بالی ووڈ اداکار سنجے دت نے ہندوستان میں سکون سے متعلق اپنے متنازع بیان پر ایک بار پھر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروگرام میں کہی گئی باتیں ان کے ذاتی خیالات، احساسات یا نظریات کی عکاسی نہیں کرتیں۔
EPAPER
Updated: October 06, 2026, 6:24 PM IST | Mumbai
بالی ووڈ اداکار سنجے دت نے ہندوستان میں سکون سے متعلق اپنے متنازع بیان پر ایک بار پھر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروگرام میں کہی گئی باتیں ان کے ذاتی خیالات، احساسات یا نظریات کی عکاسی نہیں کرتیں۔
بالی ووڈ اداکار سنجے دت نے ہندوستان میں سکون سے متعلق اپنے متنازع بیان پر ایک بار پھر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروگرام میں کہی گئی باتیں ان کے ذاتی خیالات، احساسات یا نظریات کی عکاسی نہیں کرتیں۔ اداکار نے واضح کیا کہ ان کا بیان ایک پہلے سے طے شدہ مکالمے اور مزاحیہ پیشکش کا حصہ تھا، جسے پروگرام کے مخصوص انداز اور سیاق و سباق میں سمجھا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے:میسی رونالڈو سے۱۵؍کروڑ ڈالر پیچھے، آمدنی کے معاملے میں پرتگالی اسٹار کی برتری
سنجے دت نے کیمرے کے سامنے نئی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ ان کے بیان پر لوگوں نے حیرت کا اظہار کیا اور بعض افراد نے اس سے اختلاف بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگوں کے جذبات کو سمجھتے ہیں، اسی لیے ضروری سمجھا کہ وہ خود اس معاملے کا پس منظر واضح کریں۔اداکار کے مطابق شو میں انہوں نے جو کچھ کہاکہ وہ ایک تحریری اور پہلے سے تیار کردہ مکالمے کا حصہ تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس حصے میں ادا کیے گئے جملوں کو ان کی ذاتی رائے، سوچ یا احساسات تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔ اپنی وضاحت کے اختتام پر انہوں نے ’جے ہند، جے بھارت‘ بھی کہا۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب سنجے دت نے اداکار اور میزبان شیکھر سمن کے پروگرام’’شیکھر ٹونائٹ‘‘ کی گاندھی جینتی خصوصی قسط میں ہندوستان کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان کے لوگ بہت محبت کرنے والے، کشادہ دل اور مہمان نواز ہیں، لیکن انہیں اب ملک میں پہلے جیسا سکون محسوس نہیں ہوتا۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی تھی کہ ملک میں دوبارہ وہی امن اور ہم آہنگی لوٹ آئے۔ ان کے اس بیان کے بعد سماجی ذرائع ابلاغ پر مختلف ردعمل سامنے آئے۔ کچھ لوگوں نے ان کی بات کو ہندوستان کی موجودہ صورتحال پر تنقید کے طور پر لیا، جبکہ دوسروں نے اسے پروگرام کے طنزیہ اور مزاحیہ انداز کا حصہ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے:’’بنچ آف تھیوز‘‘: جب جیفری آرچر نے بالی ووڈ پر کہانیاں چرانے کا الزام لگایا
پروگرام میں سنجے دت نے اپنے مشہور کردار منا بھائی کے انداز میں ایک طنزیہ پیشکش بھی کی۔ اس حصے میں وہ فرضی طور پر ملک کے وزیر اعظم کا کردار ادا کرتے نظر آئے اور سیاسی معاملات پر مزاحیہ انداز میں تبصرہ کیا۔
اس پیشکش میں ان کی فلم ’’لگے رہو منا بھائی‘‘ سے وابستہ ’گاندھی گیری‘ کے تصور کی جھلک بھی نظر آئی۔ سنجے دت نے بعد میں وضاحت کی کہ اس انداز کا مقصد محبت، گرمجوشی، اتحاد اور خیرسگالی کا پیغام دینا تھا، نہ کہ کسی فرد، برادری یا ادارے کی توہین کرنا۔سنجے دت نے اس سے قبل سماجی ذرائع ابلاغ پر ایک تحریری بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا مقصد کسی فرد، برادری یا ادارے کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا یا بے ادبی کرنا ہرگز نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے بیان کو ایک ہلکے پھلکے، مزاحیہ اور پہلے سے طے شدہ مکالمے کا حصہ قرار دیا تھا۔
اب نئے ویڈیو وضاحت میں انہوں نے اس مؤقف کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروگرام میں کہی گئی باتوں کو ان کے حقیقی خیالات نہ سمجھا جائے۔ اس تنازع کے دوران پروگرام کے میزبان شیکھر سمن نے بھی سنجے دت کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اداکار کی باتوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر دیکھا گیا اور سنجے دت ہندوستان اور اس کے عوام سے گہری محبت رکھتے ہیں۔ سمن نے لوگوں سے اپیل کی کہ اداکار کے الفاظ کو ان کے اصل مقصد اور پروگرام کے مزاحیہ انداز کے تناظر میں سمجھا جائے۔ تازہ وضاحت کے بعد سنجے دت نے ایک بار پھر یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ ان کا مقصد ہندوستان، اس کے عوام یا کسی بھی طبقے کے بارے میں منفی تاثر پیدا کرنا نہیں تھا۔ ان کے مطابق متنازع جملے ایک اداکاری اور تحریری مکالمے کا حصہ تھے، نہ کہ ان کے ذاتی خیالات۔