کانگریس نے ایس آئی آر کے بعد بھی فاش غلطیوں کو بی جےپی کی مدد کی سازش قرار دیا، ایس آئی آر پر روک لگانے کی مانگ بھی دہرائی۔
EPAPER
Updated: October 25, 2026, 11:08 AM IST | Hamidullah Siddiqui | New Delhi
کانگریس نے ایس آئی آر کے بعد بھی فاش غلطیوں کو بی جےپی کی مدد کی سازش قرار دیا، ایس آئی آر پر روک لگانے کی مانگ بھی دہرائی۔
کانگریس نے اترپردیش کی ووٹرلسٹ میں ایس آئی آر کے باجود فاش غلطیوں کی بھرمار اور شدید بے ضابطگی کو الیکشن کمیشن کے ذریعہ بی جے پی کی مدد کی منصوبہ بند سازش قرار دیتے ہوئے اس کو ناقابل قبول بتایا ہے۔ پارٹی نے اس مطالبہ کا اعادہ کیا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے فوری طور پر استعفیٰ لیا جائے اور بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لیے نافذ کیے جانے والے اس دھوکہ دہی پر مبنی ایس آئی آر کے عمل کوروکا جائے۔
ایم ایل سی ووٹرلسٹ میں غلطیاں
کانگریس نے کہا کہ ایس آئی آر کا مقصد ووٹر لسٹ میں شفافیت لانا تھا، لیکن اس کی ساکھ مشکوک ہوگئی۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات، ہریانہ، مہاراشٹر، مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں میں انتخابات میں دھاندلی کے بارے میں لوگوں کے شکوک وشبہات اب یقین میں بدل رہے ہیں۔ ہمارا پختہ یقین ہے کہ بی جے پی نے الیکشن کمیشن کے ساتھ ملی بھگت اور چوری کرکے انتخابات جیتے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری وکمیونی کیشن انچارج جے رام رمیش نے یوپی کی ووٹرلسٹ میں غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ووٹر کا نام ’رام نے یادو کو مارا‘‘ اور ’’مورکھ چند یادو‘‘ ہے۔ اسی طرح ایک ووٹر کے والد نام ’’بی کام‘‘ ہے اور دوسرے کا نام’’ رام نے شرما کو مارا‘‘ ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کیلئے ووٹر لسٹ میں اس طرح کے اندراجات ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ کے اسپتالوں کے جنریٹر کا تیل ختم، بجلی بند ہونے کا خطرہ
ووٹر لسٹ سافٹ ویئر کے حوالے؟
کانگریس لیڈر نے سوال کیا کہ جب یہ غلطیاں اترپردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات میں سامنے آئی ہیں، تو یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ یہ دوسرے انتخابات میں نہیں ہوئیں ؟انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا ملک کی جمہوریت اور ووٹر لسٹ کی درستگی کو سافٹ ویئر اور ای سی آئی نیٹ پر چھوڑ دیا گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ’’ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، سافٹ ویئر کی نہیں۔ ‘‘جے رام رمیش نے چیف الیکٹورل آفیسر کے اس بیان پر بھی شدید ناراضگی ظاہر کی کہ اس طرح کی غلطیاں سافٹ وئیر کی خرابی کی وجہ سے ہوئیں۔ انہوں کہاکہ الیکشن افسر کے اس بیان اور دونوں الیکشن کمشنرز کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات سےاپوزیشن کے اس بات کوتقویت ملتی ہے کہ الیکشن کمیشن کو آئین کی شقوں کے برعکس غیر آئینی طور پر چلایا جا رہا ہے۔ یہ یقینی بنانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ ووٹر لسٹ کسی بھی تضاد سے پاک ہو اور اس بات کو یقینی بنانا کہ کسی ووٹر کو اپنے حق رائے دہی کے استعمال میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
جے رام رمیش نے مزیدکہاکہ الیکشن کمیشن نے ابھی تک مشین سے پڑھنے کے قابل ڈیٹا فراہم نہیں کیا جس کا کانگریس اوراپوزیشن لیڈرراہل گاندھی نے مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ یو پی اسمبلی الیکشن میں چند ماہ باقی ہیں لیکن یہ ابھرتے ہوئے معاملات رائے دہندگان کے حقوق اور انتخابی شفافیت پر سنگین سوال اٹھاتے ہیں۔ اس کی غیر جانبدارانہ چھان بین ضروری ہے۔
پیلی بھیت میں ۱۰؍ ہزار ووٹوں کی چوری
کانگریس لیڈر نے پیلی بھیت میں فارم ۸؍ کے ذریعہ ۱۰؍ہزارسے زائد ووٹ چوری کے معاملے کا بھی حوالہ دیا۔ ووٹر لسٹ شناختی کارڈ کے اندر نام کی تبدیلی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب تک ان تبدیلیوں کا جواز فراہم کرنےوالا کوئی دستاویز فراہم نہیں کیاگیا۔ انہوں نے توجہ دلایا کہ اس میں ایک مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنایا گیا۔ واضح رہے کہ پیلی بھیت صدر اسمبلی حلقے کی ووٹر لسٹ میں اپنی نوعیت کی الگ ہی غلطی کی گئی ہے۔ اس میں ایپک نمبر وہی رکھتے ہوئے ای سی آئی نیٹ پر ووٹر کی تفصیلات یعنی نام والد کا نام وغیرہ بدل دی گئی ہیں۔
پیلی بھیت کے بعد اعظم گڑھ میں بھی گڑبڑی، جانچ کا حکم
پیلی بھیت کی ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیوں کا انکشاف اور شکایت کی جانچ ابھی پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ اعظم گڑھ ضلع میں بھی اسی طرح کی بے ضابطگی سامنے آئی ہے۔ اس کی شکایت سماجوادی پارٹی نے الیکشن کمیشن سے کی تھی۔ جانچ کے بعد اتر پردیش کے چیف الیکشن افسر نودیپ رنوا نے اعظم گڑھ ضلع کے ۵؍ بی ایل او اور ایک کمپیوٹر آپریٹر کو ہٹانے کا نوٹس جاری کیا ہے ساتھ ہی الیکٹورل رجسٹریشن افسر (ای آر او) اور دو ایڈیشنل الیکٹورل رجسٹریشن افسران (اے ای آر او) کے خلا ف محکمہ جاتی کارروائی کا حکم دیا ہے۔ وہیں پیلی بھیت معاملہ میں الیکشن کمیشن کے سخت رویہ کو دیکھتے ہوئے ضلع الیکشن افسر نے پورنپور اور امریا کے سابق ایس ڈی ایم اور ایک کمپیوٹر آپریٹر کے خلاف مقدمہ درج کرکے دونوں ایس ڈی ایم کو معطل کردیا ہے جبکہ کمپیوٹر آپریٹر کو برخاست کرنے کی کارروائی کی جارہی ہے۔