’مہارانا پرتاپ سینا‘ کی شرانگیزی،’ڈھائی دن کی جھوپڑا مسجد ‘ پر دعویٰ، مقامی انتظامیہ کو باقاعدہ درخواست دی۔
راجستھان کے تاریخی شہر اجمیر میں ’مہارانا پرتاپ سینا‘ کے اس مطالبہ کے بعد کشیدگی بڑھ گئی ہےکہ اسے ۱۲؍ ویں صدی کی تاریخی ’’ڈھائی دن کا جھونپڑا مسجد‘‘میں ہنومان چالیسا پڑھنے اور ہندو عقیدہ کے مطابق پوجا پاٹھ کی اجازت دی جائے۔ آثارِ قدیمہ کےتحت ’’محفوظ عمارتوں‘‘ میں شامل اس مسجد کے بارے میں مذکورہ بھگوا تنظیم کا دعویٰ ہے کہ پہلے یہ مندر اور سنسکرت اسکول تھی جسے بعد میں مسجد میں تبدیل کیا گیا۔
۱۱۹۹ء عیسوی میںقطب الدین ایبک نے، جو محمد غوری کے ترک جرنیل تھے، نے یہ مسجد تعمیر کرائی تھی۔’ ڈھائی دن کا جھونپڑا‘ شمالی ہندوستان کی قدیم ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ بعد میں التمش نے اس مسجد میں توسیع کی تھی ۔ یہ عمارت اپنی ہندوستانی-اسلامی طرز ِ تعمیر، بلند محرابوں، نفیس پتھریلی جالیوں اور سرخ پتھر پر کندہ قرآنی آیات کیلئے جانی جاتی ہے۔ ہندوتوا تنظیم کی جانب سے اس میں پوجا پاٹھ کی اجازت کیلئے دی گئی درخواست میں اس تاریخی عمارت کو مختلف انداز میں پیش کیاگیا ہے۔ تنظیم کے اراکین کا کہنا ہے کہ عمارت میں موجود نقوش اور تعمیراتی علامات اس کے ہندو پس منظر کی نشاندہی کرتے ہیں۔ایسے وقت میں جبکہ مدھیہ پردیش میں ہائی کورٹ نے تاریخی کمال مولیٰ مسجد کو تمام شواہد کی موجودگی کے باوجود ’’سرسوتی کا مندر ‘‘قراردیکر ہندوؤں کو دے دیا ہے، اجمیر کے مسلمانوں میں کشیدگی اور فکرمندی پھیل گئی ہے۔