شاعر مشرق اور حکیم الامت علامہ اقبال ایک ایسے دانشور ہیں جنہوں نے مشرقی و مغربی افکار کے ساتھ ہندوستان کی مذہبی و فلسفیانہ روایات کو بھی اپنی فکر و نظر کا حصہ بنایا۔
علامہ اقبال۔ تصویر:آئی این این
علامہ سر ڈاکٹرمحمد اقبال(۹؍نومبر ۱۸۷۷۔۲۱؍اپریل ۱۹۳۸) کا کلام اپنی فکری وسعت، تہذیبی ہم آہنگی اور روحانی گہرائی کے باعث برصغیر کی مشترکہ ثقافت کا آئینہ دار ہے۔ اقبال ؔمحض ایک اسلامی مفکر یا شاعر نہیں بلکہ وہ ایک ایسے دانشور ہیں جنہوں نے مشرقی و مغربی افکار کے ساتھ ساتھ ہندوستانی مذہبی و فلسفیانہ روایات کو بھی اپنی فکر و نظر کا حصّہ بنایا۔ ان کے کلام میں جہاں قرآن و حدیث کے حوالے ملتے ہیں وہیں ویدوں، اپنشدوں اور ہندو سناتن دھرم کے تصورات کے لطیف اشارات بھی نمایاں نظر آتے ہیں اور یہی تخلیقی وصف اقبالؔ کو ایک ہمہ گیر اور آفاقی مفکر بناتا ہے لیکن افسوس کہ حالیہ دنوں میں وطن عزیز میں کچھ اس طرح کی نظریاتی تبدیلی واقع ہوئی ہے اور بالخصوص جامعاتِ ہند میں ایک مخصوص نظریے کو فروغ مل رہاہے ایسے وقت میں اقبالؔ کے فکرونظر کومتنازع فیہ بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔بہر حال!حال ہی میں راقم الحروف کو اقبال انسٹی ٹیوٹ ، کشمیر یونیورسٹی ، سری نگر میں حاضری کا موقع نصیب ہوا کہ مجھے وہاں ایک توسیعی خطبہ پیش کرنا تھا۔ واضح ہو کہ اقبال انسٹی ٹیوٹ جسے اب اقبال انسٹی ٹیوٹ آف کلچر اینڈ فلاسفی کا نام دیا گیاہے گزشتہ نصف صدی سے مطالعۂ اقبال کا مرکزِ خاص ہے اور عالمی سطح پر اقبال شناسی کو فروغ دینے کا فریضہ انجام دے رہاہے ۔اس ادارہ کے بانی اردو ادب کے عالمی شہرت یافتہ دانشور وناقد پروفیسرآل احمد سرور تھے ، اس کے بعد پروفیسر صبیح احمد کمالی ، پروفیسر محمد امین اندرابی، پروفیسر بشیر احمد نحوی، پروفیسر تسکینہ فاضلی ، پروفیسر مشتاق احمد گنائی ، پروفیسر الطاف انجم اور اب پروفیسر محمد سعید بھٹ اس کے ڈائرکٹر ہیں۔یہ ادارہ اقبال شناسوں کے لئے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے اور بالخصوص پروفیسر بشیر احمد نحوی کی قیادت میں علمی اور ادبی سرگرمیوں اور اقبالؔ کے افکار ونظریات کے فروغ کی جد وجہد کی وجہ سے اس ادارہ کو ایک منفرد شناخت عطا ہوئی ہے۔لیکن اب یہاں بھی مطالعۂ اقبالیات میں دلچسپی رکھنے والے کے سامنے ایک بڑا چیلنج ہے کہ ملک کی بدلتی فضا میںوہ کس طرح اقبال شناسی کو فروغ دیں اور اقبال انسٹی ٹیوٹ کی معنویت کو بر قرار رکھیں۔
راقم الحروف ۲۸؍ اپریل ۲۰۲۶ء کو وہاں کے موجودہ ڈائرکٹر پروفیسر الطاف انجم، پروفیسر مشتاق احمد گنائی ، ڈاکٹر اسرار احمداور ڈاکٹر وسیم نحوی کے ساتھ ساتھ وہاں کے ریسرچ اسکالروں اور طلباء وطالبات سے روبرو ہوا اور ان سبھوں کی فکر مندی سے آگاہی حاصل کی لیکن میرا موقف ہے کہ عصرِ حاضر میں اقبالؔ کے فکر ونظر کے تئیں جس طرح کے نظریاتی تعصبات پیدا ہوئے ہیں ایسے وقت میں اقبالؔ شناسوں کو بھی مطالعۂ اقبال کی نئی جہتوں کی تلاش کرنی ہوگی۔ کیوں کہ ہمارے بہت سے ایسے اقبال شناس ہیں جنہوں نے اقبالؔ کے افکار ونظریات کو محض اسلامی تشخص تک محدود کرنے کی کوشش کی ہے اور اس سے بھی غلط فہمیاں عام ہوئی ہیں۔
واضح ہو کہ اقبالؔ کے عہد کا ہندوستان مذہبی، تہذیبی اور فکری تنوع کا گہوارہ تھا۔ یہاں صدیوں سے مختلف مذاہب اور تہذیبیں ایک دوسرے کے ساتھ تعامل میں تھیں۔ اقبالؔ نے اس تنوع کو نہ صرف دیکھا بلکہ اسے اپنی شاعری میں مثبت انداز میں پیش کیا۔ ویدک فلسفہ، جو ہندو سناتن مذہب کی بنیاد ہے، وحدت الوجود، کائناتی ہم آہنگی اور روحانیت جیسے تصورات پر مشتمل ہے۔ اقبالؔ نے ان تصورات کو اپنے فلسفۂ خودی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔مثلاً اقبال کے کلام میں‘‘وحدت’’کا تصور بار بار سامنے آتا ہے، جو کسی نہ کسی صورت میں ویدانت کے فلسفے سے قریب معلوم ہوتا ہے۔ شنکر آچاریہ کے فلسفہ ادویت (Advaita) میں کائنات کی تمام کثرت کو ایک ہی حقیقت کا مظہر قرار دیا گیا ہے۔ اقبالؔ اگرچہ مکمل طور پر ادویت کے قائل نہیں، لیکن وہ اس میں پوشیدہ روحانی وحدت کو سراہتے ہیں۔ ان کے اشعار میں’’یک ہی جلوہ ہر رنگ میں نمایاں ہے‘‘جیسی کیفیت اس ہم آہنگی کی عکاسی کرتی ہے۔اقبال ؔنے ہندو مذہب کی مقدس کتاب وید کا ذکر نہایت احترام سے کیا ہے۔ ان کے نزدیک وید محض مذہبی متون نہیں بلکہ ایک تہذیبی ورثہ ہیں جو انسان کو کائنات کے اسرار سمجھنے کی دعوت دیتے ہیں۔اسی طرح اپنشد میں بیان کردہ’’آتمن‘‘(روح) اور ’’برہمن‘‘ (کائناتی روح) کے تصورات اقبالؔ کے فلسفۂ خودی کے ساتھ ایک مکالمہ قائم کرتے ہیں۔ اقبالؔ خودی کو ایک فعال، تخلیقی اور ارتقائی قوت کے طور پر پیش کرتے ہیں، جبکہ اپنشد میں آتمن کو برہمن کے ساتھ اتحاد کی منزل تک پہنچنے والا عنصر بتایا گیا ہے۔ یہاں ایک دلچسپ فکری تقابل سامنے آتا ہے۔ اپنشد کا فلسفہ فنا میں بقا تلاش کرتا ہے، جبکہ اقبال خودی کے استحکام اور ارتقا پر زور دیتے ہیں۔اقبالؔ کے بعض اشعار میں براہ راست ہندو دیومالا اور سناتن روایت کے کرداروں کا ذکر بھی ملتا ہے۔ مثلاً رام اور کرشن جیسے کرداروں کو وہ محض مذہبی شخصیات کے طور پر نہیں بلکہ اخلاقی و روحانی نمونوں کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ رام کو وہ’’امامِ ہند‘‘کہہ کر پکارتے ہیں، جو ان کی کشادہ نظری اور ہندوستانی تہذیب سے محبت کا ثبوت ہے ؎
ہے رام کے وجود پہ ہندوستان کو ناز/ اہلِ نظر سمجھتے ہیں اس کو امامِ ہند
اقبالؔ کا کلام دراصل مذاہب کے درمیان ایک فکری پُل کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ نہ صرف اسلام بلکہ ہندو مت، بدھ مت اور دیگر مذاہب کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں۔ ان کی یہ روش ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ تہذیبی و مذہبی تنوع کو تصادم کے بجائے مکالمے کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ اقبال ؔکے کلام میں وید اور ہندو سناتن مذہب کے اشارات محض ادبی حوالے نہیں بلکہ ایک گہرے فکری شعور کا اظہار ہیں۔ وہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کو ایک ایسی وحدت میں دیکھتے ہیں جہاں مختلف مذاہب اپنی انفرادیت کے ساتھ ایک بڑے انسانی مقصد کی تکمیل کرتے ہیں۔ اقبالؔ کا یہ پیغام آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا ان کے زمانے میں تھا۔انسانیت، روحانیت اور فکری ہم آہنگی ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک بہتر مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ عہدِ حاضر کے تقاضوں کی روشنی میں مطالعۂ اقبالؔ کی نئی جہتیں تلاش کی جائیں اور اقبال شناسوں کے سامنے جو چیلنجز اور مسائل ہیں اس کا حل کلامِ اقبالؔ کے افہام وتفہیم کے ذریعہ تلاش کیا جائے کہ کلامِ اقبالؔ صرف ایک شاعرانہ تخلیق ہی نہیں بلکہ انسانی معاشرے کیلئے ایک مصلحانہ نسخۂ کیمیا کی حیثیت رکھتاہے۔