ٹرمپ عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور ہٹ دھرمی پر قائم، کراکس پر امریکی کنٹرول کا اصرار کیا، مادورو کو جیل منتقل کردیاگیا، نائب صدر روڈ ریگزکو سپریم کورٹ نے ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کی ہدایت دی۔
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اغوا کے بعد امریکی فوجیوں کی حراست میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ تصویر: آئی این این
غیر قانونی امریکی فوجی آپریشن میں وینزویلا کے صدر نکولس مادوروکے اغوا کئے جانے کے بعد ایک طرف جہاں وینزویلا کی سب سے بڑی عدالت نے نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو کارگزار صدر کے طو رپر ملک کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی ہدایت دی ہے وہیں نیویارک میں مادورو کو بدنام ِزمانہ بروکلین جیل میں رکھا گیا ہے۔ ان سے امریکی تفتیش کاروں کی پوچھ تاچھ کے بعد اتوارکو (ہندوستانی وقت کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب) عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس بیچ ٹرمپ نے یہ اشارہ دےدیا ہے کہ ان کی حکومت وینزویلا کا کنٹرول سنبھالنے کا ارادہ رکھتی ہے اوراس کی نظر اس ملک کی تیل کی دولت پر ہے وہیں جبکہ خبر کے لکھے جاتے وقت امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ وینزویلا کے نئے قائد اگر ’’صحیح فیصلے ‘‘کرتے ہیں تو امریکہ ان کے ساتھ کام کرنے کیلئےتیارہے۔
وینزویلا کی تیل کی دولت پرنظر
سنیچر کویہ اعلان کرتے ہوئے کہ وینزویلا کو امریکہ ’’چلائےگا‘‘ ، ڈونالڈ ٹرمپ نے وہاں کے تیل کے ذخائر پر بھی امریکی تسلط اور وہاں امریکی کمپنیاں بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ نے فلوریڈا میں اپنے مار-اے-لاگو ریزارٹ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہاکہ ’’ہم ملک (وینزویلا) کو اس وقت تک چلائیں گے، جب تک کہ وہاں اقتدارکی محفوظ، مناسب اور دانش مندانہ منتقلی نہیں کرلیتے۔‘‘
تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ٹرمپ وینزویلا کا کنٹرول کیسے چلائیں گے۔ امریکی افواج کا اس ملک پر کوئی کنٹرول نہیں اور مادورو کی حکومت نہ صرف اب بھی اقتدار میں ہے بلکہ واشنگٹن کے ساتھ تعاون کرنے کی کوئی خواہش بھی نہیں رکھتی۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ وینزویلا میں امریکی فوج بھیجنے کیلئے تیار ہیں۔ڈونالڈ ٹرمپ کے مطابق ’’ہم (وینزویلا کی) زمینی فوج سے نہیں ڈرتے۔‘‘ امریکہ کا الزام ہے کہ ۶۳؍ سالہ مادورو امریکہ میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث تھے تاہم مادورو اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن حکومت دراصل وینزویلا کے تیل کی دولت پرقبضہ کرنا چاہتی ہے۔
امریکہ صدر مادورو کو فور رہا کرے: چین
چین کی وزارت خارجہ نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وینزویلا کے سربراہ نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست سے فوری طور پر رہا کرے اور وینزویلا سے متعلق اپنے تحفظات کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے دور کرنے کی کوشش کرے۔ چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کو صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی ذاتی حفاظت بھی یقینی بنانا چاہیے ، ان کی امریکہ منتقلی بین الاقوامی قانون اور اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے ساتھ ہی چین نے وینزویلا پر امریکی حملے پر ’’شدید حیرت ‘‘ کا اظہار کیا ہے۔
نائب صدر نے ذمہ داریاں سنبھال لیں
وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے سرپیم کورٹ کے حکم پر عارضی طور پر صدارتی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے صدر نکولس مادورو کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
عہدہ سنبھالنے کے بعد قوم سے خطاب میں روڈریگز نے کہا کہ نکولس مادورو ہی وینزویلا کے واحد اور آئینی صدر ہیں اور ان کی گرفتاری دراصل اغوا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وینزویلا کسی بھی صورت کسی بیرونی طاقت کی نوآبادی نہیں بنے گا۔نائب صدر نے کہاکہ امریکی فوجی کارروائی کے بعد وینزویلا اپنے دفاع، قومی خودمختاری اور قدرتی وسائل کے تحفظ کیلئے ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے عوام سے صبر، اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل بھی کی۔
امریکہ کے کئی اتحادی بھی نالاں
امریکہ کے کئی اتحادی ملکوں نے وینزویلا کے خلاف فوجی کارروائی اور صدر مادورو کے اغوا پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ا ن میں اسپین سرفہرست ہے جس نے کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قراردیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔ برطانیہ نے عالمی قوانین کے احترام اور اقتدار کی پرامن منتقلی پر زور دیا جبکہ فرانس اور کنیڈا نے بھی کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کے منافی تسلیم کیا۔ جرمنی ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے کارروائی کی مذمت کی ہے۔
امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا جائیں گی
اس بیچ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی کمپنیوں کو وینزویلا جا کر اس کے تیل کے ذخائر پر ’’ہاتھ مارنے‘‘ کی اجازت دیںگے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم امریکہ کی بڑی تیل کمپنیاں، جو دنیا میں سب سے بڑی ہیں، وہاں بھیجیں گے۔ وہ اربوں ڈالر خرچ کریں گی، تباہ شدہ انفرااسٹرکچر، یعنی تیل کے بنیادی ڈھانچے کو درست کریں گی، اور ملک کیلئے آمدنی پیدا کرنا شروع کریں گی۔‘‘
ممدانی نے بھی حملے کی مذمت کی
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے بھی وینزویلا پر امریکی حملے اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نےکہا کہ کسی خودمختار ملک پر یکطرفہ حملہ کرنا جنگ کے مترادف ہے اور یہ وفاقی اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
عالمی قانون کیا کہتا ہے؟
اقوامِ متحدہ کے منشور کی دفعہ۲(۴) ممالک کو کسی دوسرے ملک کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال سے منع کرتی ہے۔ اس ممانعت کو دوسری عالمی جنگ کے بعد کے ورلڈ آرڈرکی بنیادتصور کیا جاتاہے۔ طاقت کا استعمال صرف اس وقت جائز ہے جب سلامتی کونسل کی اجازت ہو یا حملہ کسی حقیقی یا فوری مسلح حملے کے خلاف اپنے دفاع میں کیا گیا ہو یا متعلقہ ملک کی حکومت کی رضامندی سے کیا گیا ہو۔