وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ عبوری تجارتی معاہدے کے قانونی متن کو حتمی شکل دینے کے لیے ہندوستانی اور امریکی حکام کی میٹنگ ۲۳؍فروری سے شروع ہوگی۔
EPAPER
Updated: February 20, 2026, 6:05 PM IST | New Delhi
وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ عبوری تجارتی معاہدے کے قانونی متن کو حتمی شکل دینے کے لیے ہندوستانی اور امریکی حکام کی میٹنگ ۲۳؍فروری سے شروع ہوگی۔
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان عبوری تجارتی معاہدہ مارچ میں دستخط ہو سکتا ہے اور اپریل میں نافذ العمل ہو سکتا ہے۔ یہ معلومات وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے جمعہ کے روز دی۔ ساتھ ہی گوئل نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ عبوری تجارتی معاہدے کے قانونی متن کو حتمی شکل دینے کے لیے ہندوستانی اور امریکی حکام کی میٹنگ ۲۳؍فروری سے شروع ہوگی۔
اس مہینے کے آغاز میں ہندوستان اور امریکہ نے عبوری تجارتی معاہدے پر مشترکہ بیان جاری کیا تھا۔ اس کے تحت امریکہ میں ہندوستانی برآمدات پر ٹیرف کو ۵۰؍ فیصد سے کم کرکے ۱۸؍ فیصد کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ اور عمان کے ساتھ ہندوستان کے آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے اپریل میں نافذ ہونے کا امکان ہے۔ نیوزی لینڈ کے ساتھ ہوا معاہدہ ستمبر میں نافذ ہونے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ہرمن پریت کا عالمی ریکارڈ: سب سے زیادہ انٹرنیشنل میچ کھیلنے والی خاتون کرکٹر بنیں
اس دوران صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے گوئل نے کہا کہ عالمی تجارت کا فائدہ ہر ایم ایس ایم ای، ہر تاجر اور ہر چھوٹے بڑے اسٹارٹ اپ تک پہنچنا چاہیے۔ ہماری کوشش نئے برآمد کنندگان کو آگے بڑھانا ہے۔ ساتھ ہی، ہماری مصنوعات اور خدمات کو دنیا کے مختلف ممالک اور براعظموں تک پہنچانا ہے۔
گزشتہ ہفتے گوئل نے کہا تھا کہ ہند-امریکہ عبوری تجارتی معاہدہ خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے صارفین کے مفادات اور برآمدات پر مبنی ترقی کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ہندوستانی سنیما کیلئے ’’کے پوپ‘‘ اور ’’اینیمی‘‘ جیسا فین بیس بنانا چاہتا ہوں: راجہ مولی
گوئل نے کہا کہ ۴؍ ٹریلین ڈالر کی معیشت ہونے کے باعث ہم نے اس معاہدے میں مضبوط پوزیشن کے ساتھ بات چیت کی ہے اور اپنے ملک کے خود کفیل شعبوں کو محفوظ رکھا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چاول، گندم، مکئی، باجرہ اور دودھ جیسی ’حساس‘ زرعی مصنوعات کو اس معاہدے سے باہر رکھا گیا ہے تاکہ اس تجارتی ڈیل کا کوئی منفی اثر نہ پڑے۔مرکزی وزیر نے کہاکہ ’’امریکہ کو دودھ، پولٹری، گوشت، گندم، چاول، مکئی اور سویا بین پر کوئی ٹیرف رعایت نہیں دی گئی ہے۔ہندوستان نے صرف ان اشیا کے لیے محدود رسائی کی اجازت دی ہے جن کی اسے ضرورت ہے یا جن کی وہ اضافی پیداوار نہیں کرتا، جیسے اخروٹ، پستہ اور کچھ خاص اقسام کی شراب، جن پر کم از کم درآمدی قیمت لاگو ہے۔‘‘