وینزویلا میں گھس کر مادورو کو امریکی فوج کے ذریعہ اغواکیا جانا پہلا معاملہ نہیں ہے، اس نے صدام حسین سمیت کئی دیگر سربراہان مملکت کی یاد تازہ کردی ہے۔
صدام حسین (عراق)۔ تصویر: آئی این این
صدام حسین (عراق)
جھوٹے الزامات عائد کرکے عراق پر فوج کشی اور اسے برباد کردینے کے ۹؍ ماہ بعد امریکی فوج نے صدر صدام حسین کو ۱۳؍دسمبر۲۰۰۳ء کو گرفتار کیا تھا۔ان پر عراق میں ہی امریکہ کے ذریعہ قائم کی گئی ایک عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور ’’انسانیت کے خلاف جرائم ‘‘کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی۔ ۳۰؍دسمبر۲۰۰۶ء کو صدام حسین کوپھانسی دے دی گئی۔
مینوئل نوریگا(پنامہ)
امریکہ نے ۱۹۸۹ء میں لاطینی امریکہ کے ملک پنامہ میں وہاں کے حکمراں مینوئل نوریگا،جو فوجی سربراہ بھی تھے، کو اقتدار سے ہٹانے کیلئے فوج کشی کی ۔امریکی شہریوں کے تحفظ، غیر جمہوری حکومت، بدعنوانی اور منشیات کی تجارت کو حملے کا جواز بنایا ۔ نوریگا کو بھی امریکہ منتقل کیاگیا پھر فرانس بھیجا گیا اور پھر پنامہ کی امریکہ حامی حکومت کو سونپ دیاگیا جہاں ۲۰۱۷ء میں جیل میں وہ فوت ہوگئے۔
جُوان آرلینڈو (ہونڈوراز)
ہونڈوراس کے جُوان آرلینڈو ہرنینڈیز کو فروری ۲۰۲۲ء میں تیگوسیگالپا میں ان کے گھر سے امریکی ایجنٹس اور ہونڈوراس کی سیکوریٹی فورسیز نے ایک مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا ۔ یہ گرفتاری ان کے صدارتی عہدہ سے الگ ہونے کے چند دن بعد ہوئی۔ انہیں امریکہ منتقل کیاگیا جہاں ۴۵؍ سال قید کی سزا سنائی گئی مگر یکم دسمبر ۲۰۲۵ء کو ٹرمپ نے انہیں معاف کردیا۔
جین برٹرینڈ ارسٹائیڈ(ہیتی )
جین برٹرینڈ ارسٹائیڈ جوہیتی کے پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر تھے نے ۲۰۲۴ء میں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے انہیں اغوا کیا، باغیوں کے قریب آنے اور خونریزی کی دھمکی کے تحت انہیں اقتدار سے ہٹنے پر مجبور کیا، اور جلاوطنی میں بھیج دیا۔ تاہم، امریکہ نے سیاسی اغوا کے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ بغاوت کے دوران اس نے’’خونریزی‘‘کو روکنے کیلئے انہیں ملک چھوڑنے میں مدد کی ۔