• Fri, 20 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بالی ووڈ کبھی نہیں چھوڑنا چاہتی تھی مگر کچھ نیا کرنا چاہتی تھی: پرینکا چوپڑہ

Updated: February 20, 2026, 6:04 PM IST | Mumbai

پرینکا چوپڑہ نے کہا ہے کہ وہ کبھی بھی بالی ووڈ چھوڑنا نہیں چاہتی تھیں۔ تاہم انہوں نے ہندی فلم انڈسٹری اس لیے چھوڑی کیونکہ انہیں یہاں خود کو’’محدود‘‘ محسوس ہوتا تھا۔

Priyanka Chopra.Photo:INN
پرینکا چوپڑہ۔ تصور:آئی این این

اداکارہ  پرینکاچوپڑہ نے حال ہی میں فرسٹ پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ہالی ووڈ میں اپنی پہچان بنانے کے بارے میں کھل کر بات کی۔ عالمی شہرت یافتہ اداکارہ نے بتایا کہ انہوں نے بالی ووڈ سے باہر مواقع تلاش کرنے شروع کیے کیونکہ انہیں بطور فنکارہ کچھ نیا اور پُرجوش تلاش کرنے کی طرف ’’دھکیلا‘‘ گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:ہندوستانی سنیما کیلئے ’’کے پوپ‘‘ اور ’’اینیمی‘‘ جیسا فین بیس بنانا چاہتا ہوں: راجہ مولی

ہالی ووڈ اداکارہ  نے کہا کہ ’’مجھے نہیں لگتا کہ میں نے کبھی بالی ووڈ چھوڑنے کا ارادہ کیا تھا۔ جب میں ہندی فلموں میں کام کر رہی تھی تو کئی وجوہات کی بنا پر خود کو محدود محسوس کرتی تھی۔ میں اپنے کام کا دائرہ وسیع کرنا چاہتی تھی۔ مجھے کچھ ایسا تلاش کرنے کی طرف مائل کیا گیا جو بطور آرٹسٹ میرے لیے پُرجوش ہو۔  اس طرح  میں امریکہ میں کام کرنے لگی اور اب تقریباً ۱۲؍سال بعد مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں بہترین کام کا انتخاب کرنے کی رفتار حاصل کر رہی ہوں اور یہ آسان نہیں ہوتا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:ہرمن پریت کا عالمی ریکارڈ: سب سے زیادہ انٹرنیشنل میچ کھیلنے والی خاتون کرکٹر بنیں

 پرینکا چوپڑہ کئی ہالی ووڈ منصوبوں کا حصہ رہ چکی ہیں جن میں دی بلف، سیٹاڈیل، ہیڈس آف اسٹیٹ، لو اگین اور کوانٹیکو سمیت دیگر شوز شامل ہیں۔ ان کی آخری ہندی فلم دی اسکائی اِ پنک  تھی جو۲۰۱۹ء میں  ہندوستان  میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس وقت پرینکا چوپڑہ ایس ایس راجہ مولی کی فلم وارانسی  پر کام کر رہی ہیں اور وہ اس منصوبے اور مہیش بابو کے ساتھ اپنی شراکت کے لیے پُرجوش ہیں۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے اداکارہ نے کہا ’’مجھے اپنی  ہندوستانی  فلمیں بہت پسند ہیں۔ میں ہندوستان  واپس آ کر وارانسی  میں کام کر کے بہت خوش ہوں اور میں کبھی یہ انتخاب نہیں کرنا چاہوں گی کہ دونوں میں سے کس کو چنوں۔ میں نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ مجھے لگتا ہے کہ میں دونوں دنیا  میں بیک وقت کام کر رہی ہوں اور دونوں انڈسٹریز میں کام کرنے سے لطف اندوز ہوتی ہوں۔ دونوں میں کام کرنے کا انداز مختلف ہے، جیسے ثقافتیں مختلف ہوتی ہیں، لیکن اب میرا ذہن دونوں طریقوں سے کام کر سکتا ہے، اس لیے یہ ایک منفرد، شاندار اور دلچسپ تجربہ ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK