Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایک لاکھ اسکولوں میں لڑکیوں کیلئے بیت الخلا کا انتظام نہیں ہے: نیتی آیوگ

Updated: May 21, 2026, 10:45 AM IST | New Delhi

نیتی آیوگ کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے ایک لاکھ اسکولوں میں لڑکیوں کیلئے بیت الخلاء کا کوئی انتظام نہیں ہے، جبکہ ۶۱؍ ہزار اسکولوں کے بیت الخلاء ناقابل استعمال ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

نیتی آیوگ کی جانب سے ہندوستان کے اسکولی تعلیمی نظام پر جاری کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ۹۸۵۹۲؍سرکاری اسکولوں میں اب بھی لڑکیوں کے استعمال کے بیت الخلاء موجود نہیں ہیں، جبکہ ۶۱۵۴۰؍اسکولوں میں کوئی بھی قابلِ استعمال بیت الخلاء نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق، کام کرنے والے بیت الخلاء والے اسکولوں کی شرح ۲۰۱۴ءمیں۸۵؍ اعشاریہ ۱۷؍ فیصد تھی جو ۲۰۲۴ء- ۲۵ء میں بڑھ کر۹۴؍ فیصد ہوگئی۔
رپورٹ سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی شدید کمی کوظاہر  کرتی ہے اور ملک کے تعلیمی نظام میں بڑی خامیوں کو بے نقاب کرتی ہے۔ واضح رہے کہ ہندوستان میں۱۴؍ اعشاریہ ۷۱؍ لاکھ اسکول ہیں جہاں۲۴؍ اعشاریہ ۶۹؍ کروڑ سے زائد طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔بجلی کی سہولت اب بھی غیر متوازن ہے۔ یوڈی آئی ایس ای ۲۰۲۴ء-۲۵ءکے مطابق، تقریباًایک لاکھ ۱۹؍ہزار اسکولوں میں ابھی تک بجلی کا فعال  کنکشن موجود نہیں ہے، جس سے طلبہ کے لیے تعلیمی ماحول مزید مشکل ہو گیا ہے۔ جبکہ تقریباً۱۴۵۰۵؍ اسکولوں میں پانی کےموزوں  ذرائع نہیں ہیں، جبکہ تقریباً۵۹۸۲۹؍ اسکولوں میں ہاتھ دھونے کی سہولت نہیں ہے، جو طلبہ کی صحت اور صفائی کو متاثر کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نیٹ معاملے میں سی بی آئی کا ناگپور میں چھاپہ

بعد ازاں بہت سے دور دراز اور کم آبادی والے علاقوں میں، ایک ہی استاد کو متعدد جماعتوں کو پڑھانے اور انتظامی ذمہ داریاں نبھانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔یوڈی آئی ایس ای ۲۰۲۴ء-۲۵ء کے مطابق، ہندوستان میںایک لاکھ سے زیادہ اسکول صرف ایک استاد کے ساتھ چل رہے ہیں، جو کل اسکولوں کا ۷؍فیصد سے زیادہ ہے۔ اس کے نتیجے میں اکثر ایک ہی جماعت میں مختلف درجوں کے بچوں کو پڑھایا جاتا ہے، جس سے انفرادی توجہ محدود ہو جاتی ہے اور تعلیم کے معیار پر اثر پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ وسائل کی ناکافی فراہمی نظام کو مزید کمزور کر رہی ہے۔ ملک بھر میں۷۹۹۳؍ اسکولوں میں طلبہ کی صفر حاضری درج  کی گئی، سب سے زیادہ تعداد مغربی بنگال اور تلنگانہ میں ہے۔ تاہم ان اسکولوں میں طلبہ نہ ہونے کے باوجود پرانے ریکارڈ کی بناء پر مالی اور انسانی وسائل ملتے رہتے ہیں، جو زمینی حقائق اور تعلیمی منصوبہ بندی کے درمیان خلیج کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عمر خالد کوضمانت دینے سے عدالت کا انکار، عدالت نےبنیادوں کو غیر معقول قرار دیا

اگرچہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں اسکول چھوڑنے کی شرح میں بہتری آئی ہے، پھر بھی ثانوی سطح پر ۱۱؍ اعشاریہ ۵؍ فیصد طلبہ تعلیم چھوڑ دیتے ہیں۔تاہم، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں داخلہ۲۰۰۵ء میں ۷۱؍ فیصد سے گھٹ کر۲۴؍-۲۵ء میں  فیصد رہ گیا ہے، جو عوام میں سرکاری تعلیمی نظام سے بڑھتی ہوئی عدم اطمینان کی عکاسی کرتا ہے۔ساتھ ہی رپورٹ مزید بتاتی ہے کہ پچھلی دہائی کے دوران ہندوستان کے اسکولوں کا نیٹ ورک سکڑ گیا ہے۔ اسکولوں کی تعداد۲۰۰۵ء میں۱۵؍ لاکھ ۵۸؍ ہزار سے کم ہو کر ۲۰۲۴ء-۲۵ء میں۱۴؍ لاکھ ۷۱؍ ہزار رہ گئی، جو تقریباً ۹۲؍ ہزاراسکولوں کی کمی ہے۔رپورٹ کے مطابق، یہ کمی سمرگا شکشا جیسی اسکیموں کے تحت اسکولوں کے انضمام اور معقول سازی کے اقدامات کی عکاسی کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK