• Fri, 09 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نندہ اپنی سادگی اور شائستگی کیلئے آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں

Updated: January 08, 2026, 7:09 PM IST | Agency | Mumbai

مشہور اداکارہ نندہ نےاپنی  بہترین اداکاری سے تقریباً۳؍ دہائی تک  فلم شائقین کےدلوں پر راج کیا لیکن بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہوںگےکہ وہ فلم اداکارہ بننے کے بجائے فوج میں جانا چاہتی تھیں۔

Nanda has done a great job in many films. Picture: INN
نندہ نے کئی فلموںمیں عمدہ کام کیا۔ تصویر: آئی این این
مشہور اداکارہ نندہ نےاپنی  بہترین اداکاری سے تقریباً۳؍ دہائی تک  فلم شائقین کےدلوں پر راج کیا لیکن بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہوںگےکہ وہ فلم اداکارہ بننے کے بجائے فوج میں جانا چاہتی تھیں۔نندہ کی پیدائش۸؍ جنوری ۱۹۳۹ءکو ممبئی میں ہوئی ۔ان کےگھرکا ماحول فلمی  تھا۔ان کے والدماسٹر ونایک مراٹھی تھیٹرکےمشہور مزاحیہ اداکار تھےاس کےعلاوہ  انہوں نے کئی فلمیں بھی بنائیں تھیں۔ان کے والد چاہتے تھے کہ نندہ فلم انڈسٹری میںاداکارہ بنیں لیکن نندہ کی دلچسپی اداکاری کی طرف نہیںتھی۔ نندہ عظیم مجاہد آزادی سبھاش چندر بوس کے کافی متاثرتھیں اور ان کی ہی طرح فوج میں جاکر  ملک کی حفاظت کرنا چاہتی تھیں۔
نندہ کی قسمت کا ستارہ فلم ساز ایل وی پرسادکی ۱۹۵۹ء میں ریلیزہوئی فلم ’چھوٹی بہن‘سےچمکا۔اس فلم میںبھائی بہن کے پیار بھرے رشتےکوبخوبی بڑےپردےپر پیش کیاگیا۔اس فلم میں بلراج ساہنی نے بڑے بھائی اور نندہ نے چھوٹی بہن کا کردار ادا کیا تھا۔ شیلیندر کا لکھا اور لتا منگیشکر کا گایا ہوا نغمہ ’بھیا میرے راکھی کے بندھن کو نبھانا‘کافی مقبول ہوا۔ یہ نغمہ رکشا بندھن کے بہترین نغموں  میں شامل ہے۔فلم کی کامیابی کے بعد نندہ کچھ حد تک فلم انڈسٹری میں  شناخت بنانے میں کامیاب ہوگئیں۔
۱۹۶۵ءنندہ کے کرئیر کا اہم سال ثابت ہوا۔اس سال ان کی فلم ’جب جب پھول کھلے‘ریلیزہوئی۔بہترین موسیقی،نغموں اور اداکاری سے آراستہ اس فلم کی زبردست کامیابی نے نہ صرف اداکار ششی کپور اور نغمہ نگار آنند بخشی اور موسیقار کلیان جی آنند جی کو شہرت کی بلندیوںپرپہنچایا ساتھ ہی نندہ کو بھی ایک بہترین اداکارہ کے طورپر کامیابی دلائی۔ ۱۹۶۵ءمیں ان کی ایک اور سپر ہٹ فلم گمنام ریلیزہوئی،اس فلم میں وہ مشہور اداکار منوج کمار کے ساتھ نظر آئیں۔ ۱۹۶۹ءمیں ان کی فلم ’اتفاق‘ریلیز ہوئی۔اس فلم میں راجیش کھنہ کے ساتھ ان کی جوڑی  کافی پسند کی گئی اور یہ فلم سپرہٹ ثابت ہوئی۔
۱۹۸۲ءمیںفلم آہستہ آہستہ سے انہوں نے فلم انڈسٹری میں ایک بارپھر واپسی کی۔اس کے بعد انہوں نے راج کپور کی فلم پریم روگ اور مزدور میں کام کیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تینوں ہی فلموں میں انہوں نے اداکارہ پدمنی کولہاپوری کی ماں کا رول اداکیا تھا۔
کہاجاتا ہے کہ وہ ہدایت کار منموہن دیسائی سےبے انتہا محبت کرتی تھیں۔ دیسائی بھی انہیں چاہتے تھے، لیکن بے حد شرمیلی نندہ نےمنموہن کو کبھی اپنے عشق کا اظہار کرنے کا موقع ہی نہیں دیا بالآخر منموہن دیسائی نے شادی کرلی۔ منموہن کی شادی کے بعد نندہ بھی اپنی زندگی میں سمٹ کر رہ گئیں۔مگر کچھ ہی عرصے بعد منموہن دیسائی کی اہلیہ کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد منموہن نے ایک بار پھر نندہ کے نام محبت کا پیغام بھیجا۔ نندہ نےاسے قبول کر لیا۔۱۹۹۲ءمیں،۵۳ء برس کی عمر میں، نندہ کی ان سےمنگنی ہوگئی۔ لیکن شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ منگنی کے۲؍سال بعدایک حادثے میں منموہن دیسائی کا انتقال ہوگیا۔ دونوں کبھی ایک نہ ہو سکے اور نندہ غیر شادی شدہ ہی رہ گئیں۔ ۲۵؍مارچ ۲۰۱۴ءکو نندہ اس دنیا کو الواع کہہ گئیں۔ نندہ اپنی سادگی، شائستگی اور مضبوط اسکرین موجودگی کے باعث آج بھی فلم شائقین کے دلوں میں زندہ ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK