Inquilab Logo Happiest Places to Work

اجمیرکی ۸۰۰؍ سال قدیم مسجد میں پوجا پاٹھ کی اجازت طلب

Updated: May 21, 2026, 12:20 PM IST | Agency | Ajmer

’مہارانا پرتاپ سینا‘ کی شرانگیزی،’ڈھائی دن کی جھوپڑا مسجد ‘ پر دعویٰ، مقامی انتظامیہ کو باقاعدہ درخواست دی۔

Masjid.Photo:INN
مسجد۔ تصویر:آئی این این
راجستھان کے تاریخی شہر اجمیر میں ’مہارانا پرتاپ سینا‘  کے اس مطالبہ کے بعد کشیدگی بڑھ گئی ہےکہ اسے ۱۲؍ ویں صدی کی تاریخی ’’ڈھائی دن کا جھونپڑا مسجد‘‘میں ہنومان چالیسا پڑھنے اور ہندو عقیدہ کے مطابق پوجا پاٹھ کی اجازت دی جائے۔  آثارِ قدیمہ کےتحت ’’محفوظ عمارتوں‘‘ میں شامل  اس  مسجد کے بارے میں مذکورہ بھگوا تنظیم کا دعویٰ  ہے کہ پہلے یہ مندر اور سنسکرت اسکول تھی جسے بعد میں مسجد میں تبدیل کیا گیا۔
 
 
۱۱۹۹ء عیسوی میںقطب الدین ایبک  نے، جو محمد غوری کے  ترک جرنیل تھے، نے یہ مسجد تعمیر کرائی تھی۔’ ڈھائی دن کا جھونپڑا‘ شمالی ہندوستان کی قدیم ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ بعد میں التمش نے   اس مسجد میں توسیع کی تھی ۔ یہ عمارت اپنی ہندوستانی-اسلامی طرز ِ تعمیر، بلند محرابوں، نفیس پتھریلی جالیوں اور سرخ پتھر پر کندہ قرآنی آیات کیلئے جانی جاتی ہے۔  ہندوتوا تنظیم کی جانب سے اس میں پوجا پاٹھ کی اجازت کیلئے دی گئی درخواست میں اس تاریخی عمارت کو مختلف انداز میں پیش کیاگیا ہے۔ تنظیم کے اراکین کا کہنا ہے کہ عمارت میں موجود نقوش اور تعمیراتی علامات اس کے ہندو پس منظر کی نشاندہی کرتے ہیں۔ایسے وقت میں جبکہ مدھیہ پردیش میں ہائی کورٹ نے تاریخی کمال مولیٰ مسجد کو تمام شواہد کی موجودگی کے باوجود ’’سرسوتی کا مندر ‘‘قراردیکر ہندوؤں کو دے دیا ہے، اجمیر کے مسلمانوں میں کشیدگی اور فکرمندی پھیل گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK