نوشاد علی، جنہیں دنیا صرف نوشاد کے نام سے جانتی ہے، برصغیر کی فلمی موسیقی کی تاریخ کا ایک ایسامعتبر نام ہے جس نے موسیقی کو محض تفریح نہیں بلکہ ایک تہذیبی فن کا درجہ دیا۔ انہیں ’موسیقی کا شہنشاہ‘کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔
نوشاد ہندی فلموں کے بہترین موسیقار۔تصویر:آئی این این
نوشاد علی، جنہیں دنیا صرف نوشاد کے نام سے جانتی ہے، برصغیر کی فلمی موسیقی کی تاریخ کا ایک ایسامعتبر نام ہے جس نے موسیقی کو محض تفریح نہیں بلکہ ایک تہذیبی فن کا درجہ دیا۔ انہیں ’موسیقی کا شہنشاہ‘کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ نوشادصرف ایک موسیقار نہیں بلکہ ایک روایت ساز فنکار تھے۔انہوں نےفلمی موسیقی کو سستی شہرت کے بجائے وقار اور گہرائی عطا کی، یہی وجہ ہے کہ ان کا فن آج بھی زندہ ہے۔لکھنؤکےایک متوسط مسلم خاندان میں ۲۵؍ دسمبر ۱۹۱۹ءکو نوشاد کی پیدائش ہوئی۔ ان کا رجحان بچپن سے ہی موسیقی کی طرف تھا اور انہیں اپنے اس شوق کو پروان چڑھانے کیلئے اپنے والد کی ناراضگی بھی برداشت کرنی پڑی تھی۔ان کے والد ہمیشہ کہا کرتے تھےکہ تم گھر یا موسیقی میں سے ایک کو منتخب کرو۔اسی دوران لکھنؤ میں ایک ڈرامہ کمپنی آئی اور نوشاد نے آخر کار ہمت کرکے اپنے والد سے کہہ دیا’’آپ کو آپ کا گھر مبارک اور مجھے میری موسیقی۔‘‘اس کے بعد وہ گھر چھوڑ کر اس ڈرامہ کمپنی میں شامل ہوگئے اور اس کے ساتھ جےپور،جودھپور،بریلی اور گجرات جیسے بڑے شہروں میں گھومتے رہے۔
یہ ۱۹۳۷ءکاذکر ہے جب نوشاد پنے ایک دوست سے ۲۵؍روپے بطور قرض لے کر موسیقار بننے کاخواب آنکھوں میں لئے ممبئی آئےلیکن یہاں آکر انہیںمشکلوں کا سامنا کرنا پڑا۔یہاں تک کہ عالم یہ تھا کہ کئی راتیں انہیں فٹ پاتھ پر گزارنی پڑیں۔اس دوران ان کی ملاقات فلم ساز اور ہدایت کار اے آر کاردارسےہوئی،انہی کی سفارش پر نوشاد کو موسیقار حسین خان کےیہاں ۴۰؍روپےماہانہ پرپیانو بجانےکاکام ملا۔اس کے بعد انہوں نےموسیقار کھیم چندر پرکاش کے اسسٹنٹ کے طورپر بھی کام کیا۔بطور موسیقار نوشاد کو ۱۹۴۰ءمیںفلم پریم نگر میں پہلی بار ۱۰۰؍روپے ماہانہ پر کام کرنے کا موقع ملا۔ ۱۹۴۴ء میں ریلیز فلم رتن میں ان کی موسیقی سے آراستہ نغمہ ’انکھیاں ملا کے جیا بھرما کے چلے نہیں جانا‘کی کامیابی کےبعدنوشاد ۲۵؍ہزار روپے اجرت کے طورپر لینے لگےاوراس کے بعدانہوں نے کبھی پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔اس کے بعد وہ فلموں میں بہترین موسیقی دیتے رہے اور ان کی مقبولیت میں ہر روز اضافہ ہوتا رہا۔نوشاد نے۶؍دہائی کے اپنے فلمی کریئر میں تقریباً ۷۰؍ فلموں میں موسیقی دی ہے۔اس طویل سفر میں انہوںنےسب سے زیادہ فلمیںنغمہ نگار شکیل بدایونی کےساتھ کی ہیں اور ان دونوں کی جگل بندی ہمیشہ سپرہٹ ہوئی۔
نوشاد کے پسندیدہ گلوکار کے طورپر محمد رفیع کا نام سرفہرست آتاہے۔انہوں نے شکیل بدایونی اورمحمد رفیع کے علاوہ لتا منگیشکر ،ثریا،اوما دیوی اور نغمہ نگار مجروح سلطان پوری کو بھی فلم انڈسٹری میں اعلی مقام دلانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ نوشاد کی موسیقی سے آراستہ مشہور فلموں میں پریم نگر،بیجو باورا، آن، بابل، رتن، شاہ جہاں، دلاری، دیدار، درد، انداز، امر،مدر انڈیا،اڑن کھٹولا،کوہ نور، مغل اعظم ،پالکی اور میرے محبوب قابل ذکر ہیں۔ ہندوستانی سنیمامیںان کی قابل ذکر خدمات کیلئے ۱۹۸۲ء میں دادا صاحب پھالکےایوارڈ اور۱۹۹۲ءمیں بدم بھوشن سے نوازا گیا۔موسیقی کا یہ روشن ستارہ۵؍مئی ۲۰۰۶ءکوممبئی میں ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا، تقریباً ۶؍ دہائی کے طویل سفر میں اپنی موسیقی سے شائقین کا دل جیتنے والے موسیقار نوشاد کی دھنیں آج بھی دل میں اترجاتی ہیں۔