برطانوی مصنف اور سابق سیاست دان جیفری آرچر نے اپنے شاندار ادبی سفر کے دوران ہندوستان میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی، لیکن بالی ووڈ کے ساتھ ان کا تعلق ہمیشہ خوشگوار نہیں رہا۔
EPAPER
Updated: October 06, 2026, 4:04 PM IST | London
برطانوی مصنف اور سابق سیاست دان جیفری آرچر نے اپنے شاندار ادبی سفر کے دوران ہندوستان میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی، لیکن بالی ووڈ کے ساتھ ان کا تعلق ہمیشہ خوشگوار نہیں رہا۔
برطانوی مصنف اور سابق سیاست دان جیفری آرچر نے اپنے شاندار ادبی سفر کے دوران ہندوستان میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی، لیکن بالی ووڈ کے ساتھ ان کا تعلق ہمیشہ خوشگوار نہیں رہا۔ ۲۰۱۵ء میں ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے ہندی فلم صنعت پر اپنی کتابوں کی کہانیاں اجازت اور معاوضے کے بغیر استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے بالی ووڈ کے فلم سازوں کے لیے انتہائی سخت الفاظ استعمال کیے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہالی ووڈ کو چھوڑیں اور بالی ووڈ کو دیکھیں، جہاں ان کے بقول ’’بنچ آف تھیوز‘‘نے ان کی کئی کتابوں سے کہانیاں لے لی ہیں۔
آرچر نے خاص طور پر دو فلموں کا ذکر کیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ۲۰۱۱ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’’لیڈیز ورسز رکی بہل‘‘ ان کے ۱۹۷۶ء کے ناول ’’ناٹ اے پینی مور، ناٹ اے پینی لیس‘‘ کی کہانی سے متاثر تھی۔ فلم میں رنویر سنگھ نے ایک ایسے شخص کا کردار ادا کیا تھا جو خواتین کو دھوکہ دیتا ہے، جبکہ بعد میں وہی خواتین اس سے بدلہ لینے کے لیے متحد ہوجاتی ہیں۔ آرچر کے ناول میں بھی ایک دھوکے باز شخص اور اس سے بدلہ لینے والے افراد کی کہانی بیان کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فیروز خان کو بالی ووڈ کے سب سے زیادہ اسٹا ئلش ہیرو کے طور پر جانا جاتا ہے
انہوں نے ۱۹۸۷ء کی فلم ’’خود غرض‘‘ کو بھی اپنے مشہور ناول ’’کین اینڈ ایبل‘‘ سے مماثلت رکھنے والی فلم قرار دیا تھا۔ آرچر کے ناول میں دو ایسے افراد کی کہانی ہے جو ایک ہی دن دنیا کے مختلف حصوں میں پیدا ہوتے ہیں اور بعد میں دولت، کامیابی اور باہمی دشمنی کے ایک طویل سفر سے گزرتے ہیں۔ دوسری جانب ’’خود غرض‘‘ میں جتیندراور شتروگھن سنہا نے ایسے کردار ادا کیے تھے جن کی زندگی اور قسمت ایک دوسرے سے گہری طرح جڑی ہوئی تھی۔ آرچر کا کہنا تھا کہ فلم نے ان کے ناول کے بنیادی خیال سے استفادہ کیا۔
آرچر نے اس معاملے پر صرف انٹرویوز میں ہی اعتراض نہیں کیا بلکہ ’’لیڈیز ورسز رکی بہل‘‘ کے ہدایت کار منیش شرما کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کتاب استعمال کی گئی لیکن انہیں اس کے لیے ایک پیسہ بھی معاوضہ نہیں دیا گیا۔ آرچر نے زور دے کر کہا تھا کہ بالی ووڈ کو مصنفین کے حقوق اور تخلیقی کام کے احترام کے معاملے میں سنجیدگی دکھانی چاہیے، کیونکہ ان کے مطابق کئی مرتبہ مصنف کی اصل کہانی میں معمولی تبدیلیاں کرکے اسے نئے عنوان کے ساتھ پیش کردیا جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بالی ووڈ پر شدید تنقید کے باوجود آرچر ہندوستانی فلم صنعت کے ساتھ مکمل طور پر دروازے بند کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ وہ اپنی کتابوں کو باقاعدہ اجازت اور حقوق کے حصول کے ساتھ فلم یا ٹیلی ویژن کے لیے ڈھالنے کے خواہش مند تھے۔ ان کی بعض کتابوں کے باقاعدہ پردۂ سیمیں حقوق بھی ہندوستانی فلم سازوں اور پروڈیوسروں نے حاصل کیے تھے۔ ۲۰۲۵ء میں اپلاؤز انٹرٹینمنٹ نے بھی آرچر کے چھ ناولوں کے خصوصی پردۂ سیمیں حقوق حاصل کیے، جن میں ’’دی کلفٹن کرونیکلز‘‘ اور’ ’فرسٹ امَنگ ایکولز‘‘ شامل ہیں۔
ہندوستان جیفری آرچر کے لیے خاص اہمیت رکھتا تھا۔ وہ کئی مرتبہ ہندوستان آئے اور یہاں ان کی کتابوں کی زبردست مقبولیت رہی۔ آرچر نے ایک موقع پر بتایا تھا کہ ہندوستان ان کی کتابوں کی سب سے بڑی منڈیوں میں شامل ہے۔ تاہم وہ کتابوں کی غیر قانونی نقل، یعنی قزاقی، سے بھی پریشان رہے۔ اسی وجہ سے ان کی بعض نئی کتابیں برطانیہ سے پہلے ہندوستان میں جاری کی جاتی تھیں تاکہ غیر قانونی نقلیں اصل کتاب سے پہلے بازار میں نہ پہنچ جائیں۔
یہ بھی پڑھئے:اسرائیل میں امریکی فوجی کمک بڑھانے کی تیاری
آرچر نے ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلق کو اپنی تحریروں میں بھی جگہ دی۔ ان کی۲۰۱۶ء کی کتاب ’’کَمِتھ دی آور‘‘ کے کئی ابواب ممبئی کے پس منظر میں تھے اور اس میں بالی ووڈ سے وابستہ ایک خاتون کردار بھی شامل تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بالی ووڈ سے متعلق ان کی ناراضی کے باوجود ہندوستانی معاشرہ، قارئین اور فلمی دنیا ان کی تخلیقی دلچسپی کا اہم حصہ رہے۔
جیفری آرچر ۵؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو۸۶؍ برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کی طویل ادبی زندگی، ہندوستان سے گہرا تعلق اور بالی ووڈ پر ان کی وہ سخت تنقید ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گئی ہے۔ دنیا بھر میں کروڑوں کتابیں فروخت کرنے والے آرچر کی یہ شکایت ادبی دنیا میں مصنف کے تخلیقی حقوق، کہانیوں کے استعمال اور فلمی موافقت کے لیے باقاعدہ اجازت کی اہمیت پر بھی ایک بڑی بحث کو اجاگر کرتی ہے۔