• Wed, 16 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دُرگا پوجا کے پہلے مچھلی اور مٹن پرتنازع

Updated: September 16, 2026, 5:31 PM IST | Parvez Hafeez | Mumbai

درگا پوجا سے ایک ماہ قبل کلکتہ میں باگیشوردھام بابا کے مچھلی اور مٹن کے خلاف دیئے گئے بیان نے صوبے میں ہلچل مچادی ہے۔ لوگ اس بات پر ناراض ہیں کہ مدھیہ پردیش سے آکر کوئی بابا انہیں یہ گیان کیوں دے رہا ہے کہ وہ درگاپوجا کیسے منائیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

دھریندر کرشن شاستری جو باگیشور دھام بابا کے نام سے مشہور ہیں نے کلکتہ میں یہ بیان دے کر ایک بڑا تنازع کھڑا کردیا کہ درگا پوجا کے پنڈالوں کے باہر گوشت اور مچھلی کھانے والے بنگالی ہندو دراصل ’’پاکھنڈی‘‘ ہیں اس لئے ان کابائیکاٹ کیا جانا چاہئے۔ بابا جی نے نان ویج کھانوں کو ’’گندے بھوجن‘‘ بھی قرار دیا۔وزیر اعظم نریندر مودی نے پچھلے سال مدھیہ پردیش میں باگیشور دھام کی زیارت کی تھی اوربابا جی کو’’ چھوٹا بھائی‘‘ کہ کر مخاطب کیا تھا۔ بابا کے بنگال دورہ پر خود وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے ان کا سواگت کیا، ان کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا نیز بابا کے متنازع بیان کا دفاع بھی کیا۔  
دُرگا پوجابنگال کا سب سے بڑا مذہبی تہوار ہی نہیں سب سے بڑی معاشرتی اور ثقافتی تقریب بھی ہے۔درگا پوجا سے ایک ماہ قبل دیئے گئے بابا کے اس بیان نے صوبے میں ہلچل مچادی۔ لوگ اس بات پر ناراض ہیں کہ مدھیہ پردیش سے آکر کوئی بابا انہیں یہ گیان کیوں دے رہا ہے کہ وہ درگاپوجاکیسے منائیں۔ بنگالی صرف عام دنوں میں ہی نہیں درگا پوجا کے دوران بھی نان ویج کھانوں سے پرہیز نہیں کرتے ۔ گوشت اور مچھلی انکی روزمرہ کی زندگی کا ہی نہیں دھارمک تہواروں کا بھی اٹوٹ حصہ ہے۔ درگا پوجا میں گوشت اور مچھلی نہ صرف کھائی جاتی ہے بلکہ کئی گھروں پوجا کی تھالی میں دیوی کو اسکا ’’بھوگ‘‘ بھی پیش کیا جاتا ہے۔ بنگالیوں کی برہمی کو بھانپتے ہوئے بی جے پی صدر شمیک بھٹاچاریہ نے صفائی دی کہ حکومت یا پارٹی کو لوگوں کے گوشت اور مچھلی کھانے سے کوئی پریشانی نہیں ہے اور جس کا جو دل چاہے کھاسکتا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کالی گھاٹ مندر میں جاکر پوجا کی اور دیوی ماں کاوہ بھوگ بھی کھایا جس میں تلی ہوئی مچھلی کا سر بھی شامل تھا۔ لیکن یہ سب دکھانے کی باتیں تھیں۔یہ سبھی جانتے ہیں کہ بی جے پی جو کام خود نہیں کرتی ہے اسے دوسری ذیلی ہندوتواوادی تنظیموں کے حوالے کردیتی ہے۔بی جے پی اعتراف کرے یا نہ کرے اسے بنگالیوں کی گوشت خوری کی عادت پسند نہیں ہے۔پہلے مسلمانوں کو ان کی غذائی ترجیحات کی وجہ سے معتوب کیا گیا اور اب ہندوؤں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی عمارت سانحہ اور مخدوش عمارتیں

درگا پوجا کے موقع پر لوگوں کو گوشت خوری ترک کرنے کے بابا کے حکم دینے کے پہلے وشوہندو پریشدنے بھی یہی ہدایت جاری کی تھی۔ وشو ہندو پریشد کے سوامی نرگن آنند نے پانچ سو سے زیادہ پوجا کمیٹیوں کے نمائندوں کے ساتھ ایک میٹنگ کی اور انہیں درگا پوجا میں خصوصی ضوابط و قوائدکی پاسداری کی تلقین کی۔ بنگال میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ مذہبی عقیدہ افراد کا ذاتی معاملہ ہے لیکن جہاں تک تہواروں کا سوال ہے تو ان میں سبھی حصہ لے سکتے ہیں۔ کثیر الثقافت اور سیکولر بنگال کی اسی قابل تعریف اسپرٹ کی وجہ سے ہر سال درگا پوجا میں دوسرے مذاہب کے لوگ بھی شرکت کرتے ہیں۔ مورتیوں کی سجاوٹ ہو یا پنڈالوں کی بناوٹ،درگا پوجا میں مسلم کاریگروں اور فنکاروں کی شمولیت پر کبھی کسی کو اعتراض نہیں ہوتا۔متعدد پوجا کمیٹیوں کے اراکین کی فہرست میں مقامی مسلم افراد کے نام بھی شامل رہتے ہیں۔ 
 بنگال میں درگا پوجا کے حوالے سے’’ سربوجانن‘‘ (سبھوں کے لئے)کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ بی جے پی کے راج میں اب ہندو تنظیمیں یہ مطالبہ کررہی ہیں کہ دوسرے مذہب کے لوگوں کو درگا پوجا میں حصہ لینے کی اجازت نہ دی جائے۔’’سربو جانن‘‘ کی اصطلاح تک پر پابندی لگائی جارہی ہے۔اب تک گجرات، مدھیہ پردیش اور راجستھان جیسے صوبوں میں نوراتری کی تقریبات سے مسلمانوں کو دور رکھا جاتا تھا، بی جے پی شاید درگا پوجا کو نوراتری بنانے میں لگی ہے کیونکہ  نوراتری کے موقع پر شمالی اور مغربی بھارت میں نان ویج کھانوں سے پوری طرح پرہیز کیا جاتا ہے۔ شاید باگیشور بابا بنگال کے لوگوں کو بھی سبزی خور بنانے کا تجربہ کررہے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی کی حکمت عملی اور بڑھتی مقبولیت

 یوں توکسی بھی صوبے میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد نئی حکومت کئی بار اپنی پیش رو حکومت کے چند فیصلوں کویا تو یکسر مسترد کردیتی ہے یا ان میں کچھ تبدیلیاں کرکے انہیں جاری رکھتی ہے۔ بنگال میں شوبھیندو ادھیکاری کی قیادت والی پہلی بی جے پی حکومت کوتبدیلیاں کرنے کی بڑی جلدی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ یہ تبدیلیاں صرف انتظامی نہیں ہیں۔ بی جے پی بنگال کو ہندوتوا کے رنگ میں پوری طرح رنگنے کے لئے بے قرار ہے ۔صرف صوبے کو ہی نہیں بی جے پی بنگال باسیوں کو بھی بدل دینے پر مصر ہے۔ترقی پسند، روادار اور روشن خیال بنگال کو متعصب، تنگ نظراور سخت گیر ریاست میں تبدیل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔بی جے پی بنگال کو شاید اتر پردیش بنانے پر آمادہ ہے اور شوبھیندو خود کویوگی آدتیہ ناتھ اور ہیمنت بسوا سرما کے ملے جلے قالب میں ڈھالنے میں مصروف ہیں۔
ابھی چند روز قبل وزیر اعلیٰ نے ناگا سادھوؤں کوساتھ لے کر جادوپور یونیورسٹی کے باہر ’’گیروا سمان یاترا‘‘ نکالی۔ملک کے کسی صوبے کے سربراہ نے پہلے کبھی اس طرح کی ریلی نہیں نکالی ہوگی۔ جادو پور یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس اور پروفیسرز  کے لبرل اور بائیں بازو کے  نظریات کی وجہ شوبھیندو  ان سے بے حد خفا ہیں۔انہوں نے حال میں اعلان کیا ہے کہ نومبر اور دسمبر میں بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں ہنومان چالیسا اور گیتا کا پاٹھ کروایا جائیگا جن میں لاکھوں لوگ شرکت کرینگے۔ سوال یہ ہے کہ ایک سیکولر جمہوری ملک میں کیا کوئی ریاستی حکومت اس طرح کے مذہبی پروگرام منعقد کرواسکتی ہے؟ جواب یہ ہے کہ بنگالیوں نے بی جے پی کو ووٹ تو دیا لیکن  اندھ بھکت نہیں بن سکے ہیں۔ اس طرح کے مذہبی برین واش کے ذریعہ حکمراں پارٹی شاید اس ادھورے مشن کو پورا کرنا چاہتی ہے۔مشکل یہ ہے کہ سناتنی ہندوؤں کی خود ساختہ نمائندہ یہ حقیقت سمجھنے کو تیار نہیں ہے کہ بنگال کے ہندو شمالی یا مغربی ہند کے ہندوؤں سے الگ ہیں۔بنگالی ہندوؤں کے پرب تہوار،رسم و رواج، زبان و ادب، غذااور لباس اترپردیش، مدھیہ پردیش یا گجرات سے مختلف ہیں۔ جو چیز بنگالیوں کو دوسرے ہندوؤں سے بالکل منفرد بناتی ہے وہ ہے ان کی گوشت اور ماہی خوری۔ مچھلی کا قتلہ یا گوشت کی بوٹی کے بغیر بنگالی کے پلیٹ کا تصور ادھورا ہے۔ بنگالی نسلی طور پر مچھلی اور مٹن کے شوقین ہیں اور تقریباً تین دہائیوں سے بنگالیوں کی مرغوب ڈش مٹن بریانی ہوگئی ہے۔ کلکتہ میں ایسے بنگالی ہندو بھی ہیں جو بیف سے بھی رغبت رکھتے ہیں۔
 پس نوشت: اسمبلی انتخابات سے قبل ممتا بنرجی نے بنگال باسیوں کو اس ممکنہ خطرے سے آگاہ کردیا تھا کہ  بھارتیہ جنتا پارٹی اگر اقتدار میں آئی تو گوشت اور مچھلی کھانے پر پابندی عائد کرسکتی ہے کیونکہ زعفرانی پارٹی بنگال کی تہذیب وثقافت اور لوگوں کی غذائی ترجیحات سے ناواقف ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK