Inquilab Logo Happiest Places to Work

راجاواڑی اسپتال میں ۳؍نوزائیدہ کی موت، تحقیقات کا حکم

Updated: August 30, 2026, 5:41 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

اسپتال انتظامیہ کےمطابق ا موات سنگین طبی حالت کے باعث ہوئی ہیں، ایم این ایس کا طبی لاپروائی کاالزام

A view outside Rajawadi Hospital in Ghatkopar. Photo: INN
گھاٹکوپر میں واقع راجا واڑی ا سپتال کے باہر کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این
یہاں کے راجاواڑی اسپتال کے زچگی کے شعبےمیں جمعرات کو ۳؍ نوزائیدہ بچوںکی اموات کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ شہر ی انتظامیہ کے شعبہ صحت نے ان اموات کی تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موت سنگین  طبی حالت کے باعث ہوئی ہے۔ ان واقعات کے پس منظر میں ممبئی میونسپل کارپوریشن کی ہیلتھ کمیٹی کے چیئرمین ہریش بھنڈیرگے نے جمعہ کو راجاواڑی اسپتال کا دورہ کیا اور متعلقہ معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا ۔ اس دوران انہوں نے اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ اور متعلقہ ڈاکٹروں اور میڈیکل افسران سے بات چیت کی اور علاج کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کیں۔
 
 
پہلے کیس میں ہیرا بھنڈاری ۳۷؍ ہفتوں کی حاملہ تھیں۔ یہ اس کی تیسری بار ولادت تھی اور وہ دو بار سیزیرین ڈیلیوری سے گزر چکی تھی۔ اسپتال میں داخل ہونے کے بعد ابتدائی معائنے کے دوران جنین کے دل کی دھڑکن واضح طور پر نہیں سنی جا سکی،اس لئے فوری طور پر سونو گرافی کی گئی۔ اس جانچ سے رحم میں جنین کی موت کی تشخیص ہوئی۔ اسپتال کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مزید معائنے میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی ۔
دوسرے کیس میں ریحانہ بیگم خان ۳۳؍ ہفتوں کی حاملہ تھیں۔ اسے ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر تھا۔ اس لئے اسے باقاعدگی سے میڈیکل چیک اپ کرانے کا مشورہ دیا گیا لیکن وہ ۱۵؍ دنوں سے چیک اپ کیلئے نہیں آئی تھیں۔ اس کے بعد اسپتال آنے پران کی سونوگرافی کی گئی تو معلوم ہوا کہ بچہ رحم میں ہی فوت ہو چکا ہے۔
 
 
تیسرے کیس میں، ایک عورت ۴۰؍ ہفتے اور ۲؍ دن کی حاملہ تھی ،اس کی مقررہ تاریخ گزر چکی تھی۔ اس لئے جب اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا تو پتہ چلا کہ بچے نے علاج کے دوران رحم میں رفع حاجت کی تھی ۔ مریض کو فوری طور پر آپریٹنگ روم میں لے جاکر سیزرین کیا گیا لیکن بچے کے دل کی دھڑکن سست ہونے کی وجہ سے اسے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں داخل کرایا گیا۔ علاج کے دوران تقریباً ڈیڑھ سے دو گھنٹے بعد بچہ دم توڑگیا۔مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) نےطبی لاپروائی کا الزام لگایاہے اور زچگی کے محکمہ کے کام کاج پر سوال اٹھایا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK