Updated: August 06, 2026, 2:32 PM IST
| Ankara
ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ تقریباً ۲۰؍ مسلم ممالک نے اردن کے دارالحکومت عمان میں ہونے والے وزارتی اجلاس میں مسجد اقصیٰ کے خلاف حالیہ اسرائیلی اقدامات کے جواب میں مشترکہ سفارتی اور عملی اقدامات پر غور کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خلیج کی صورتحال، آبنائے ہرمز اور دیگر علاقائی بحرانوں کے باوجود مسلم ممالک کی توجہ فلسطین، غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے اور القدس سے نہیں ہٹی ہے۔
ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ تقریباً ۲۰؍ اسلامی ممالک نے اردن کے دارالحکومت عمان میں منعقد ہونے والے وزارتی اجلاس میں مسجد اقصیٰ کے خلاف حالیہ اسرائیلی اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مشترکہ سفارتی، سیاسی اور دیگر عملی اقدامات پر تفصیلی غور کیا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کا مرکزی موضوع صرف مسجد اقصیٰ، القدس اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال تھا۔ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حاقان فیدان نے کہا کہ ’’آج ہم نے عمان میں ایک حقیقی معنوں میں تاریخی اجلاس میں شرکت کی۔ اسلامی دنیا کے ممتاز ممالک نے نہ صرف اپنی تشویش اور غصے کا اظہار کیا بلکہ ان عملی، سفارتی اور دیگر اقدامات پر بھی سنجیدہ تبادلۂ خیال کیا جو موجودہ صورتحال میں کیے جانے چاہئیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: عمرہ مہنگا ہوگیا،ویزا کی فیس میں اضافہ
انہوں نے کہا کہ اگرچہ حالیہ دنوں میں خلیج کی کشیدگی، آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات اور دیگر علاقائی بحرانوں نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر رکھی ہے، تاہم اسلامی ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ اس سے فلسطین، غزہ، مسجد اقصیٰ اور مقبوضہ مغربی کنارے کے مسئلے کو نظرانداز نہیں ہونے دیا جا سکتا۔ فیدان نے کہا کہ ’’ہم جانتے ہیں کہ اگر ہماری توجہ کسی اور مسئلے کی طرف منتقل ہو جائے تو اسرائیل کے لیے غزہ، مسجد اقصیٰ، القدس اور مغربی کنارے میں اپنے اقدامات جاری رکھنا مزید آسان ہو جائے گا۔‘‘
ترکی کے وزیر خارجہ نے ایک بار پھر اردن کے اس تاریخی اور قانونی کردار کی توثیق کی جو اسے مقبوضہ مشرقی یروشلم کے مقدس مقامات کے متولی کی حیثیت سے حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی بھی مسجد اقصیٰ کو اپنی مقدس ترین عبادت گاہوں میں شمار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے صدر رجب طیب اردگان، ہماری حکومت، ہماری ریاست اور ہمارا معاشرہ مسجد اقصیٰ کو اپنی مقدس عبادت گاہوں میں سے ایک سمجھتا ہے۔ اس کے خلاف ہونے والی ہر خلاف ورزی کو ہم اپنی قوم کی اقدار کے خلاف حملہ تصور کرتے ہیں۔‘‘ حاقان فیدان نے بتایا کہ اجلاس کے دوران ترکی اور اردن نے مشترکہ طور پر القدس اور مسجد اقصیٰ کے حوالے سے یکجہتی کا واضح پیغام دیا اور اس بات پر زور دیا کہ مقدس مقامات کی تاریخی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی ناقابل قبول ہے۔
یہ بھی پڑھئے: منظم گروہوں نے طلبہ کے احتجاج کو پرتشدد مظاہرے میں بدل دیا: شیخ حسینہ
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عمان میں قیام کے دوران انہوں نے ’’گروپ آف فور‘‘ کے پانچویں وزارتی اجلاس میں بھی شرکت کی، جس میں ترکی، سعودی عرب، مصر اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے غزہ کی صورتحال، جنگ بندی کی کوششوں اور مجوزہ امن منصوبے پر تبادلۂ خیال کیا۔ فیدان کے مطابق اجلاس میں اسرائیل کے طرزِ عمل اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے سنجیدگی سے اس بات پر غور کیا کہ امن منصوبے پر عمل درآمد کے دوران اسرائیل کے رویے، بین الاقوامی قوانین سے اس کی مسلسل بے اعتنائی اور اصولوں کی خلاف ورزی کا مؤثر جواب کیسے دیا جائے۔‘‘
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اجلاس میں کئی اہم فیصلے کیے گئے ہیں، جو متعلقہ ممالک کی قیادت کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ فیدان نے کہا کہ ’’آنے والے دنوں میں آپ ان فیصلوں سے متعلق عملی اقدامات دیکھیں گے۔‘‘ وزیر خارجہ نے بتایا کہ اجلاس میں صرف غزہ اور القدس ہی نہیں بلکہ بحیرہ احمر کی کشیدگی، خطے میں بڑھتے ہوئے تنازعات اور مستقبل کے علاقائی استحکام پر بھی گفتگو ہوئی۔ ان کے مطابق چاروں ممالک ایک مشترکہ علاقائی وژن دستاویز پر بھی کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کے دیرینہ مسائل کا مستقل حل تلاش کرنا ہے۔