• Thu, 03 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

میری ناکامیوں نے والدین کو بے بس کر دیا تھا: میگھنا گلزار

Updated: September 03, 2026, 5:01 PM IST | Mumbai

معروف فلمساز میگھنا گلزار نے اپنے کریئر کے ابتدائی مشکل دور کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب انہیں مسلسل ناکامیوں کا سامنا تھا اور کئی برس تک کام نہیں ملا تو ان کے والد گلزار اور والدہ راکھی بھی خود کو بے بس محسوس کرنے لگے تھے۔

Meghna Gulzar.Photo:INN
میگھناگلزار۔ تصویر:آئی این این

 معروف فلمساز  میگھنا گلزار  نے اپنے کریئر کے ابتدائی مشکل دور کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب انہیں مسلسل ناکامیوں کا سامنا تھا اور کئی برس تک کام نہیں ملا تو ان کے والد  گلزار  اور والدہ  راکھی  بھی خود کو بے بس محسوس کرنے لگے تھے۔  میگھنا گلزار، معروف شاعر، نغمہ نگار اور فلمساز گلزار اور تجربہ کار اداکارہ راکھی کی بیٹی ہیں۔ فلمی پس منظر سے تعلق رکھنے کے باوجود ان کے لیے بطور ہدایت کار اپنی الگ شناخت بنانا آسان نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھئے:ایک سال قبل امریکی ٹینس اسٹار کوکو گاف فلشنگ میڈوز میں شدید مشکلات سے دوچار تھیں

 میگھنا نے اپنے والد کی فلم ’’ہو تُو تُو‘‘ (۱۹۹۹ء) میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر کام کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے خود ہدایت کاری کے میدان میں قدم رکھا۔ ان کی پہلی فلم ’’فی الحال‘‘ ۲۰۰۲ء میں ریلیز ہوئی، لیکن اسے باکس آفس پر کامیابی نہیں مل سکی۔اس کے بعد  ۲۰۰۷ء میں آنے والی  ’’جسٹ میریڈ‘ ‘ بھی توقعات کے مطابق کامیاب نہیں ہوئی۔ ان فلموں کے بعد میگھنا کو ایک طویل عرصے تک نئے کام کے لیے انتظار کرنا پڑا۔  
میگھنا کے مطابق ان کی ناکامیوں کا اثر صرف ان پر نہیں بلکہ ان کے والدین پر بھی پڑا۔ گلزار اور راکھی دونوں اپنے اپنے شعبوں میں انتہائی کامیاب اور بااثر نام تھے، لیکن بیٹی کے کریئر کے اس مشکل مرحلے میں وہ بھی کچھ نہیں کر پا رہے تھے۔ میگھنا نے بتایا کہ ان کے والدین یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ وہ ان کی کس طرح مدد کریں، کیونکہ فلم انڈسٹری میں کامیابی یا ناکامی کو محض ذاتی تعلقات یا تجربے سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے والدین کے لیے اپنی بیٹی کو جدوجہد کرتے دیکھنا ان کی اپنی ناکامیوں سے بھی زیادہ تکلیف دہ تھا۔ 
 میگھنا کے مطابق مشکل وقت میں ان کے والدین نے انہیں فوری کامیابی کے لیے اپنی سوچ یا حساسیت سے سمجھوتہ کرنے کے بجائے اپنی راہ پر قائم رہنے کا مشورہ دیا۔ یہی رویہ بعد میں ان کے فلمی انداز کی بنیاد بنا۔ انہوں نے روایتی کمرشیل  فارمولے کے بجائے سنجیدہ اور حقیقی واقعات پر مبنی موضوعات کو ترجیح دی۔میگھنا کے کریئر میں بڑا موڑ ۲۰۱۵ءمیں فلم’’تلوار‘‘ سے آیا۔ حقیقی واقعہ سے متاثر اس فلم کو تنقیدی طور پر بے حد سراہا گیا اور اس نے میگھنا کو ایک سنجیدہ فلمساز کے طور پر مضبوط شناخت دی۔ 

یہ بھی پڑھئے:وزیر اعلیٰ وجے نے ڈائر کا چشمہ بزرگ خاتون کو تحفے میں دیا

اس کے بعد ۲۰۱۸ء میں ’’راضی‘‘ نے ان کے کریئر کو مزید بلندی دی۔ فلم نے باکس آفس پر شاندار کامیابی حاصل کی اور میگھنا کو بہترین ہدایت کاری سمیت کئی اہم اعزازات دلائے۔ بعد میں انہوں نے ’’چھپاک‘‘ اور’’سیم  بہادر‘‘ جیسی فلموں کی ہدایت کاری کی۔ ’’سیم  بہادر‘‘ کے لیے انہیں قومی سطح پر بھی اعزاز حاصل ہوا۔  میگھنا کی کہانی اس بات کی مثال ہے کہ کامیاب فلمی خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود کسی فنکار کے لیے اپنی الگ شناخت بنانا آسان نہیں ہوتا۔ ان کے ابتدائی تجربات، ناکام فلمیں اور کئی برس تک کام نہ ملنے کا دور بالآخر ان کی تخلیقی سوچ کا حصہ بن گیا۔
آج میگھنا گلزار بالی ووڈ کی ان ہدایت کاراؤں میں شمار ہوتی ہیں جو سنجیدہ، حساس اور حقیقی واقعات پر مبنی فلموں کے لیے جانی جاتی ہیں۔ ان کا سفر یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ابتدائی ناکامی ہمیشہ اختتام نہیں ہوتی، بلکہ بعض اوقات یہی ناکامیاں مستقبل کی بڑی کامیابی کی بنیاد بن جاتی ہیں۔ ان کی اگلی  فلم  ’’دائرہ‘‘ (Daayra)  بھی خبروں میں ہے، جس میں  کرینہ کپور خان  اور  پرتھوی راج سُکمارن  مرکزی کرداروں میں ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK