مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان امریکہ نے اپنے فوجی آپریشنز کو وسیع شکل دے دی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت ۱۰۸۰۰۰؍ سے زیادہ امریکی فوجی دنیا کے ۱۶۰؍ ممالک میں تعینات یا پیشگی طور پر موجود ہیں۔
EPAPER
Updated: March 05, 2026, 12:07 PM IST | New York
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان امریکہ نے اپنے فوجی آپریشنز کو وسیع شکل دے دی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت ۱۰۸۰۰۰؍ سے زیادہ امریکی فوجی دنیا کے ۱۶۰؍ ممالک میں تعینات یا پیشگی طور پر موجود ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان امریکہ نے اپنے فوجی آپریشنز کو وسیع شکل دے دی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت ۱۰۸۰۰۰؍ سے زیادہ امریکی فوجی دنیا کے ۱۶۰؍ ممالک میں تعینات یا پیشگی طور پر موجود ہیں۔ یہ تعیناتی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے اور چین اور روس سے بڑھتے ہوئے سیکوریٹی خطرات سے بھی نمٹ رہا ہے۔
پینٹاگن کے اعلیٰ حکام نے بدھ کو (مقامی وقت کے مطابق) سینیٹ کی آرمڈ سروسز سب کمیٹی آن ریڈینس کے سامنے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج مشرقِ وسطیٰ میں جاری فعال فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اپنے آپریشنز کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ امریکی فوج کے وائس چیف جنرل کرسٹوفر لانئیو نے سینیٹروں سے کہا کہ امریکی افواج بیک وقت کئی خطوں میں سرگرم ہیں اور بدلتے ہوئے خطرات کے درمیان دفاعی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
لانئیو نے کہا کہ ’’آج ۱۰۸۰۰۰؍ سے زیادہ امریکی فوجی ۱۶۰؍ ممالک میں تعینات یا پیشگی تعینات ہیں جو مغربی نصف کرے میں ہمارے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجی اس وقت ایران اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ جاری تنازع کے درمیان پیچیدہ اور خطرناک ماحول میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ’’وہ میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے والی امریکی فوج اور شراکت داروں کا دفاع کر رہے ہیں اور اہم انفراسٹرکچر کی حفاظت بھی کر رہے ہیں۔‘‘
لانئیو کے مطابق امریکی فوج خطرات کا تیزی سے جواب دینے کے لیے انٹیلیجنس اور مشترکہ فائر پاور کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے جنگی علاقوں میں ایندھن، گولہ بارود اور طبی امداد فراہم کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ نیوی آپریشنز کے وائس چیف ایڈمرل جیمز کلبی نے قانون سازوں کو بتایا کہ گزشتہ سال امریکی بحریہ نے کئی فوجی مشن انجام دیے اور مشترکہ افواج کو مدد فراہم کی۔ بحریہ نے دشمنوں کے خلاف کارروائیاں کیں اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کی حفاظت بھی کی۔ امریکی بحریہ ہند-بحرالکاہل خطے میں مسلسل سرگرم ہے جہاں وہ چین کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:جلال آغا نے کئی فلموں میں چھوٹے لیکن پراثر کردار ادا کئے
کلبی نے بتایا کہ بحریہ اپنی تیاری کو مضبوط بنانے کے لیے جہازوں کی مرمت میں ہونے والی تاخیر کو کم کر رہی ہے اور شپ یارڈز کو جدید بنا رہی ہے۔ اس کے ساتھ وہ اس ہدف کی طرف بڑھ رہی ہے کہ اس کے ۸۰؍ فیصد جنگ کے لیے تیار جہاز، طیارے اور آبدوزیں ہمیشہ تعیناتی کے لیے تیار رہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ہندوستان میں۴؍ کروڑ سے زیادہ بچے موٹاپے کا شکار، ملک دنیا میں دوسرے نمبر پر
میرین کور کے حکام نے کہا کہ ان کی فورس دنیا کے کسی بھی حصے میں فوری تعیناتی کے لیے تیار رہتی ہے، خاص طور پر ہند-بحرالکاہل خطے میں جہاں چین کے ساتھ کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ایک سینئر افسر نے کہا کہ میرین کور عالمی سطح پر فوری ردعمل دینے والی فورس ہے اور ہند-بحرالکاہل میں مسلسل سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔ ایئر فورس کے وائس چیف آف اسٹاف جنرل جیمز لامونٹیگن نے کہا کہ فضائیہ اپنے طیاروں کو جدید بنا رہی ہے اور نئے پائلٹوں کو تربیت دے رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فضائیہ کا بنیادی کام طیاروں کو پرواز کے قابل رکھنا اور انہیں بہترین حالت میں برقرار رکھنا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کی جا سکے۔