نرگس اداکارہ نہیں ڈاکٹر بننا چاہتی تھیں

Updated: May 03, 2021, 3:46 PM IST | Agency | Mumbai

ہندی فلموں کی مشہور اداکارہ نرگِس نےتقریباً ۴؍دہائی تک اپنی متاثرکن اداکاری سے ناظرین کومسحور کیا۔ بچپن میں وہ اداکارہ نہیں بلکہ ڈاکٹر بننا چاہتی تھیں۔

Nargis.Picture:INN
نرگس۔تصویر :آئی این این

ہندی فلموں کی مشہور اداکارہ نرگِس نےتقریباً ۴؍دہائی تک اپنی متاثرکن اداکاری سے ناظرین کومسحور کیا۔ بچپن میں وہ اداکارہ نہیں بلکہ ڈاکٹر بننا چاہتی تھیں۔کنیزفاطمہ راشد عرف نرگس کی پیدائش یکم جون ۱۹۲۹ءکوکلکتہ شہرمیںہوئی۔ان کی ماںجدن بائی کے اداکارہ اور فلم ساز ہونے کی وجہ سے گھرمیںفلمی ماحول تھا۔ اس کے باوجود بچپن میں نرگس کی اداکاری میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ان کی تمناڈاکٹر بننے کی تھی جبکہ ان کی ماں چاہتی تھیں کہ وہ اداکارہ بنیں۔ ایک دن نرگس کی ماں نے ان سے اسکرین ٹیسٹ کیلئےفلم ساز اور ڈائریکٹر محبوب خان کے پاس جانے کو کہا۔ چونکہ نرگس فلموں میںجانے کی خواہش مند نہیں تھیں اس لئے انہوں نے سوچا کہ اگر وہ اسکرین ٹیسٹ میں فیل ہو جاتی ہیں تو انہیں اداکاری نہیں کرنی پڑے گی۔ ا سکرین ٹیسٹ کے دوران نرگس نے غیرارادی طورپرڈائیلاگ کی ادائیگی کی اور سوچا کہ محبوب خان انہیں اسکرین ٹیسٹ میں فیل کر دیں گے لیکن ان کا یہ خیال غلط نکلا اور محبوب خان نے۱۹۴۳ءمیں اپنی فلم ’تقدیر‘کیلئےبطور اداکار انہیں منتخب کرلیا ۔
 اس کے بعد۱۹۴۵ءمیںنرگس کومحبوب خان کی فلم ’ہمایوں‘ میں کام کرنے کا موقع ملا۔۱۹۴۹ءمیںان کی برسات اور اندازجیسی کامیاب فلمیںمنظرعام پرآئیں۔فلم انداز میں ان کے ساتھ دلیپ کمار اور راج کپورجیسے نامور اداکار تھے اس کے باوجود بھی نرگس شائقین کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب رہیں۔ ۱۹۵۰ءسے۱۹۵۴ءکے دوران ان کی شیشہ ، بےوفا، آشیانہ، عنبر، انہونی، شکست، پاپی ، دھن، انگارے جیسی کئی فلمیں منظرعام پر آئیں لیکن باکس آفس پرناکام رہیںجو ان کےفلمی کرئیرکیلئےبراثابت ہوالیکن۱۹۵۵ءمیں راج کپور کے ساتھ فلم ’شری ۴۲۰؍‘ ریلیزہوئی جس کی کامیابی کے بعد وہ ایک مرتبہ پھرشہرت کی بلنديو ں پر جا پہنچیں۔
 پردہ سمیں پرنرگس اورراج کپور کی جوڑی کو کافی پسندکیاگیا۔ ان دونوں نے سب سےپہلے ۱۹۴۸ء میں ریلیز فلم آگ میں ایک ساتھ کام کیا تھا۔ اس کے بعدان کی برسات،انداز،جان پہچان،پیار، آوارہ،  انہونی، آشیانہ، آہ، دھن، پاپی، شری۴۲۰؍، جاگتے رہو، چوری چوری جیسی کئی فلمیں پردہ سمیں کی زینت بنیں۔ ۱۹۵۶ءمیں فلم چوري چوری نرگس اور راج کپور کی جوڑی والی آخری فلم تھی۔ حالانکہ راج کپور کی فلم ’جاگتے رہو‘میں بھی نرگس نےمہمان اداکارہ کےطورپرکام کیا تھا  اس فلم کے آخر میں لتا منگیشکر کی آواز میں نرگس پر ’جاگو موہن پیارے ‘ نغمہ فلمایا گیا تھا۔ ۱۹۵۷ءمیں محبوب خان کی فلم’مدر انڈیا‘نے  نرگس کے فلمی کریئرکےساتھ ہی ان کی ذاتی زندگی میں بھی بہت اہم کردار ادا کیا۔فلم کی شوٹنگ کے دوران نرگس کو سنیل دت نے آگ سے  بچایا تھا۔اس واقعہ کےبعد انہوں نے کہا تھا کہ پرانی نرگس کی موت ہو گئی ہے اوراب نئی نرگس کی پیدائش ہوئی ہے اور انہوں  نےاپنی عمر اور حیثیت کی پرواہ کئے بغیر سنیل دت سے شادی کرلی تھی۔
   شادی کے بعد نرگس نے فلموں میں کام کرناکچھ کم کر دیا تھا۔ تقریباً ۱۰؍سال کے بعد اپنے بھائی انور حسین اور اختر حسین کے کہنے پر نرگس۱۹۶۷ءمیں فلم ’رات اور دن‘ میں کام کیا۔اس فلم کے لیے انہیں نیشنل  ایوارڈسےنوازا گیا۔یہ پہلا موقع تھا جب کسی اداکارہ کو یہ ایوارڈ دیا گیا تھا۔
 نرگس نےاپنے فلمی کریئرمیں تقریباً۵۵؍ فلموں میںکا م کیا۔ انہیں  اپنے فلمی کریئرمیں بہت عزت ملی۔وہ ایسی اداکارہ تھیں جنہیں پدم شري ایوارڈ سےبھی  نوازاگیا اورانہیں راجیہ سبھا کارکن بھی منتخب کیا گیا۔اپنی سنجیدہ اداکاری سےناظرین کومسحورکرنےوالی نرگس ۳؍ مئی۱۹۸۱ءکوہمیشہ کیلئےاس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK