Updated: September 03, 2026, 9:58 PM IST
| New Delhi
انڈین ایکسپریس کی رپورٹر سری روپا گوسوامی کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں آشوتوش رانکا نے کہا کہ ان کی پارٹی کا سیاسی ایجنڈا اقتدار کا حصول نہیں بلکہ ملک کے روایتی سیاسی انداز کو بدلنا، بنیادی مسائل پر بحث چھیڑنا اور ادارہ جاتی جواب دہی قائم کرنا ہے۔ رانکا نے جنتر منتر احتجاج اور ’’اسکول ٹھیک کرو‘‘ مہم کے تحت ۱۵؍ ہزار سرکاری اسکولوں کے آڈٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ملک کے تعلیمی نظام کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور عزم ظاہر کیا کہ سی جے پی مستقبل میں روزگار، عدالتی اصلاحات، الیکشن کمیشن کی شفافیت اور میڈیا کے شعبوں میں بہتری کے لیے بھی مہم چلائے گی۔
سی جے پی کے ترجمان آشوتوش رانکا۔ تصویر: ایکس
کاکروچ جنتا پارٹی ( CJP) کے بانی آشوتوش رانکا نے کہا کہ سونم وانگ چک نے ان سے ملاقات کے دوران سی جےپی تحریک کی نیت کی تعریف کی تھی ، لیکن ان کی گفتگو کے کچھ حصوں کو بعد میں بغیر سیاق و سباق کے پیش کیا گیا۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹر سری روپا گوسوامی سے بات کرتے ہوئے سی جے پی کے ترجمان آشوتوش رانکا نے بتایا کہ ان کی پارٹی کا سیاسی ایجنڈا صرف اس بات تک محدود ہے کہ ملک میں جس طرح سیاست ہو رہی ہے، اس کے انداز کو بدلا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سی جے پی نے یقیناً ملک کی سیاسی گفتگو کو صحیح سمت میں موڑ دیا ہے لیکن جب ہم کہتے ہیں کہ ہمارا سیاسی ایجنڈا ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ ملک میں جس طرح کی سیاست اس وقت ہو رہی ہے اسےہم بدلنا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: شیخ حسینہ کا دسمبر میں ڈھاکہ واپسی کا اعلان، والد کی یادداشتیں پڑھ کر ماضی سے جڑنے کا انکشاف
رانکا سے لداخ کے معروف سماجی کارکن سونم وانگ چک کے اس تبصرے کے بارے میں پوچھا گیا جس میں انہوں نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ کے دوران کہا تھا کہ ’’سی جے پی لیڈروں کے سیاسی مقاصد ہیں‘‘، اور اس موضوع پر دیگر جگہوں پر بھی بات ہوئی ہے۔ اس پر بات کرتے ہوئے رانکا نے کہا کہ جہاں تک سیاسی مقاصد کا تعلق ہے، ہم نے ہمیشہ یہ بالکل صاف کہا ہے کہ ہم اس ملک کی سیاست کو بدلنے کیلئے لڑ رہے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ سیاست اسی طرح چلتی رہے جیسے اب تک چلتی آئی ہے۔ ہمارے ملک کی سیاست نے ہمیشہ بنیادی اور اہم مسائل کو نظر انداز کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی جے پی تحریک شروع ہونے سے پہلے، پارلیمنٹ میں آخری بار پیپر لیک کے معاملے پر کب بحث ہوئی تھی؟ مجھے سی جے پی کے آغاز سے پہلے ایسا کچھ یاد نہیں آتااور سی جے پی سے پہلے یہ ’جن زی‘ (Gen Z) ڈائلاگس اور ایونٹس کب ہو رہے تھے جن کے بارے میں ہم آج کل بات کر رہے ہیں؟
یاد رہے کہ جنتر منتر پر سی جے پی کی قیادت میں ہونے والے احتجاج میں سونم وانگ چک ایک نمایاں اور اہم چہرہ بن کر سامنے آئے تھے، جہاں اس تحریک نے تعلیم اور روزگار سمیت دیگر اہم مسائل کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی تھی۔ اس احتجاج کے دوران وانگ چک نے بھوک ہڑتال بھی کی تھی، جس نے اس مہم کو مزید مقبول بنایا اور مطالبات کی طرف بڑے پیمانے پر لوگوں کی توجہ مبذول کرائی۔
رانکا کا کہنا ہے کہ اسکولوں کے معائنے (آڈٹ) نے حکومت کے بنیادی تعلیمی ڈھانچے میں موجود سنگین خامیوں کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے سی جے پی کی ’اسکول ٹھیک کرو‘ مہم کے بارے میں بھی بات کی اور انٹرویو کے دوران پہلے بتائے گئے ۱۵۰۰؍ اسکولوں کے عدد کی تصحیح کرتے ہوئے اسے ۱۵۰۰۰؍ اسکول بتایا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس مہم کے تحت سرکاری اسکولوں کی جانچ پڑتال کی گئی اور ملک کے تعلیمی نظام کی جس صورتحال کو سامنے لایاگیا ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ رانکا نے کہا کہ اس پوری مہم کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ یہ معلوم ہوا کہ حالات واقعی بہت خراب اور نازک ہیں۔ ہم مسلسل آبادیاتی فائدے (ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ) کی باتیں کرتے ہیںلیکن زمین پر اصل حقیقت اس سے بہت دور ہے۔ ان کے مطابق جن اسکولوں کا انہوں نے دورہ کیا ان میں سے ۸۰؍ سے ۹۰؍ فیصد انتہائی خستہ اور ابتر حالت میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نتائج خاص طور پر اس لئے زیادہ تشویشناک ہیں کیونکہ بھارت کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اب بھی دیہی علاقوں میں رہتا ہے جہاں سرکاری اسکول ہی تعلیم حاصل کرنے اور زندگی میں آگے بڑھنے کا بنیادی ذریعہ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: BCI کو قانون کے طلباء کے خلاف کارروائی کا کوئی حق نہیں
انہوں نے مزید کہا کہ آبادی کی اکثریت اب بھی دیہاتوں میں رہتی ہے جن کی زندگی میں بہتری لانے کا واحد راستہ تعلیم ہے اور تعلیم سے مراد بنیادی طور پر یہی سرکاری اسکول ہیں۔ رانکا کے مطابق، ان اسکول آڈٹس کا مقصد صرف عمارتوں کے مسائل کی نشاندہی کرنا یا انفرادی طور پر اسکولوں کی مرمت کروانا نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سی جے پی چاہتی تھی کہ اس مہم کے ذریعے گاؤں کی سطح پر عام لوگوں میں یہ شعور پیدا ہو کہ وہ حکومتوں، اسکول کے ہیڈ ماسٹروں اور مقامی تعلیمی حکام کو جواب دہ بنانا شروع کریں۔ رانکا نے آخر میں کہا کہ تعلیم سی جے پی کیلئے ہمیشہ ترجیح رہے گی، لیکن ہم سب کو اب بے روزگاری اور ادارہ جاتی جواب دہی پر بھی اپنی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آنے والے وقت میں عدالتی اصلاحات، الیکشن کمیشن کی شفافیت اور مین اسٹریم میڈیا جیسے شعبوں میں بھی اصلاحات کیلئے سی جے پی کے تحت مہمات چلائی جائیں گی۔