محمد رفیع : دنیا کے عدیم النظیر گلوکار

Updated: December 25, 2020, 1:32 PM IST | Dr.Humayun Ahmed | Mumbai

محمد رفیع عالم موسیقی کیلئے قدرت کی طرف سے ایک معجزہ تھے۔ بھاگ دوڑ والے اس بے حِس دور میں بھی ان کے زندہ ترانوں کی تازگی حیات کے ہونےکا احساس جگا دیتی ہے۔مشکل سے مشکل نغموںمیں بھی ان کی آواز کی دلکشی اور مٹھاس کو دیکھ کر موسیقی کی بڑی بڑی ہستیاں عش عش کراٹھتی ہیں۔ محمدرفیع کے یوم پیدائش کےموقع پر خصوصی تحریر

Mohammad Rafi.Picture :INN
محمد رفیع۔ تصویر:آئی این این

 رفیع صاحب کو گزرے چالیس سال سے بھی زیادہ کاعرصہ گزریا مگر آج بھی ان کے نغموں میں اتنی ہی کشش باقی ہے، ویسا ہی شباب برقرارہے۔یاد کرنےپر دل بے ساختہ کہہ اٹھتا ہے محمد رفیع عالم موسیقی کے لیے قدرت کی طرف سے ایک نایاب معجزہ تھے۔ بھاگ دوڑ والے اس بے حِس دور میں بھی ان کے زندہ ترانوں کی تازگی حیات کے ہونےکا احساس جگا دیتی ہے۔مشکل سے مشکل اتار چڑھائو والے گانوں میں بھی ان کی آواز کی دلکشی اورمٹھاس کو دیکھ کر موسیقی کی بڑی بڑی ہستیاں عش عش کراٹھتی ہیں۔ سنجیدگی سے دیکھاجائے تو محمد رفیع کے نغموں کی ہمہ گیریت کا پوری دنیامیں کوئی ثانی نہیں۔  محمد رفیع کے فلمی سفر کا آغاز سن ۴۰؍کے وسط میں ہوا۔ آواز میں موجود لافانی کشش اور اپنی دلفریب اندازِ ادائیگی کی بدولت وہ بہت جلد بلندی کے اعلیٰ ترین مقام پر پہنچ گئے۔ اس وقت سنیما ہال ، ریڈیو اور لائوڈ اسپیکر کازمانہ تھا۔ مسلسل ۳؍دہائیوں تک کچھ پڑوسی سمیت پورے ملک میں رفیع صاحب کے نغموں کی ایسی والہانہ دھوم تھی گویاوہ روزانہ کے معمول کا ایک حصہ بن گئے ہوں۔ ہر جگہ ہر موقع پر رفیع صاحب کے مختلف رنگوں والے نغموں کی گونج فضامیں چھائی رہتی تھی۔ نہ جانے کتنے پشتوںکے لوگ رفیع صاحب کے رومانی گانوں کے دریا میں ڈوب کر بچےسے جوان ہوگئے۔ 
 رفیع صاحب کی شخصیت میں ایک بات حیرت انگیز حد تک غیر معمولی تھی۔ شہرت کی بلندی کی انتہا کو چھونے والے رفیع صاحب کے اندر انانیت یاتکبر ذرہ برابر بھی نہیں تھا۔ ایک اعلیٰ درجہ کے نیک دل اور خوش مزاج انسان کے طور پر رفیع صاحب کی شناسائی میں سوفیصد اتفاق رائے پایاجاتا ہے۔ اس پایہ کا غیر معمولی اعزاز کسی فن کار کے حصے میں کبھی نہیں دیکھاگیا۔ نہایت ہی سادہ فطرت والے اس انسان کے چہرے پر ہمیشہ ایک معصوم مسکراہٹ بنی رہتی تھی۔ رفیع صاحب کے زیادہ تر گانوں میں ان کے چہرے کی طرح ان کی آواز بھی مسکراتی ہے ۔ مختلف انداز والے گانوں میں سروں کی کثیر الجہتی سے رفیع صاحب نے ہر رنگ کی مٹھاس بھری ہے۔ خوشیوں کی کھنک ہو یاشکستہ دلی کی اداسی، آواز کی دنیا کی ساری ندیاں جس ایک سمندر میں آکر ملتی ہیں اس سمندر کا نام ہے محمد رفیع ۔ حقیقت حال تو یہ ہے کہ محمد رفیع پر ایک جامع تجزیاتی نگاہ ڈالیں تو سوچ و فکر میں آدمی ششدررہ جاتا ہے۔ رفیع صاحب کے نغموں کی طغیانی میں غوطے لگاتے جایئے۔ ان کی نغمہ سرائی کے بے کراں سرمایہ کا ایک غائر انکشاف کرتے جایئے۔ نئے نئے جہت کے نایاب نمونے و نادر جوہر ملتے جائیں گے۔یہاں یہ امر قابل لحاظ ہے کہ بات محمد رفیع کی ہورہی ہے۔اتنے وسیع اور اتنی گہرائی والے سمندر کے موتیوں کو سجانے کے لیے جہاں کوئی دائرۃ المعارف (انسائیکلوپیڈیا)درکار ہو وہاں انہیں ایک مضمون میں پروناممکن نہیں۔ پھر بھی رفیع کی گائیکی کی معجزاتی خصوصیات کاجائزہ لیاجائے تو سمندر سےلیے گئے چند قطرات کی بناپر یہ کہاجاسکتا ہے ان کی گلوکاری میں حسن کی تعریف میںگائےنغموں کا مقام سرفہرست ہوگا۔ ان نغموں کو سن کر لگتا ہےحسن کی تخلیق کے بعد اس کی تعریف بیان کرنے کے لیے اوپر والے نے محمد رفیع کوبنایا۔حسن کی تعریف میں گائے رومانی نغموں کا اتنا بڑا ذخیرہ ہے کہ اس کے قیمتی خزانے سے لافانی شاہ کار کو بھی لیں تو شمارکرنا مشکل ہوگا۔ دوسری جانب مذہب کے تعلق سے رفیع صاحب کے گائے عقیدت بھرے نغموںکو دیکھیں تو لگتا ہے کوئی بے بس فریادی عاجزی کے ساتھ اپنے مالک سے مخاطب ہے۔ ان نغموں میں رفیع صاحب کی طلسماتی آواز کسی پر بھی ایک روحانی کیفیت طاری کردیتی ہے۔ وہیں اکثریتی مذہب والوں کے لیے بھی رفیع صاحب نے بھکتی سنگیت کے ایسے ایسے شاندار راگ بکھیرے ہیں کہ سننے کے بعد بڑے بڑے بھکت جنوں پر سکتہ طاری ہوجاتا ہے۔ عموماً جس جانب کم تو جہ جاتی ہے وہ ہیں بچوں کے لیے گائے گیت ۔ اس مخصوص شعبے میں بھی رفیع صاحب کے بے پناہ مقبول گیتوں کی اچھی تعداد موجود ہے۔ چٹپٹے انداز میں گائے چلبلے نغموں کی جانب بچے تو راغب ہوتے ہی ہیں ساتھ میں والدین کو بھی ایک پاکیزہ لطف اندوزی والاگھریلو ماحول نصیب ہوجاتا ہے۔ حب الوطنی سے لبریز قومی ترانوں کے رفیع صاحب شہنشاہ تھے۔ نازک موقعوں پر قربانی کے لیے دھرتی پکارتی ہے تو حرارت اور توانائی کا پیدا ہونا وقت کی ضرورت ہوجاتی ہے۔ وقت نے جب بھی پکارا رفیع کی آواز نے رگوں میں حرارت اور توانائی کی لہر دوڑا دی۔ سن باسٹھ کی چین جنگ کے وقت رفیع صاحب کی گھن گرج والی آواز ایک بار آسمان سے ٹکراتی تھی تو لگتا تھا دشمن ہل رہا ہے۔ پاک صاف محمد رفیع صاحب نے کبھی ہاتھ تک نہیں لگایا مگر شراب کے نشے میں دھت ڈگمگاتے ہوئے کسی شرابی کے لیے بھی گانا ہوا تو اپنی نشیلی آواز کا ایسا جادو جگایا کہ دنیا جھوم اٹھی۔ رفیع کے دل نشیں لحن کا یہ کرشمہ ہے کہ وقت گذرنے کے ساتھ نغموں کا خمار اور اوپر جاتا ہے ۔ حد تو یہ ہے موسیقی میں گائے جانے والے مختلف قسم کے غیر لفظی آلاپوں کی ادائیگی میں بھی وہ اوروں سے بہت آگے ہیں۔جیسے آآآ… یا اوں ں ں…و غیرہ ۔ ان کی بندشوں میں خوش الحان رفیع نے جتنی بے مثال اور بے شمار میٹھا رس بھرا ہے اس کے خوش گوار ذائقہ کو بھلا کون بھلا سکتا ۔ موسیقاروں اور شاعروں کے کسی بھی تخلیقی تخیل کا وجود میں آنا رفیع صاحب کی موجودگی میں بآسانی ممکن ہوجاتا تھا۔ ان کی آواز اور گائیکی میں اتنی روانی اور ایسی سیّالیت تھی کہ جب چاہو جہاں چاہو جیسے چاہو  جدھر چاہوموڑ دو۔ جس سانچے میںچاہو ڈھال دوجس روپ میںچاہو اتارلو۔ وہیں ان کی زوردار آواز اونچائیوں میں بھی لہراتی ہے اور اتنی لہراتی ہے کہ کبھی آسمان کو چھوتی ہے تو کبھی ستاروں سے ٹکراتی ہے۔ دوسری جانب عشق و محبت کی حدّ انتہا کو چھونے والے کچھ نغموں میں ان کی لَے اتنی مدھم ہو ئی ہے کہ آیا کوئی کانوں کے بالکل قریب آکے چپکے چپکے صرف ہونٹ ہلارہا ہو۔ سُر اور لَے میں آواز کی ایسی قدرتی صلاحیت و کثیر الجہتی کہیں اور ممکن نہیں۔ کوئی موقع ہو کیسا بھی ماحول ہو انسانی فطرت کی ہرکیفیت کااحساس جگادینے میں رفیع صاحب کو انفرادی مہارت حاصل تھی۔ انسانی مزاج کے جس پہلو کوبھی لیں یوں لگتا ہے سننے والاان کی جاذب تو جہ آواز میں اپنے کسی انکہے جذبات کو محسوس کررہاہے۔ محمد رفیع کے اس کمال کا معیار اپنے عرو ج کی اس انتہاکو چھوتا ہے کہ ان کے بعد ایسے کسی اورنظیر کا تصور ممکن نہیں۔ 
 موسیقاروں کے تصور کی کسی بھی پرواز کو محمد رفیع اُس کی اصل بلندی تک بڑی بے تکلفی سے پہنچا دیتے تھے۔ ان کی آواز نغمہ زن طائرکی طرح فضا میں ہرسمت آزادی سے پرواز کرتی ہے۔  یوں لگتا ہے کوئی بھی لفظ رفیع صاحب کے گلے سے ہوکر گذرنے کے بعد اپنا معنیٰ و مفہوم خود بیان کررہاہے۔ ان کے چلے جانےسے شاعروں کی شاعری میں شاعرانہ الفاظ کے اندر روح سمادینے والی آواز چلی گئی۔ اب نہ وہ ذوق رہا نہ معیار رہا نہ فلموں کی فضا میں ادبی بودوباش والی رونق رہی۔  محمد رفیع نے چھوٹے بڑے تمام اداکاروں کے لیے نغمے گائے۔ جہاں اپنی آواز کے جادو سے بڑے بڑوں کی بڑائی کو اور بھی بڑا بنایا وہیں اتنی ہی یکسوئی اور لگن کے ساتھ ان کرداروں کے لیے بھی گیت گاکر انہوںنے فلموں میں جان ڈال دی جن کو کوئی جانتا بھی نہیں تھا ۔حقیقت یہ بھی ہے کہ ان کی ضرورت سب کو تھی۔ وہ انڈسٹری کے اتنے بڑے ستون تھے کہ بہت زیادہ فلموں میں ان کے اوپر ہر کسی کی کامیابی ٹکی رہتی تھی۔ سین کے عین مطابق کسی اداکار کے انداز و مزاج کو ذہن میں رکھتے ہوئے گیتوں کو سروں میں ڈھالنا ایک ادق ذمہ داری ہوتی ہے۔ رفیع صاحب اس طلسماتی خوبی کے اچھوتے ماہر تھے۔ کلاسیکی موسیقی کے باریک پہلوئوں پر اپنی مضبوط گرفت کی بدولت وہ اس دوبھر کام کو بڑی مہار ت سے انجام دیتے تھے۔ کسی بھی ریکارڈنگ سے پہلے رفیع صاحب کو اس بات کا پتہ ہوتا تھا کہ شہد میں مٹھاس بھرنے کے لیے کب کس پھول سے رس نچوڑنا ہے۔  رفیع صاحب نے کل کتنے گانے گائے یہ بتانا مشکل ہےپھر بھی ایک عام تخمینہ کے مطابق یہ تعداد ربع لاکھ کےقریب بتائی جاتی ہے۔ یہاں یہ امر زیادہ اہم ہے کہ انہوں نےکتنے قسم کے گانے گائے۔ ان کےتمام گانوں کی مناسب طریقے سے درجہ بندی کردی جائے تو یہ ایک قابل قدر کوشش ہو گی۔ ان کے فائق نغموں کا ضخیم خزانہ سنجیدہ توجہ و تحقیق کا متقاضی ہے۔رفیع کے گیتوں کے تنوّ ع کا احاطہ کرنا ایک مشکل کام ہے۔ تاہم ماہرین موسیقی ایساکریں تو دنیائے موسیقی کیلئے یہ ایک خدمت ہوگی۔ ہربار نئے نکھارکے ساتھ نیا انداز پیداکرنا، اس قدر اختراع،اتنی تبدلیاں، اتنی زیادہ جدت نابغہ محمد رفیع کے علاوہ اور کہاں مل سکتی ہیں۔  دنیا کے عدیم النظیر گلوکار ہونے کے علاوہ بطور انسان رفیع صاحب کی بلندی پر جتناکچھ کہاگیا ہے وہ ناقابل یقین حد تک غیر معمولی ہے۔n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK