• Thu, 03 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ورلڈ کپ کے حوالے سے شبہات کے درمیان بی سی سی آئی نے روہت شرما کی حمایت کی

Updated: September 03, 2026, 9:02 PM IST | Mumbai

روہت شرما کی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ بی سی سی آئی نے اشارہ دیا ہے کہ سابق کپتان کی جگہ پر فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں ہے، جبکہ ۲۰۲۷ء ورلڈ کپ کے لیے ان کی دستیابی کو لے کر کافی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔

Rohit Sharma.Photo:INN
روہت شرما۔ تصویر:آئی این این

روہت شرما کی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ بی سی سی آئی نے اشارہ دیا ہے کہ سابق کپتان کی جگہ پر فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں ہے، جبکہ ۲۰۲۷ء ورلڈ کپ کے لیے ان کی دستیابی کو لے کر کافی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔جمعرات کو بی سی سی آئی ہیڈکوارٹر میں ہندوستانی ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد بی سی سی آئی کے سکریٹری دیوجیت سائکیہ نے کہا’’آپ نے دیکھا ہو گا کہ وہ شاندار کھیل رہے ہیں۔‘‘
اس میٹنگ میں ہندوستان کے دونوں کپتان - شبھ من گل (ٹیسٹ اور ون ڈے) اور شریاس ایّر (ٹی۲۰) - شامل ہوئے۔ ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر اور سی او ای کے سربراہ وی وی ایس لکشمن بھی موجود تھے۔ سلیکٹرز کے چیئرمین اجیت اگرکر میٹنگ میں نہیں تھے۔ وہ ممبئی سے باہر تھے اور شاید ایسی جگہ پر تھے جہاں انٹرنیٹ نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھئے:لوگ کیوں نہیں سمجھتے کہ ہندوستان اور پاکستان کرکٹ صرف ایک میچ ہے:وسیم اکرم

دیوجیت سائکیہ نے جمعرات کو بورڈ کی پرفارمنس ریویو میٹنگ کے بعد روہت کی حمایت کی۔ انہوں نے سابق کپتان کی حالیہ فارم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مستقبل کو لے کر کوئی قیاس آرائیاں نہیں کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا’’وہ تمام میچوں میں بہترین کھیل رہے ہیں۔ آپ کو اور کیا چاہیے؟ گزشتہ میچ میں انہوں نے۱۳۰۔۱۴۰؍ رن بنائے۔ تو پھر قیاس آرائیاں کیوں؟ میں قیاس آرائیاں کرنے والوں کو کوئی موقع نہیں دینا چاہتا۔‘‘ گزشتہ سال ہندوستان کی چیمپئن ٹرافی فتح کے بعد روہت کو ون ڈے کپتانی سے ہٹائے جانے کے بعد سے ہی ان کے مستقبل پر بحث چل رہی ہے۔ ان کی عمر کے باعث ۲۰۲۷ء ورلڈ کپ میں ان کی شرکت پر سوال اٹھنے لگے تھے، لیکن جولائی میں انگلینڈ کے خلاف آخری ون ڈے میں سنچری بنا کر انہوں نے ان قیاس آرائیوں کا جواب دیا۔
۳۹؍ سالہ روہت ہندوستان کے سب سے تجربہ کار ون ڈے بلے بازوں میں سے ایک ہیں، جنہوں نے اس فارمیٹ میں ۱۱۸۹۵؍ رن بنائے ہیں اور۳۴؍ سنچریاں اسکور کی ہیں۔ ان کے نام ون ڈے میں سب سے زیادہ انفرادی اسکور (۲۶۴؍ رن) کا ریکارڈ بھی ہے اور انہوں نے ۲۰۱۹ء ورلڈ کپ میں پانچ سنچریاں لگائی تھیں۔ اس دوران، سائکیہ نے واضح کیا کہ جمعرات کی میٹنگ کوئی سلیکشن میٹنگ نہیں تھی اور ٹیم کی تشکیل کو لے کر کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا’’تو، آج ہماری کوئی سلیکشن میٹنگ نہیں تھی۔ یہ ایک روٹین میٹنگ تھی، جیسی ہم اکثر تین مہینے کے وقفے پر کرتے ہیں۔ آج ہماری میٹنگ ہیڈ کوچ، ہیڈ آف کرکٹ، سی او ای اور دو کپتانوں   ہمارے ٹی۲۰؍کپتان اور ٹیسٹ و ون ڈے کپتان شبھ من   کے ساتھ ہوئی۔ ‘‘ انہوں نے کہا’’ہم نے بنیادی طور پر اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ ہماری ٹیم نے انگلینڈ اور آئرلینڈ میں کیسی کارکردگی دکھائی اور اگلے ایک سال میں ہم کیا کرنے والے ہیں۔ اس لیے، ایک روڈ میپ تیار کیا گیا ہے اور ہم کچھ ایسی سرگرمیاں کریں گے جس سے ۲۰۲۷ء میں ہماری کارکردگی بہت اچھی ہو۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:’’کیا ہم مسلمان ہیں؟‘‘ جاوید اختر نے ۸؍ سالہ فرحان اختر کے بچپن کا دلچسپ واقعہ سنایا

کھلاڑیوں کے ورک لوڈ اور چوٹ کے نظم و نسق پر بھی گفتگو ہوئی، جس میں بی سی سی آئی مصروف بین الاقوامی شیڈول کے دوران بہتر تیاری اور ریکوری یقینی بنانے کے طریقوں پر غور کر رہا ہے۔ کھلاڑیوں کو چوٹیں اس لیے لگ رہی ہیں کیونکہ انہیں بہت سارے میچ کھیلنے پڑتے ہیں۔ اگر آپ ان کے شیڈول کو دیکھیں، تو انگلینڈ میں ون ڈے کے لیے ہماری ۱۵؍ کھلاڑیوں کی ٹیم گئی تھی، اور ان میں سے  ۳؍یا ۴؍ کھلاڑی زخمی ہو گئے۔ ہمیں اس بات کا بھی دھیان رکھنا ہو گا کہ اس سے پہلے انہوں نے دو مہینے تک آئی پی ایل کھیلا تھا۔‘‘
انہوں نے کہاکہ ’’ اس لیے ان سبھی کا کھلاڑیوں کی صحت پر اثر پڑتا ہے۔ موجودہ ایف ٹی پی کے تحت ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے ہم کچھ راستے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس ایک پروٹوکول ہے کہ چوٹ کے بعد کوئی کھلاڑی بین الاقوامی میچوں میں کیسے واپسی کر سکتا ہے۔ ہم ایسی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے صحیح حکمتِ عملی بنانے کے لیے کپتانوں اور چیف کوچ سے فیڈ بیک لے رہے ہیں۔ اگلے ایف ٹی پی میں، ہم اے سی این اے ممالک میں کسی بھی بڑی سیریز سے پہلے کھلاڑیوں کے لیے مناسب آرام، ماحول کے مطابق ڈھلنے یا کچھ پریکٹس میچوں کا انتظام یقینی بنائیں گے۔‘‘ سائکیہ نے ان قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کر دیا کہ لکشمن کو ہندوستانی کرکٹ سیٹ اپ میں کوئی نئی ذمہ داری دی جا سکتی ہے اور اشارہ دیا کہ اگرکر کی صدارت والی سلیکشن کمیٹی میں تبدیلی کا کوئی فوری منصوبہ نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK