• Mon, 26 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیوزی لینڈ نے ہنری کو باقی ٹی ۲۰؍ میچوں سے باہر کیا

Updated: October 25, 2026, 4:02 PM IST | Auckland

کرائسٹ چرچ میں ہندوستان کے خلاف دوسرے ٹی ۲۰؍ میچ میں شکست کے بعد نیوزی لینڈ نے سیریز کے باقی میچوں کے لیے اپنے تیز گیند بازوں کو باری باری موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اس کی پہلے سے طے شدہ کام کے بوجھ کو سنبھالنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

Matt Henry.Photo:X
میٹ ہنری۔ تصویر:ایکس

کرائسٹ چرچ میں ہندوستان کے خلاف دوسرے ٹی ۲۰؍ میچ میں شکست کے بعد نیوزی لینڈ نے سیریز کے باقی میچوں کے لیے اپنے تیز گیند بازوں کو باری باری  موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اس کی پہلے سے طے شدہ کام کے بوجھ کو سنبھالنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ سب سے اہم خبر میٹ ہنری کے تعلق سے ہے، جو اب ٹی۲۰؍ سیریز میں مزید نہیں کھیلیں گے۔ وہ کرائسٹ چرچ میں ہی رکیں گے اور ۲؍ نومبر کو آکلینڈ میں ون ڈے ٹیم میں شامل ہوں گے، جو پہلے ون ڈے میچ کے آغاز سے ۲؍دن پہلے ہوگا۔ ہفتہ کو کھیلے گئے میچ میں ہنری نے صرف ۲؍ اوور پھینکے تھے اور میدان سے باہر چلے گئے تھے۔ کپتان مچل سینٹنر نے بتایا کہ انہیں پنڈلی میں کھنچاؤ محسوس ہو رہا تھا۔
لوکی فرگیوسن، جو احتیاطی طور پر میدان سے باہر چلے گئے تھے، ویلنگٹن میں ہونے والا تیسرا ٹی ۲۰؍ میچ نہیں کھیلیں گے۔ وہ آکلینڈ اور ہیملٹن میں ہونے والے آخری ۲؍میچوں کے لیے ٹیم میں واپس آ جائیں گے۔ کائل جیمیسن، جو اس سیریز میں اب تک نہیں کھیلے ہیں، تیسرے ٹی ۲۰؍ میچ کے بعد ویلنگٹن میں ہی رکیں گے۔ وہ وہاں کینٹربری کے لیے بیسن ریزرو میں فورڈ ٹرافی  کا ایک میچ کھیلیں گے، جس کا مطلب ہے کہ وہ آخری ۲؍ ٹی ۲۰؍ میچوں میں نہیں کھیل سکیں گے۔ وہ ون ڈے سیریز کے لیے ٹیم میں واپس آئیں گے۔

یہ بھی پڑھئے:یوپی میں انتخابی فہرستوں کی آزادانہ جانچ کا مطالبہ

بلیر ٹکنر آخری۳؍ میچوں کے لیے ٹیم میں شامل ہوں گے، جبکہ جوش کلارکسن آخری ۲؍ میچوں کے لیے ٹیم کا حصہ بنیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں کھلاڑیوں کو چوٹ کی وجہ سے باہر ہونے والے جیک فالکس اور مارک چیپ مین کی جگہ ۱۶؍ رکنی ابتدائی ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ میٹ فشر بھی تیسرے ٹی ۲۰؍ میچ کے لیے متبادل کھلاڑی کے طور پر ٹیم کے ساتھ ویلنگٹن جائیں گے۔
ہیڈ کوچ روب والٹر نے کہاکہ  ہم بہت خوش قسمت ہیں کہ ہماری ٹیم میں کافی گہرائی ہے۔ اس سے ہم مختلف کھلاڑیوں کو موقع دے سکتے ہیں، جس سے ہمارے تیز گیند بازوں کے کام کے بوجھ کو سنبھالنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ آنے والے تمام کرکٹ میچوں میں وہ ٹیم کے لیے اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی حالت میں رہیں۔

یہ بھی پڑھئے:اشوک کمارنےاداکاری کا انداز تبدیل کردیا تھا

نیوزی لینڈ کے پاس اپنی ٹیم میں جیکب ڈفی، نیتھن اسمتھ اور ایڈم ملنے جیسے متبادل بھی موجود ہیں، جنہیں وہ  ۰۔۲؍سے پیچھے ہونے کے بعد واپسی کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ ٹی ۲۰؍ سیریز کے بعد ۵؍ میچوں کی ون ڈے سیریز کھیلی جائے گی۔ اس کے فوراً بعد ہندوستان کے خلاف ۲؍ ٹیسٹ میچوں کی سیریز ہوگی۔ اس کے بعد نیوزی لینڈ کی ٹیم آسٹریلیا کا دورہ کرے گی، جہاں اسے  ۴؍ ٹیسٹ میچ کھیلنے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK