• Wed, 16 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے آئی کتنی ہرجائی!

Updated: September 16, 2026, 5:34 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

اینتھروپک کے تحقیق کار جیکب کاکسون کے بعد ڈیپ مائنڈ(گوگل) کے ریسرچر جوش اِنگلز نے بھی اپنے ادارہ کو خیرباد کہہ دیا اور ایک دوسرا ادارہ ایم ای ٹی آر جوائن کرلیا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

اینتھروپک کے تحقیق کار جیکب کاکسون کے بعد ڈیپ مائنڈ(گوگل) کے ریسرچر جوش اِنگلز نے بھی اپنے ادارہ کو خیرباد کہہ دیا اور ایک دوسرا ادارہ ایم ای ٹی آر جوائن کرلیا ہے۔ اس اطلاع کو مشتہر کرتے ہوئے انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر طویل پیغام جاری کیا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ ’’ مَیں جتنا عرصہ ڈیپ مائنڈ سے وابستہ رہا، اپنی ذمہ داری کی انجام دہی کو انجوائے کرتا رہا، لطف اندوز ہوتا رہا۔ اِس دوران مَیں نے اینتھروپک  اور اوپن اے آئی کی پیشکش بھی ٹھکرا دی۔ (مسئلہ یہ ہے کہ) اے آئی کمپنیوں کی تحقیق کا مرکز سپر انٹیلی جنس ہے، جو ہر محاذ پر انسانوں سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریگی مگر ہمیں اب تک یہ علم نہیں ہے کہ اے آئی کو کس طرح انسانوں کیلئے محفوظ بنایا جائے۔‘‘ گزشتہ ہفتے ہی کی بات ہے جب اینتھروپک کے تحقیق کار جیکب کاکسون نے علاحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اے آئی کی پیش رفت اسی رفتار سے جاری رہی تو دس سال میں انسانیت تباہ ہوسکتی ہے۔ اب جوش اِنگلز کہہ رہے ہیں کہ ’’اگر اے آئی کی خود کو بہتر بنانے کی صلاحیت تسلسل کے ساتھ بڑھتی رہی اور اے آئی زیادہ ذہین اور فعال اے آئی کی تخلیق کرتی رہی تو انسانیت کیلئے حیران کن مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے:راہل گاندھی کی حکمت عملی اور بڑھتی مقبولیت

جوش اِنگلز کے مشاہدہ اور احساس کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ اے آئی کے شعبے سے ملنے والی اطلاعات شاہد ہیں کہ اے آئی کے ماڈل ایک دوسرے سے متصادم ہیں،کمپنیوں کا سسٹم ہیک کررہے ہیں اور اپنے نشانات مٹا دینے میں کامیاب ہیں۔ جوش کے بقول ایسا نہیں کہ یہ ماڈل بہت خطرناک ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ تحقیق کار نہیں جانتے کہ ان ماڈل اور سسٹم کو کس طرح محفوظ بنایا جائے۔ یاد رہنا چاہئے کہ کاکسون اور جوش سے قبل اینتھروپک کے سی ای او داریو اَمودی نے اپنے مضامین میں تحقیق کاروں کو اے آئی کی پیش رفت کی رفتار کم کرنے کا مشورہ دیا تھا ۔ انہوں نے بھی اے آئی کے خطرناک ہوتے چلے جانے اور ایک دہائی میں انسانیت کو تباہ کردینے کی صلاحیت حاصل کرلینے کے خدشہ کا اظہار کیا تھا۔ 

دو ماہ قبل (جولائی ۲۶ء) میں ۲۷۲؍ ماہرین نے اے آئی کی خطرناک صلاحیت سے فکرمند ہوکر پانچ بڑے خدشات کا اظہار کیا تھا جن میں مسابقتی حرکیات، ہتھیار اور سائبر حملے، طاقت کا ارتکاز اور اے آئی کے ذریعہ غلط یا گمراہ کن معلومات کا پھیلاؤ شامل تھا۔ اِن خطرات کے خلاف کوئی پیش بندی نہ تو ہوئی نہ ہی ہورہی ہے کیونکہ فی الحال، کمپنیاں اے آئی پر پیسہ جھونکنے میں لگی ہوئی ہیں۔  ماہرین بتا چکے ہیں کہ ۲۰۲۶ء تک ایک تا ڈھائی کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوچکی ہوگی۔ سرمایہ کاری سے دلچسپی کا معنی منافع سے دلچسپی ہے۔ ایک آدھ کمپنی بھی نہیں چاہے گی کہ اس کا پروجیکٹ محض اس لئے رُک جائے کہ اے آئی خطرناک ہورہا ہے۔ اُس کی سرمایہ کاری کی رقم جب تک منافع کے ساتھ وصول نہیں ہوجاتی اُسے نہ تو اخلاقیات سے دلچسپی ہوگی نہ ہی انسانیت کے خطرات سے۔ حکومتیں بھی ان پروجیکٹوں کو روکنا نہیں چاہیں گی جن کے مفادات سرمایہ داروں کے مفادات سے جدا نہیں۔ ایسے میں اے آئی کے ہلاکت خیز ہونے کے خطرہ پر کون توجہ دیگا! 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK