Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی معاشی بحران دعوتِ غور و فکر دیتا ہے

Updated: May 21, 2026, 12:58 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

’’زوہو‘‘ ایک ہندوستانی کمپنی ہے جس کی کئی ملکوں میں شاخیں ہیں۔ اسی لئے اسے ملٹی نیشنل کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ٹیکنالوجی کمپنی ہے جو کلاؤڈ بیسڈ سافٹ ویئر تیار کرتی ہے۔

Inflation.Photo:INN
مہنگائی۔ تصویر:آئی این این
’’زوہو‘‘ ایک ہندوستانی کمپنی ہے جس کی کئی ملکوں میں شاخیں ہیں۔ اسی لئے اسے ملٹی نیشنل کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ٹیکنالوجی کمپنی ہے جو کلاؤڈ بیسڈ سافٹ ویئر تیار کرتی ہے۔ اسی اعتبار سے ’’زوہو‘‘  کے بانی سری دھر ویمبو عالمی شہرت یافتہ ہیں۔ ایسا کوئی بھی شخص جب اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے تو اس کا مقصد محض اظہار ِخیال نہیں ہوتا، بلکہ متنبہ کرنا بھی ہوتا ہے، سمجھانا بھی ہوتا ہے، بیدار کرنا بھی ہوتا ہے اور غوروفکر کی دعوت دینا بھی ہوتا ہے۔ سری دھر نے دو بہت اہم باتیں کہی ہیں۔ ایک وہ ہے جس کے خلاف بہت سوں نے متنبہ کیا ہے کہ دُنیا بہت سخت معاشی حالات کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ حالات دوسری جنگ عظیم کے بعد کے حالات جیسے ہوسکتے ہیں جو بتدریج پیدا ہورہے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے ۲۰۰۸ء کی کساد بازاری کی جانب بھی اشارہ کیا ہے۔اُن کا کہنا ہے کہ ہم اچانک یا حالیہ جنگوں کی وجہ سے معاشی بحران کے قریب نہیں پہنچ گئے بلکہ یہ عمل تسلسل کے ساتھ جاری تھا جس سے چشم پوشی کی جارہی تھی اور انقلابی تبدیلیوں مثلاً آئی فون کا اجراء وغیرہ کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ایک بات جو انہوں نے نہیں کہی مگر ہمارے خیال میں اہم ہے، وہ ہے معاشی پیش رفتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا عمل جس کیلئے تشہیر کا سہارا لیا جاتا ہے، مصنوعی مانگ پیدا کی جاتی ہے اور بڑی کمپنیوں کے فائدہ کی فکر کی جاتی ہے جبکہ مختلف ملکوں کی معیشت یا عالمی معیشت محض بڑی کمپنیوں سے نہیں بنتی اس میں چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں حتیٰ کہ گھریلو صنعتوں کا بھی بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ دُنیا نت نئی ایجادات کے پیچھے دیوانہ وار دوڑنے لگی جس کا نتیجہ ہے کہ جو دیسی ہے، گھریلو ہے، فائدہ مند ہے، سہارا دینے والا ہے اور مشکل وقت میں کام آنے والا ہے، وہ سب دھرا کا دھرا رہ جاتا ہے۔ جب بجلی گل ہوتی ہے تب لالٹین کی یاد آتی ہے۔ اگر لالٹین گھر میں نہ ہو تو کیا ہوگا؟ ظاہر ہے کہ اندھیرے ہی میں رہنا ہوگا۔ یہی حال اس نئی دُنیا کا ہے۔ ہمارے خیال میں معیشت کو، خواہ وہ کسی ملک کی ہو، جب تک زمین سے جوڑ کر نہیں رکھا جائیگا تب تک یا تو آئے دن جھٹکے محسوس ہوتے رہیں گے یا پھر کسی دن زلزلہ آئیگا جیسا کہ  اِن دنوں ماہرین معاشیات معاشی زلزلہ کے خلاف متنبہ کررہے ہیں۔ اس سے سبق لیتے ہوئے حکومتوں کو عقل کے ناخن لینا چاہئے اور معیشت کے ہر ’’جزو‘‘ کو ’’کل‘‘ کیلئے ضروری سمجھنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔
 
 
سری دھر ویمبو نے دوسری بات جو کہی وہ ایسی ہے کہ کوئی اور نہیں کہہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مصنوعی ذہانت کو عالمی معاشی عدم توازن جیسے مسئلہ کا جادوئی حل سمجھنے کی غلطی نہیں کرنا چاہئے کیونکہ صرف اے آئی کے ذریعہ جڑوں کی طرح اندر تک دھنسے ہوئے معاشی مسائل حل نہیں کئے جاسکتے۔‘‘اس بات سے ہمیں اتفاق اس لئے ہے کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اے آئی سے پیداواریت میں اضافہ ہوگا اور ہر سطح کی معاشی سرگرمی تیز تر ہوگی جو مجموعی معاشی صورت حال کو بہتر بنا دے گی تو غلط نہیں سمجھتا مگر ایسا سمجھنا بہت صحیح بھی نہیں ہے کیونکہ اس سے بے روزگاری بھی تو بڑھے گی، اے آئی سے فائدہ اُٹھانے سے پہلے اس کی قیمت بھی تو ادا کرنی ہوگی، بڑی ٹیک کمپنیوں کا غلبہ بھی تو ہوگا جو کثیر سرمایہ لگا رہی ہیں تو کثیر منافع بھی وہی کمائیں گی، باقی ماندہ کمپنیاں کہاں جائینگی اور اس کے سبب انسانی ہنرکا بھی تو نقصان ہوگا۔ انہی بنیادوں پر ہم سمجھتے ہیں کہ اے آئی کا غلغلہ زیادہ دنوں کا نہیں ہے۔ سری دھر ویمبو کی باتوں پر ٹھنڈے دل سے غو ر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معاشی بحران کے حقیقی اسباب کا پتہ لگایا جائے اور حل تلاش کیا جائے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK