فلمساز نیرج پانڈے نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کر کے واضح کیا ہے کہ فلم کا متنازع نام ’’گھوس خور پنڈت‘‘ واپس لے لیا گیا ہے اور فلم میں کسی مذہب یا برادری کی توہین کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ عدالت نے اس سے قبل عنوان پر سخت تبصرے کئے تھے۔
EPAPER
Updated: February 19, 2026, 5:05 PM IST | New Delhi
فلمساز نیرج پانڈے نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کر کے واضح کیا ہے کہ فلم کا متنازع نام ’’گھوس خور پنڈت‘‘ واپس لے لیا گیا ہے اور فلم میں کسی مذہب یا برادری کی توہین کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ عدالت نے اس سے قبل عنوان پر سخت تبصرے کئے تھے۔
فلمساز نیرج پانڈے نے سپریم کورٹ کے سامنے ایک تفصیلی حلف نامہ داخل کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلم کا سابقہ عنوان ’’گھوس خور پنڈت‘‘ غیر واضح طور پر واپس لے لیا گیا ہے اور آئندہ اسے کسی بھی صورت استعمال نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ نہ ان کا اور نہ ہی ان کے پروڈکشن ہاؤس کا کسی مذہب، ذات یا برادری کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا کوئی دانستہ یا بدنیتی پر مبنی ارادہ تھا۔ حلف نامے میں کہا گیا کہ فلم کسی بھی مذہب یا طبقے کی توہین نہیں کرتی اور نہ ہی کسی کمیونٹی کو بدعنوان کے طور پر پیش کرتی ہے۔ فلم کو ایک فرضی پولیس ڈرامہ قرار دیا گیا ہے جو مجرمانہ تفتیش کے گرد گھومتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’کاک ٹیل ۲‘‘ کی کہانی افشاں ، شاہد نہیں،کریتی اور رشمیکا مرکزی کردار نبھائیں گی
پروموشنل مواد واپس لینے کا اقدام
حلف نامے کے مطابق ۳؍ فروری کو ٹیزر جاری ہونے کے بعد اعتراضات سامنے آئے، جس پر ۶؍ فروری ۲۰۲۶ء کو فلم سے متعلق تمام پروموشنل مواد واپس لے لیا گیا۔ پانڈے نے عدالت کو بتایا کہ نئے عنوان کو حتمی شکل دینا باقی ہے، تاہم وہ پہلے عنوان سے مماثلت نہیں رکھے گا اور نہ ہی کسی قسم کی غیر ارادی منفی تشریح کو جنم دے گا۔
عدالتی کارروائی اور ریمارکس
۱۲؍ فروری کو سپریم کورٹ نے عنوان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کو کسی کمیونٹی کو بدنام کرنے کے لائسنس کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس بی وی ناگرتھنا اور اجل بھویان کی بنچ نے مرکز، سی بی ایف سی اور فلمساز کو نوٹس جاری کیا تھا اور اشارہ دیا تھا کہ عنوان کی تبدیلی تک فلم کی ریلیز ممکن نہیں ہوگی۔ پی آئی ایل میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ’پنڈت‘ جیسی ذات پات کی شناخت کو ’گھوس خور‘ جیسے لفظ کے ساتھ جوڑنا ایک مخصوص برادری کے خلاف ہتک آمیز تاثر پیدا کرتا ہے اور آئینی دفعات کی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: عامر خان نے ’’او رومیو‘‘کی کہانی بدل دی ، ویلن کو مارنے کا پلان وشال نے بتا دیا
دہلی ہائی کورٹ کی پیش رفت
حلف نامے میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسی نوعیت کی درخواست پہلے دہلی ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھی، جسے ۱۰؍ فروری کو اس بیان کے بعد نمٹا دیا گیا کہ عنوان تبدیل کیا جائے گا۔ پانڈے نے سپریم کورٹ سے بھی درخواست کی ہے کہ چونکہ متنازع عنوان واپس لے لیا گیا ہے، اس لیے عرضی کو نمٹا دیا جائے۔