غزہ کے فلسطینی خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے گریسی مینشن میں زیتون کا پودا لگایا۔ ممدانی نے اس موقع پر امن کو مستقبل کی امید قرار دیتے ہوئے فلسطینی خاندانوں کے ساتھ عشائیہ بھی کیا۔
EPAPER
Updated: September 26, 2026, 6:04 PM IST | New York
غزہ کے فلسطینی خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے گریسی مینشن میں زیتون کا پودا لگایا۔ ممدانی نے اس موقع پر امن کو مستقبل کی امید قرار دیتے ہوئے فلسطینی خاندانوں کے ساتھ عشائیہ بھی کیا۔
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے فلسطین کے علاقے غزہ سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کے ساتھ شہر میں واقع اپنی سرکاری رہائش گاہ گریسی مینشن میں زیتون کا پودا لگایا۔ ممدانی نے اس موقع کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’دعا ہے کہ امن ہمارا مستقبل ہو۔ ‘‘ ممدانی کے مطابق غزہ سے آنے والے فلسطینی خاندانوں کے ساتھ انہوں نے گریسی مینشن میں عشائیہ بھی کیا اور اس کے بعد زیتون کا پودا لگایا۔ میئر کے دفتر کے مطابق تقریب میں ایسے فلسطینی نیویارکرز بھی شریک تھے جن کے اہل خانہ غزہ میں جاں بحق ہوئے ہیں، جبکہ بعض مہمان جنگ کے باعث اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔
Last night I planted an olive tree at Gracie Mansion with Palestinian families from Gaza.
— Mayor Zohran Kwame Mamdani (@NYCMayor) September 24, 2026
May peace be our future. pic.twitter.com/3snGtcAA0J
زیتون کا درخت فلسطینی ثقافت میں زمین، استقامت اور امن کی ایک نمایاں علامت سمجھا جاتا ہے۔ ممدانی کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا جب اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران ممدانی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ نیتن یاہو کی تقریر سے چند گھنٹے قبل ممدانی نے فلسطینی خاندانوں کے ساتھ زیتون کا درخت لگانے کا ویڈیو جاری کیا۔ یاد رہے کہ ممدانی اور نیتن یاہو کے درمیان غزہ جنگ اور اسرائیل سے متعلق پالیسی پر پہلے بھی اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔ تازہ واقعے میں ممدانی نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے امن کو مستقبل کی امید قرار دیا، جبکہ ان کی جانب سے زیتون کا درخت لگانے کی تقریب نے غزہ سے متاثرہ فلسطینی خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کی صورت اختیار کی۔