مقابل کھڑے کسی بھی امیدوار کو ایک ہزار ووٹ تک نہیں ملے ، سب سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے جیت حاصل کرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔
سونیترا پوار جیت کے بعد بارامتی میں کارکنان سے ملنے پہنچیں- تصویر:آئی این این
ملک میں ۵؍ ریاستوںکے اسمبلی الیکشن کے ساتھ مہاراشٹر میں بارامتی اور راہوری سیٹ کیلئے ضمنی انتخابات بھی ہوئے جس میں حسب توقع مہایوتی کو کامیابی حاصل ہوئی۔ لیکن بارامتی میں سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی بیوہ سونیترا پوار نے کامیابی کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے۔ انہوں نے ۲؍ لاکھ ۱۸؍ ہزار ووٹوں سے جیت حاصل کی ہے جو کہ ملک کے کسی بھی اسمبلی الیکشن میں حاصل کئے گئے کسی بھی امیدوار کے سب سے زیادہ ووٹ ہیں۔ الیکشن کمیشن کی اطلاع کے مطابق سونیترا پوار کے مقابلے کسی بھی امیدوار کو ایک ہزار ووٹ بھی نہیں ملے۔ واضح رہے کہ ووٹوں کی گنتی کے ۱۵؍ رائونڈ مکمل ہونے تک سونیترا پوار کے سامنے کھڑے کسی بھی امیدوار کو ۱۰۰؍ ووٹ تک نہیں ملے تھے۔ جبکہ سونیترا پوار ایک لاکھ ۷۵؍ ہزار ووٹ حاصل کر چکی تھیں۔
یاد رہے کہ سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی ناگہانی موت کے بعد ان کے اسمبلی حلقے بارامتی میں دوبارہ انتخابات کروانے پڑے جس میں اجیت پوار کی بیوہ سونیترا پوار مہایوتی کی امیدوار تھیں۔ سونیترا پوار خود اس وقت اپنے شوہر کی جگہ نائب وزیر اعلیٰ ہیں۔ان کے سامنے کانگریس، شیوسینا (ادھو) یا این سی پی (شرد) کسی نے بھی اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا لیکن چھوٹی پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کوملا کر کھل ۲۲؍ افراد ان کے سامنے الیکشن لڑ رہے تھے ان میں سے کسی کو بھی ایک ہزار ووٹ تک نہیں ملے۔ ۲۴؍ ویں رائونڈ کے ختم ہونےپر سونیترا پوار کو کل ۲؍ لاکھ ۱۸؍ ہزار ۹۶۹؍ ووٹ ملے تھے جب کہ ان کے مقابل دوسرے نمبر پر رہے آزاد سماج پارٹی کے امیدوارآر وائے گھوٹوکڑے نے ۹۳۵؍ ووٹ حاصل کئے ۔ اس سیٹ سے سابق وزیر دھننجے منڈے کی اہلیہ کرونا منڈے نے بھی فارم بھرا تھا۔ انہیں صرف ۳۰۱؍ ووٹ ملےاور وہ چھٹے نمبر پر رہیں۔
کامیابی کا ریکارڈ
سونیترا پوار کی اس جیت نے نہ صرف مہاراشٹر بلکہ قومی سطح پر بھی اسمبلی الیکشن میں جیت کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ مہاراشٹرمیں اب تک جیت کے سب سے بڑے فرق کا ریکارڈ سونیترا پوار کے آنجہانی شوہر اجیت پوار کے نام تھا جنہوں نے ۲۰۱۹ء میں اسی سیٹ سے ایک لاکھ ۶۵؍ ہزار ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ۲۰۲۲ء کے یوپی اسمبلی الیکشن میں صاحب گنج سیٹ سے سنیل شرما نے ۲؍ لاکھ ۱۴؍ ہزار ووٹوں سے جیت حاصل کرکے اس ریکارڈ کو توڑ دیا تھا۔ سونیترا پوار نے ان دونوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ۲؍ لاکھ ۱۸؍ ہزار ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے۔
راہور ی میں بی جے پی کی جیت
بارامتی کے ساتھ ہی احمد نگر ضلع میں واقع راہوری سیٹ پر بھی ضمنی الیکشن ہوئےتھے۔ یہاں پہلے بی جے پی کے شیواجی رائو کرڈیلے رکن اسمبلی تھے جن کی موت کے بعد دوبارہ الیکشن کروائے گئے۔ بی جے پی نے شیواجی رائو کے بیٹے اکشے کرڈیلے کو ٹکٹ دیا تھا جنہوں نےاین سی پی (شرد) کے امیدوار گووند کھنڈو موکاٹے کو ایک لاکھ ۱۲؍ ہزار ووٹوں سے شکست دیدی۔ اکشے کو کل ایک لاکھ ۴۰؍ ہزار۹۳؍ ووٹ ملے جبکہ موکاٹے نے ۲۷؍ ہزار ۵۰۶؍ ووٹ حاصل کئے۔
کارکنان کو جیت کا جشن نہ منانے کی تلقین
بارامتی اسمبلی حلقے سے کامیابی حاصل کرنے والی سونیترا پوار نے اپنے کارکنان کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان کی جیت کا جشن نہ منائیں اور کوئی جلوس نہ نکالیں۔ انہوں نے اپنی جیت کو اپنے شوہر اجیت پوار سے منسوب کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے بارامتی کے عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔
یاد رہے کہ سونیترا پوار نے ۲؍ لاکھ ۱۸؍ ہزار سے زائد ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے لیکن الیکشن کے ابتدائی نتائج آتے ہی جب انہیں اندازہ ہو گیا کہ وہ الیکشن جیتنے والی ہیں تو انہوں نے اپنے کارکنان کے نام ایک ٹویٹ کیا۔ انہوں نے لکھا’’آج بارامتی الیکشن کے نتائج آ رہے ہیں۔ آپ سبھی نے اپنے ووٹوں کے ذریعے مجھ پر جو اعتماد ظاہر کیا ہے اسے میں اجیت دادا کی پاکیزہ روح کے نام کرتی ہوں۔ آج کی اس جیت سے اجیت دادا کی یادوںپر روشنی چھا گئی جس سے ہم سب جذباتی ہیں۔‘‘ انہوں نے لکھا’’ دادا سے جان سے زیادہ پیار کرنے والے تمام کارکنان سے مودبانہ گزارش ہے کہ اس جیت کے جشن کے طور پر کوئی جلوس نہ نکالا جائے نہ ہی گلال اڑایا جائے۔ ‘‘ سونیترا پوار نے نصیحت کی کہ ’’ آپ تحمل سے کام لیں اور اجیت دادا کے نظریات پر عمل پیرا رہیں۔ دادا کے خوابوں کی تکمیل کا موقع مجھے عنایت کرنے کیلئے میں تمام اہل بارامتی کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ یہ اختتام نہیں بلکہ شروعات ہے، بنیاد کی، جدوجہد کی اور نئے بارامتی کی۔ ‘‘
یاد رہے کہ اجیت پوار کا اسی سال جنوری میں ایک طیارہ حادثے میں انتقال ہوا ہے۔ سونیترا پوار نے ان کی موت کے تیسرے ہی دن نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا تھا۔ وہ اپنے شوہر کی موت کا ٹھیک سے سوگ بھی نہیں منا پائی۔ آئین کی رو سے انہیں عہدہ سنبھالنے کے بعد ۶؍ ماہ کے اندر اسمبلی کی رکنیت حاصل کرنی تھی۔ لہٰذا انہوں نے ضمنی انتخابات میں حصہ لیا اور بارامتی سے جیت حاصل کی۔