مدھیہ پردیش کی نمائندگی کرتے ہوئے ٹاپ۲۰؍ میں پہنچنے والی کلاؤڈ انجینئر نے ریمپ کے چند ہفتوں بعد بنگلورو کے گوگل کیمپس میں معمول کی ملازمت سنبھالی؛ ایک منٹ کی ویڈیو میں جم، کام، لنچ اور چائے کا معمول دکھایا۔
EPAPER
Updated: September 16, 2026, 6:05 PM IST | New Delhi
مدھیہ پردیش کی نمائندگی کرتے ہوئے ٹاپ۲۰؍ میں پہنچنے والی کلاؤڈ انجینئر نے ریمپ کے چند ہفتوں بعد بنگلورو کے گوگل کیمپس میں معمول کی ملازمت سنبھالی؛ ایک منٹ کی ویڈیو میں جم، کام، لنچ اور چائے کا معمول دکھایا۔
مس یونیورس انڈیا ۲۰۲۶ء کے مقابلے میں مدھیہ پردیش کی نمائندگی کرکےٹاپ ۲۰ء تک پہنچنے والی اُمانگا کُماوت نے مقابلے کے چند ہفتوں بعد دوبارہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا رخ کرلیا ہے۔ بنگلورو میں گوگل کے ساتھ بطور کلاؤڈ انجینئر کام کرنے والی اُمانگا نے ۱۴؍ ستمبر کو ایک منٹ کی ’’Day in My Life‘‘ ویڈیو شیئر کی، جس میں انہیں دوبارہ دفتر جاتے، ورزش کرتے، کام کرتے اور کیمپس کی کینٹین میں کھانا کھاتے دیکھا جاسکتا ہے۔
اُمانگا نے ۲۳؍ اگست کو جے پور میں منعقدہ مس یونیورس انڈیا ۲۰۲۶ء کے قومی فائنل میں حصہ لیا تھا۔ ۵۲؍ امیدواروں کے مقابلے میں وہ ٹاپ ۲۰؍ تک پہنچیں، جبکہ کیرالا کی کازیا لِز میجیا نے قومی خطاب جیتا۔ میجیا نومبر میں پورٹو ریکو میں ہونے والے ۷۵؍ ویں مس یونیورس مقابلے میں ہندوستان کی نمائندگی کریں گی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ٹشن‘‘ کیوں فلاپ ہوئی تھی؟ ۱۸؍ سال بعد سیف علی خان نے فلم کی اصل کمی بتائی
مقابلے کے بعد اُمانگا نے ماڈلنگ یا شوبز کی جانب مستقل رخ کرنے کے بجائے گوگل کی اپنی ملازمت جاری رکھی۔ ان کی ویڈیو کا آغاز صبح تقریباً ۹:۳۰؍ بجے ہوتا ہے، جب وہ دفتر جانے کے لیے لباس کا انتخاب کرتی ہیں۔ وہ سیاہ ٹاپ اور سرخ پتلون پہن کر لیپ ٹاپ، بیگ اور ایئر بڈز کے ساتھ گوگل کیمپس روانہ ہوتی ہیں۔
دفتر پہنچنے کے بعد ان کا پہلا پڑاؤ ڈیسک نہیں بلکہ کمپنی کا فٹنس سینٹر ہوتا ہے۔ تقریباً ۱۰:۳۰؍ بجے وہ ٹریڈمل پر ورزش کرتی ہیں، اس کے بعد اسٹریچنگ اور ٹانگوں کی ورزش کرتی نظر آتی ہیں۔ مختصر سی تیاری کے بعد وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہوجاتی ہیں۔
تقریباً ۱۲:۳۰؍ بجے اُمانگا لیپ ٹاپ کھول کر دستاویزات کا جائزہ لیتے ہوئے کام شروع کرتی ہیں۔ ان کی ویڈیو میں دفتر کے مختلف حصوں میں کام کرنے کی جھلک بھی ملتی ہے۔ دوپہر تقریباً ۲:۱۰؍ بجے وہ گوگل کی کینٹین میں لنچ کرتی ہیں، جہاں بریانی، پھل اور میٹھے سمیت متعدد چیزیں دستیاب دکھائی دیتی ہیں، تاہم اُمانگا نے نوڈل سوپ اور سبزیوں پر مشتمل نسبتاً ہلکا کھانا منتخب کیا۔
لنچ کے بعد وہ تقریباً ۳؍ بجے دوبارہ کام پر لوٹتی ہیں۔ شام ۴:۳۰؍ بجے وہ کیمپس کے ایک پرسکون حصے میں چلی جاتی ہیں، جہاں بڑی کھڑکیوں کے قریب بیٹھ کر لیپ ٹاپ پر کام جاری رکھتی ہیں۔ تقریباً ۵:۳۰؍ بجے ان کے دن میں چائے یا گرم مشروب کا وقفہ آتا ہے، جس کے بعد وہ لفٹ کی جانب جاتے ہوئے نظر آتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:کرینہ کپور اور سیف علی خان کام پر کیوں ’لڑتے‘ ہیں؟ اداکارہ کا انکشاف
اُمانگا کا پیشہ ورانہ تعارف بھی محض ایک عام انجینئر تک محدود نہیں ہے۔ ان کے عوامی LinkedIn پروفائل کے مطابق وہ گوگل میں کلاؤڈ انجینئر کے طور پر کام کرتی ہیں اور کلاؤڈ ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ ایپلی کیشن ڈیولپمنٹ اور Generative AI سے متعلق تجربہ رکھتی ہیں۔ ان کے پروفائل میں گوگل کلاؤڈ سے متعلق پیشہ ورانہ سرٹیفکیشن اور تکنیکی موضوعات پر کام کا بھی ذکر ہے۔
اُمانگا کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ شناخت ان کے ماڈلنگ کے سفر سے پہلے ہی قائم تھی۔ وہ سینٹ جوزفس سینئر سیکنڈری اسکول، بھوپال میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ABV-IIITM، گوالیار سے کمپیوٹر نیٹ ورکنگ میں ماسٹرز کرچکی ہیں۔ گوگل کلاؤڈ کمیونٹی پر ان کی تکنیکی تحریروں اور مصنوعی ذہانت و کلاؤڈ ٹیکنالوجی سے متعلق دلچسپی کا بھی ذکر ان کے عوامی پیشہ ورانہ پروفائل کے حوالے سے کیا گیا ہے۔
ان کی حالیہ ویڈیو کی خاص بات یہی ہے کہ اس میں مس یونیورس مقابلے کی چمک دمک کے بجائے ایک ٹیک پروفیشنل کی روزمرہ زندگی دکھائی گئی ہے۔ چند ہفتے پہلے وہ قومی حسن مقابلے کے اسٹیج پر تھیں، جبکہ اب ان کے دن کا بڑا حصہ کوڈ، دستاویزات، ورزش، کینٹین اور دفتر کے معمول میں گزر رہا ہے۔
اُمانگا کی کہانی اس لیے بھی نمایاں ہوئی کہ قومی سطح کے حسن مقابلے میں شرکت کے بعد بھی انہوں نے اپنی پہلے سے قائم ٹیکنالوجی کیریئر کو ترک نہیں کیا۔ ان کی تازہ ویڈیو میں کسی نئے ماڈلنگ منصوبے یا فلمی اعلان کے بجائے گوگل کیمپس میں ایک عام کام کے دن کی جھلک پیش کی گئی ہے، جس نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کی۔