مہایوتی کی انتخابی مہم کے تحت بدھ کے روز شہر کے چھترپتی شیواجی مہاراج چوک پر ریاست کے وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس کی ’وجے سنکلپ سبھا ‘ منعقد کی گئی مگر یہ جلسہ اتحاد کی طاقت کے بجائے اندرونی اختلافات کی علامت بنتا دکھائی دیا۔
’وجے سنکلپ سبھا‘ کابینر جس پر صرف بی جے پی امیدواروں کی تصاویر ہیں۔ تصویر: انقلاب
مہایوتی کی انتخابی مہم کے تحت بدھ کے روز شہر کے چھترپتی شیواجی مہاراج چوک پر ریاست کے وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس کی ’وجے سنکلپ سبھا ‘ منعقد کی گئی مگر یہ جلسہ اتحاد کی طاقت کے بجائے اندرونی اختلافات کی علامت بنتا دکھائی دیا۔ اسٹیج پر نصب مرکزی بینر پر صرف بی جے پی کے امیدواروں کی تصاویر آویزاں تھیں جبکہ مہایوتی میں شامل پارٹی شیوسینا(شندے) کے کسی بھی امیدوار کی تصویر شامل نہیں تھی جس سے سیاسی حلقوں میں چہ میگوئیاں جاری ہیں۔
بینر سے شیوسینا (شندے ) کے امیدواروں کی غیر موجودگی پر پارٹی کے امیدواروں اور کارکنوں میں شدید ناراضگی پائی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ جب مہایوتی میں شامل پارٹیاں اتحاد کے ساتھ میدان میں ہیں تو اس طرح کا یکطرفہ رویہ اس اتحاد کو متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جلسے کے دوران شیوسینا (شندے ) کی جانب سے سرد مہری نمایاں رہی۔ اس اہم جلسے میں شندے سینا کے بیشتر سرکردہ لیڈران نے شرکت سے کنارہ کشی اختیار کی۔
پارٹی کی جانب سے صرف مغربی اسمبلی حلقہ کے صدر شیام پاٹل، امیدوار منوج کاٹیکر اور کملاکر پاٹل ہی موجود تھے جبکہ دیگرلیڈران کی غیر حاضری نے کئی سوالات کو جنم دیا۔ سیاسی مبصرین اس عدم شرکت کو پارٹی کی ناراضگی اور خاموش احتجاج کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔مہایوتی کے اسٹیج پر اتحادی جماعت کو مناسب نمائندگی نہ ملنے کا معاملہ اب شہر بھر میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ مقامی سطح پر اسے بی جے پی اور شندے سینا کے درمیان تال میل کی کمی کی واضح مثال قرار دیا جا رہا ہے جس کے اثرات آنے والے انتخابی مرحلوں میں مہایوتی کے لئے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔