• Wed, 07 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایک اور یادگار شاہکار کے بعد میسی نے آنسوؤں کے ساتھ ارجنٹائنا کو الوداع کہہ دیا

Updated: October 07, 2026, 5:07 PM IST | Buenos Aires

ارجنٹائنا کے عظیم فٹبالرلیونل میسی نے اپنی قومی ٹیم کے لیے اپنے شاندار کریئر کے ایک اور جذباتی باب کا اختتام آنکھوں میں آنسو لیے کیا۔ ارجنٹائنا کی سرزمین پر اپنے آخری بڑے مظاہرے میں میسی نے ایک مرتبہ پھر اپنی غیر معمولی صلاحیت، تجربے اور کھیل پر گرفت کا شاندار نمونہ پیش کیا۔

Lionel Messi.Photo:X
لیونل میسی۔ تصویر:ایکس

ارجنٹائنا کے عظیم فٹبالرلیونل میسی  نے اپنی قومی ٹیم کے لیے اپنے شاندار کریئر کے ایک اور جذباتی باب کا اختتام آنکھوں میں آنسو لیے کیا۔ ارجنٹائنا کی سرزمین پر اپنے آخری بڑے مظاہرے میں میسی نے ایک مرتبہ پھر اپنی غیر معمولی صلاحیت، تجربے اور کھیل پر گرفت کا شاندار نمونہ پیش کیا، لیکن میچ کے اختتام پر خوشی سے زیادہ جذبات ان کے چہرے پر نمایاں تھے۔
میسی نے میدان میں اپنی آخری پیشی کو بھی ایک یادگار کارکردگی میں تبدیل کردیا۔ انہوں نے گیند پر اپنی گرفت، درست پاسیز، دفاعی حصار کو توڑنے کی صلاحیت اور گول کرنے کے مواقع پیدا کرکے ثابت کیا کہ عمر بڑھنے کے باوجود ان کی فٹبال ذہانت اور معیار میں کوئی کمی نہیں آئی۔ شائقین نے ہر لمس، ہر پاس اور ہر خطرناک حملے پر زبردست داد دی، جبکہ میچ کے اختتام پر اسٹیڈیم کا ماحول انتہائی جذباتی ہوگیا۔

یہ بھی پڑھئے:اجے دیوگن کی’’دِرِیشیم ۳‘‘ نے دنیا بھر میں ۳۴۱؍ کروڑ روپے کا ہندسہ پار کرلیا

میچ ختم ہونے کے بعد میسی کچھ دیر میدان میں کھڑے رہے اور شائقین کی جانب دیکھا۔ ان کے چہرے پر جذبات صاف دکھائی دے رہے تھے اور آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ ارجنٹائنا کے شائقین نے بھی اپنے محبوب کپتان کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا اور نعرے لگا کر انہیں الوداع کہا۔ یہ منظر اس غیر معمولی سفر کی یاد دلا رہا تھا جس میں میسی نے کامیابی، ناکامی، تنقید اور پھر عالمی شہرت کی بلند ترین منزل تک پہنچنے کا سفر طے کیا۔
میسی کا ارجنٹائنا کے ساتھ سفر ہمیشہ آسان نہیں رہا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہیں قومی ٹیم کے ساتھ مسلسل ناکامیوں کے باعث شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ بڑے بین الاقوامی فائنلز میں شکست کے بعد میسی نے قومی ٹیم سے ریٹائرمنٹ کا اعلان بھی کیا تھا، لیکن بعد میں واپسی کرتے ہوئے انہوں نے اپنی ٹیم کو ایک کے بعد ایک تاریخی کامیابی دلائی۔
میسی کی قیادت میں ارجنٹائنا نے ۲۰۲۱ء میں کوپا امریکہ  کا ٹائٹل جیت کر طویل انتظار ختم کیا۔ اس کے بعد ۲۰۲۲ءمیں فائنلسیما کی فتح اور پھر قطر میں ہونے والے عالمی کپ میں ورلڈ کپ ٹرافی نے میسی کے قومی کریئر کو وہ بلندی فراہم کی جس کا ان کے مداح برسوں سے انتظار کر رہے تھے۔ عالمی کپ فتح کے بعد میسی کو دنیا کے عظیم ترین فٹبالرز میں شمار کرنے والوں کی تعداد مزید بڑھ گئی اور ان کا نام ارجنٹائنا کی فٹبال تاریخ میں ہمیشہ کے لیے درج ہوگیا۔

یہ بھی پڑھئے:ارجنٹائنا کے شائقین نے میسی کی الوداعی تقریب میں’’اصلی گوٹ‘‘ کو میدان میں اتار دیا

قومی ٹیم کے لیے میسی کی سب سے بڑی پہچان صرف ان کے گول یا ریکارڈز نہیں بلکہ میدان میں ان کی قیادت، تخلیقی صلاحیت اور مشکل لمحات میں ٹیم کو سنبھالنے کی صلاحیت بھی رہی ہے۔ انہوں نے کئی نسلوں کے شائقین کو اپنی فٹبال سے متاثر کیا اور ارجنٹائنا کو ایک ایسے دور میں کامیابیاں دلائیں جب ٹیم پر طویل عرصے سے ٹائٹل جیتنے کا دباؤ موجود تھا۔ اس آخری مظاہرے کے دوران شائقین کے لیے یہ احساس بھی غالب تھا کہ وہ شاید اپنے قومی ہیرو کو ارجنٹائنا کی جرسی میں آخری بار میدان میں دیکھ رہے ہیں۔ میسی کی آنکھوں میں آنسو اور شائقین کی جذباتی آوازوں نے اس لمحے کو مزید یادگار بنا دیا۔ ارجنٹائنا کی جرسی میں ان کا سفر اب اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے، لیکن ان کی میراث آنے والی نسلوں تک زندہ رہے گی۔
میسی نے ارجنٹائنا کو صرف فٹبال کی کامیابیاں نہیں دیں بلکہ ایک ایسا جذباتی تعلق بھی قائم کیا جو کھیل سے کہیں آگے ہے۔ جس کھلاڑی نے کبھی ناکامی کے بعد شدید تنقید برداشت کی تھی، اسی نے بالآخر اپنے ملک کو عالمی چیمپئن بنایا اور کروڑوں شائقین کے خواب کو حقیقت میں تبدیل کیا۔اسی لیے میسی کا یہ الوداع محض ایک فٹبالر کی رخصتی نہیں بلکہ ارجنٹائنا کی فٹبال تاریخ کے ایک عظیم عہد کے اختتام کی علامت بن گیا۔ آخری بار قومی جرسی میں شاندار کھیل پیش کرنے کے بعد آنسوؤں کے ساتھ میدان سے رخصت ہوتے میسی نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ عظمت صرف ٹرافیوں اور ریکارڈز کا نام نہیں، بلکہ اپنے ملک اور شائقین کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنانے کا نام بھی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK