Inquilab Logo Happiest Places to Work

میوزک ڈائریکٹر کھیم چند پرکاش کی پانچویں دہائی میں فلم سنگیت پر حکمرانی تھی

Updated: August 30, 2026, 4:55 PM IST | Anis Amrohvi | Mumbai

انہوں نے صرف ایک گانے سے لتا منگیشکر کو شہرت اور مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا۔ فلم ’ضدی‘ کے گانے ’’چندا رے جارے جارے‘‘ سے پہلے لتا کو بطور پلے بیک سنگر بہت کم لوگ جانتے تھے۔ فلم ’محل‘ کا یادگار نغمہ ’’آئے گا آنے والا‘‘ کی دلکش دُھن بھی انہوں نے ہی ترتیب دی تھی اور فلم ’ضدی‘ میں کشور کمار کو بطور پلے بیک سنگر پیش کیا تھا۔ بالی ووڈ میں انہیں گروجی بھی کہا جاتا تھا۔

KhemChand Prakash has given many beautiful songs in a short period of time. Photo: INN
کھیم چند پرکاش نے کم عرصے میں کئی خوبصورت نغمے دیئے۔ تصویر: آئی این این

نئی نسل کے سُر اور سنگیت کے شیدائیوں کو کھیم چند پرکاش کا نام، جنہیں عرف عام میں کھیم راج جی کہا جاتا تھا، بڑا انجانا سا، بڑا عجیب سا لگےگا..... لیکن وہ کھیم چند پرکاش ہی تھے جنہوں نے صرف ایک گانے سے لتا منگیشکر کو شہرت اور مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا۔ فلم ’ضدی‘ کے گانے ’’چندا رے جارے جارے‘‘ سے پہلے لتا کو بطور پلے بیک سنگر کوئی نہیں جانتا تھا۔ فلم ’محل‘ کے یادگار نغمے ’’آئے گا آنے والا‘‘ کی دلکش دُھن ترتیب دینے والے میوزک ڈائریکٹر کھیم چند پرکاش ہی تھے۔ کھیم چند پرکاش نے ہی فلم ’ضدی‘ میں کشور کمار کو بطور پلے بیک سنگر پیش کیا تھا۔ اس فلم میں دیوآنند کے لیے گایا ہوا کشور کمار کا گانا ’’مرنے کی دُعائیں کیوں مانگوں، جینے کی تمنا کون کرے‘‘ آج بھی دلدادگان موسیقی میں مقبول ہے۔ میوزک ڈائریکٹر کھیم چند پرکاش، جنہیں گروجی بھی کہا جاتا تھا، پانچویں دہائی میں فلم سنگیت پر مکمل طور پر چھائے رہے۔ میوزک ڈایریکٹر نوشاد، بلوسی رانی، اور بھولا سریشٹھ جیسے نامور میوزک ڈائیریکٹروں نے نہ صرف گروجی کے اسلوب کو اپنایا بلکہ شرفِ تلمذ بھی حاصل کیا۔ کھیم چند نے ہی ہندی فلموں کو راجستھانی لوک سنگیت سے روشناس کرایا۔ ’ضدی، بھرتری ہری، سندور، تان سین اورمحل‘ کھیم چند پرکاش کی یادگار فلمیں کہی جاتی ہیں۔ 
سجان گڑھ، راجستھان کے ایک موسیقی نواز خاندان میں کھیم چند پرکاش کا جنم ہوا۔ والد درباری گائیک تھے۔ ایک طرح سے سنگیت کھیم چند کو وراثت میں ملا تھا۔ اوائل عمر ہی سے کھیم چند نے رقص و موسیقی کا ریاض شروع کر دیا تھا اور جلد ہی کلاسکی موسیقی اور کتھک ناچ کے ماہر کہلانے لگے۔ راجستھان کا لوک سنگیت کھیم چند کے رگ وپے میں بسا ہوا تھا۔ ان کی ہر دھڑکن میں راجستھانی لوک سنگیت کی سگندھ بسی ہوئی تھی۔ 
کھیم چند نے دھروپد گائیکی، گووردھن پرساد سے سیکھی تھی۔ کھیم چند کے والد اُن دنوں راج گھرانے کے سب سے بڑے گائیک تھے، جہاں سے وہ مہاراجہ نیپال کے پیغام پر نیپال چلے گئے اور نیپال کے درباری گائیک بن گئے۔ کھیم چند بھی اپنے والد کے ساتھ نیپال چلے گئے۔ کھیم چند کے فلمی کریئر کا آغاز اُن کی واپسی پر اُس وقت ہوا جب انہوں نے کلکتہ آکر نیو تھیٹرز میں ملازمت کر لی، اور ۱۲۰؍ روپے ماہانہ پر میوزک ڈائریکٹر تِمر برن کے اسسٹنٹ بن گئے۔ ۱۹۳۹ء میں جب انہوں نے نیوتھیٹر کو خیرباد کہا تو وہ وہاں سے ۵۰۰؍ روپے ماہانہ لیتے تھے۔ کہا جاتاہے کہ بمل رائے کی فلم ’دیوداس‘ میں میوزک ڈائریکٹر تِمر برن کے اسسٹنٹ کے طور پر ’’بالم آئے بسو مورے من میں ‘‘(راگ کافی) اور ’’دکھ کے اب دن بیتے نہ ہیں ‘ (راگ دیس) کی دھنیں کھیم چند نے ہی ترتیب دی تھیں۔ یہی نہیں، ڈائریکٹر فنی مجمدار کی فرمائش پر کھیم چند نے فلم ’اسٹریٹ سنگر‘ کے ایک گانے ’’لو کھا لو میڈم کھانا‘‘ کے مزاحیہ سین میں اداکاری بھی کی تھی۔ 
آزادانہ طور پر اپنی پہچان بنانے کے لئے کھیم چند، پرتھوی راج کپور اور کیدار شرما کے ساتھ بمبئی چلے آئے، اور رنجیت مووی ٹون میں شمولیت اختیار کرلی۔ اس کے کچھ ہی دن بعد ۱۹۳۹ء میں پہلی فلم ’’میری آنکھیں ‘‘ کے لئے سحر آفریں دُھنیں ترتیب دے کر اپنا آزادانہ مقام بنا لیا۔ اس کے بعد ۱۹۴۱ء میں ’پردیسی، شادی اورامید‘ جیسی فلمیں آئیں، جن کی کامیابی میں کھیم چند کے ترتیب دیئے ہوئے نغموں کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ اس کے بعد تو کھیم چند بمبئی فلم انڈسٹری میں سنگیت کے بے تاج بادشاہ کہلانے لگے۔ بمبئی میں اپنے ابتدائی فلمی کریئر میں کھیم چند نے جو سب سے زیادہ تاثر انگیز نغمہ پیش کیا تھا، وہ تھا ’’پہلے جو محبت سے انکار کیا ہوتا۔ ‘‘ فلم ’’پردیسی‘‘ کے لئے خورشید کے گائے ہوئے اس نغمے کو آج بھی خورشید اور کھیم چند کے اچھے نغموں میں شمار کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رشی کپور نے اپنی پہلی ہی فلم’میرا نام جوکر‘ کیلئے نیشنل ایوارڈ جیتا تھا

میں تیرا ہوں میں تیرا کانوں میں میرے کہنا
اور بھاگ کے دنیا سے آنکھوں میں میری رہنا
اتنا جو سمجھتے ہم چپکے سے تیرا کہنا
نہ دل ہی دیا ہوتا، نہ پیار کیا ہوتا، 
پہلے جو محبت سے انکار کیا ہوتا
بتایا جاتا ہے کہ یہ گانا، نہ گانے کی خورشید کے پاس اپنی وجہ تھی۔ یہ نغمہ بیگم اختر کی مشہور غزل ’دیوانہ بنانا ہے‘ سے ملتا جلتا تھا، اور خورشید کسی طور پر بھی بیگم اختر جیسی معیاری نامور گلوکارہ سے ٹکر لینا نہیں چاہتی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں اپنی فنی صلاحیتوں پر اتنا اعتبار نہیں تھا کہ ایک نامور گلوکارہ کی ٹکر کا نغمہ پیش کر سکیں۔ لیکن خورشید نے جب ’پہلے تو محبت سے انکار کیا ہوتا‘ گایا تو انہیں بیگم اختر سے بھی داد تحسین حاصل ہوئی۔ اس گانے کو نہ گانے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ اُن دنوں خورشید اور کھیم چند ایک دوسرے کیلئے اپنےاپنے دل میں نرم گوشہ محسوس کر رہے تھے۔ اگرچہ ان کے پیار کی کلی کھل کر شگفتہ پھول نہیں بنی تھی، لیکن عشق کی خوشبو، مشک کی طرح پھیل چکی تھی، اور اسٹوڈیو میں ان کے عشق کے چرچے ہونے لگے تھے۔ عشق ومحبت کی دیوانگی کی وجہ ہی سے خورشید نے مایوسی میں ڈوبی ہوئی اس غزل کو گانا پسند نہیں کیا تھا۔ 
کھیم چند اور خورشید کے عشق کی بہت لمبی کہانی ہے۔ ۱۹۴۲ء میں کھیم چند نے ’چاندنی‘ اور ’کھلونا‘ جیسی کئی فلموں میں ہِٹ میوزک دیا تھا لیکن خورشید اور سہگل کے سُریلے نغموں سے آراستہ فلم ’تان سین‘ کے نغموں نے جو مقبولیت حاصل کی، وہ شاید ہی اب تک کسی فلم کو نصیب ہوئی ہوگی۔ رم جھم رم جھم چال تمہاری... (سہگل)، کاہے گمان کرے گوری... (سہگل)، دیا جلائو جگمگ جگمگ... (سہگل)، مورے بالا پن کے ساتھی چھیلا بھول جئیو نہ... (سہگل، خورشید)، اب راجہ بھئے مورے بالم... (خورشید)، برسو کارے بدروا، پیا پے برسو... (خورشید)، او دُکھیا جیارا دیویں میکا گالی... (خورشید)، گھٹا گھنگھور، گھور.... (خورشید)۔ یہ سارے نغمے ہٹ ہوئے تھے۔ یہیں سے دونوں میں قربت شروع ہوئی تھی۔ 
کھیم چند پرکاش کا انتقال۴۲؍ سال کی عمر میں ۱۰؍ اگست۱۹۵۰ء کو ممبئی کے ایک اسپتال میں ہوا تھا۔ وہ جگر کی بیماری میں مبتلا تھے۔ 
’پہلے جو محبت سے انکار کیا ہوتا‘ سے وابستہ مشہور قصہ
اس نغمے کے ساتھ ایک واقعہ وابستہ ہے۔ کھیم چند کے ایک نزدیکی رشتے دار پنڈت جگن ناتھ پرساد کاکہنا ہے کہ ’’جب خورشید کو یہ نغمہ گانے کیلئے دیا گیا تو انہوں نے گانے میں آنا کانی برتی، اس پر غصے سے آگ بگولہ ہوکر کھیم چند نے خورشید کو الٹی میٹم دےدیا کہ گانا گائو یا پھر دفع ہو جائو! کھیم چند کو ناراض کرنے کی خورشید میں ہمت نہیں تھی، اسلئے انہوں نے گانا گایا اور دل سے گایا۔ پُرسوز آواز میں دل سے گایا ہوا خو یہ نغمہ جب کھیم چند نے ریکارڈنگ کے بعد سُناتو بس سُنتے ہی رہے۔ نہ معلوم کتنی بار انہوں نے اس گانے کو سنا ہوگا۔ 
پہلی بڑی کامیابی کا فائدہ کھیم چندپرکاش کو نہیں مل سکا
کہا جاتا ہے کہ فلم ’محل‘ کے ہدایت کار اور کہانی نویس کمال امروہی نے اس فلم کے گانے ’خاموش ہے زمانہ‘کی ابتدائی سطریں خود لکھی تھیں جبکہ باقی گانا نخشب نے مکمل کیا تھا۔ موسیقار کھیم چند پرکاش نے ہارمونیم پر جو پہلی دھن سنائی، وہ کمال امروہی کو فوری طور پر پسند آگئی تھی اور انہوں نے اسے منظوری عطا کردی تھی لیکن افسوس کی بات ہے کہ فلم’محل‘کی ریلیز کے کچھ ہی دنوں بعد کھیم چند پرکاش کا انتقال ہوگیا اور وہ اپنی دُھن پر تیار ہوا مشہور نغمہ ’آئےگا آنیوالا‘ کی شہرت کا کچھ خاص فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ 
کھیم چند پرکاش : عروج سے زوال تک کا سفر
مشہور کہانی نویس اور نغمہ نگارجاوید اختر نے۱۷؍ مئی۲۰۱۲ء کو راجیہ سبھا میں اپنی ایک تقریر میں کھیم چند پرکاش کے عروج سے زوال تک کے سفر کا حوالہ دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ کھیم چند پرکاش کے انتقال کے بعد ان کی دوسری بیوی شری دیوی جو ایک کتھک ڈانسر تھیں، کو اپنے آخری دنوں میں زندہ رہنے کیلئے ریلوے اسٹیشن پر بھیک مانگنی پڑی۔ شری دیوی کی بیٹی (چندرکلا ) بھی ایک کتھک رقاصہ تھیں۔ انہوں نے بھارتیہ کلا کیندر، دہلی سے گریجویشن کی اور فلم اور تھیٹر کے اداکار ڈائریکٹر رام گوپال بجاج سے شادی کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK