Inquilab Logo Happiest Places to Work

مغربی بنگال: دس سوال اور اُن کا جواب

Updated: May 05, 2026, 12:24 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

کیا مغربی بنگال میں بی جے پی جیت گئی؟ ہاں جیت گئی۔ کیوں جیتی؟ اس لئے کہ طاقت کے بھرپور استعمال کے باوجو د نہ جیت پاتی تو اس کی شان گھٹ جاتی۔ کیا ٹی ایم سی کی ہار میں الیکشن کمیشن کا بھی رول ہے؟ اس سوال کے جواب سے ہر خاص و عام واقف ہے۔

BJP Workers Celebrate In Kolkata. Photo: PTI
بی جے پی کارکن کولکاتا میں جشن مناتے ہوئے۔ تصویر:پی ٹی آئی

کیا مغربی بنگال میں بی جے پی جیت گئی؟ ہاں جیت گئی۔ کیوں جیتی؟ اس لئے کہ طاقت کے بھرپور استعمال کے باوجو د نہ جیت پاتی تو اس کی شان گھٹ جاتی۔ کیا ٹی ایم سی کی ہار میں الیکشن کمیشن کا بھی رول ہے؟ اس سوال کے جواب سے ہر خاص و عام واقف ہے۔ ایس آئی آر کے ذریعہ ۲۷؍ لاکھ نام انتخابی فہرستوں سے ہٹائے گئے جو اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے۔ یہ ریکارڈ ملک کی تاریخ میں پہلی بار مغربی بنگال میں بنا ہے۔ کیا یہ کہنا غلط ہوگا کہ ممتا بنرجی کی مقبولیت اور اُن کی پارٹی کے اثرورسوخ کو کچھ زیادہ آنکا جارہا تھا؟ جی نہیں، اسے زیادہ نہیں آنکا جارہا تھا کیونکہ ریاست میں ایس آئی آر کے خلاف برہمی تھی۔ وہ لوگ بھی جو ٹی ایم سی کے ووٹر نہیں ہیں ایس آئی آر کی مار جھیل رہے تھے۔ ممتا بنرجی کی عوامی اسکیمیں بالخصوص خواتین سے متعلق اسکیمیں ترپ کے پتے جیسی تھیں۔ اُنہیں مسلمانوں کی حمایت بھی حاصل تھی اور خواتین کی بھی۔ دیگر طبقات کو چھوڑ کر انہی دو طبقات کو پیش نظر رکھیں تو یہ آدھی سے زیادہ آبادی ہوجاتی ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ ممتا کے ہارنے کا سوال ہی نہیں تھا۔ پھر کیا ہوا کہ ممتا یعنی اُن کی پارٹی ہار گئی؟ اس کا جواب جتنا مشکل ہے اُتنا ہی آسان بھی ہے۔ مشکل اس لئے ہے کہ جب تک ایک ایک حلقے کا ووٹنگ پیٹرن سامنے نہیں آتا جواب نہیں دیا جاسکتا۔ آسان اس لئے ہے کہ دیگر کئی عوامل ہیں جو بیک وقت اثر پزیر تھے۔ ریاستی حکومت کے اعلیٰ سرکاری افسران کا تبادلہ، ایس آئی آر کا نفاذ، مرکزی ایجنسیوں کی خصوصی دلچسپی (جیسے ترنمول کی انتخابی حکمت عملی تیار کرنے والے ادارہ آئی پیک کے ڈائریکٹر ونیش چندیل کی ای ڈی کے ذریعہ گرفتاری)، اس سے قبل مغربی بنگال کو مرکز سے ملنے والے فنڈز کا صحیح طریقے سے نہ مل پانا، نیم سرکاری دستوں کا غیر معمولی تعداد میں تعینات کیا جانا جس کے ذریعہ یہ تاثر دینا مقصود تھا کہ ٹی ایم سی کی دھاندلی کو روکنے کیلئے ایسا کیا جارہا ہے اور ایسے کئی اقدامات نے مرکزی اور ریاستی حکومت کو ایک دوسرے کے مقابلے میں کھڑا کردیا تھا۔ کیا اس الیکشن میں پندرہ سال سے جاری ممتا حکومت کے خلاف اقتدار مخالف ووٹ بھی سرگرم ہوا؟ خیال کیا جا رہا تھا کہ اقتدار مخالف ووٹ، جو فطری ہوتا ہے، ایس آئی آر سے پیدا شدہ عوامی برہمی سے بے اثر ہوجائیگا مگر ایسا لگتا ہے کہ یہ نہیں ہوا اور اقتدار مخالف ووٹ حاوی ہوگیا۔ کیا ممتا حکومت کے خلاف بدعنوانی کے الزامات اور پھر آرجیکر میڈیکل کالج سانحہ کی وجہ سے بھی مخالف ماحول پایا جارہا تھا جسے صحیح طور پر سمجھا نہیں گیا؟ ممکن ہے کہ یہ بھی ہوا ہو مگر اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی پڑے گی کہ اگر ممتا ہر ممکن جدوجہد کرنے اور ہر چیلنج کو قبول کرنے کے اپنے مزاج کے مطابق سرگرم نہ رہتیں تو کاؤنٹنگ کیا پولنگ سے بھی پہلے ہار جاتیں۔ کیا اس شکست کو ممتا کے زوال کا آغاز سمجھنا چاہئے؟ نہیں۔ ممتا بنرجی نے نتائج کو تسلیم کیا ہے مگر ہار نہیں مانی ہے۔ وہ خود کو منوانے والی خاتون ہیں۔ اسی لئے کل ہی اُنہوں نے صاف کہا کہ ہم واپس آئینگے۔ ممتا کی پارٹی کا ہارنا سمجھ میں آتا ہے مگر بھوانی پور سے ممتا کے خود بھی ہار جانے کو کیا سمجھیں؟ اس سوال کے جواب کیلئے ایک آدھ روز رُکنا ہو گا تب ہی سمجھ میں آئیگا کہ بھوانی پور میں ۱۵؍ ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ممتا کے ہارنے کی کیا وجوہات ہیں۔ آخری سوال: کیا بنگال بی جے پی کو راس آئیگا؟ اس بابت عام رائے یہ ہے کہ جو راس نہیں آتا وہ ای ڈی کے پاس آتا ہے۔ اب یہ کھلا ہوا راز ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK