعدد انعامات سے نوازا گیا۔ پاکستان نے انہیں سب سے بڑے ایوارڈ ’ہلال امتیاز‘ سے نوازا۔ حکومت نیپال نے انہیں گورکھا دکشنا باہو کا ایوارڈ عطا کیا جبکہ ہندوستان میں انہیں ’سہگل ایوارڈ‘ سے نوازاگیا۔ 
 مہدی حسن کو موسیقی ورثے میں ملی تھی۔ وہ خود کو کلونت گھرانے کی سولہویں نسل کہتے تھے۔ انہوں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم والدعظیم خان اورچچااسماعیل خان سے حاصل کی۔ ریڈیو پر ان کی پہلی مشہور غزل’’گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے‘‘ تھی۔ فلمی گائیکی کی ابتدا فلم ’شکار‘ سے کی۔ انہوں نے موسیقی کونئی سمت اور صنف غزل کو نئی بلندیوں پر پہنچایا۔ معروف شاعر احمد فراز کی غزل’’ اب کہ ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں /جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں ‘‘ اور میر تقی میر کی غزل’’پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہماراجانے ہے/ جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے‘‘ کو مہدی حسن نے اپنی صدابندی کے ذریعہ بہت خوب صورت اور مترنم آواز میں لوگوں تک پہنچایا۔ اس کے بعد تو لوگ ان کے دیوانے ہوگئے۔ 
 مہدی حسن اور لتامنگیشکر کا ڈویٹ گانا’’تیرا ملنا‘‘تو لوگوں میں اس قدر مقبول ہوا کہ زبان زد عام ہوگیا۔ اس گانے کی خاص بات یہ تھی کہ ڈویٹ ہونے کے باوجود اسے مہدی حسن اور لتامنگیشکر نے الگ الگ وقتوں میں گایا۔ مہدی حسن نے۲۰۰۹ء میں اس گانے کو پاکستان میں ریکارڈ کرایاجبکہ ملکہ لتامنگیشکر نے۲۰۱۰ءمیں اسے ہندوستان میں ریکارڈ کرایا۔ بعد میں اسے ڈویٹ کی طرح بنایاگیا۔ اسے ’سرحدیں ‘نامی البم میں جاری کیا گیا۔ کہا جاتاہے کہ یہ ان کا آخری نغمہ تھا۔ 
 لتامنگیشکر نے مہدی حسن کے بارے میں کہا تھا کہ ان کے گلے میں بھگوان بولتا ہے۔ 
 مہدی حسن۱۳؍جون ۲۰۱۲ء کو طویل علالت کے بعد اس جہان فانی سے کوچ کرگئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK